امریکی صدارتی انتخاب ابھی تک بے یقینی کا شکار، جو بائیڈن کی پوزیشن مضبوط ہے

  • جمعرات 05 / نومبر / 2020
  • 5360

امریکی صدارتی انتخابات  کے لیے منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد نتائج  ابھی تک مکمل نہیں ہوسکے ہیں۔ اسی لئے یہ فیصلہ بھی نہیں ہؤا کہ جو بائیڈن یا ڈونلڈ ٹرمپ میں سے کون امریکہ کا آئیندہ صدر ہوگا۔

 اب تک 44 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور مزید چھ ریاستوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ ان نتائج سے ہی کامیاب امیدوار کا تعین ہوگا۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن 253 اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ 213 الیکٹورل ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔

امریکہ کے انتخابات میں تقریباً 10 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں نے پوسٹ یا قبل از وقت ووٹ دینے کی سہولت کا فائدہ اٹھایا تھا۔ امریکہ میں صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کے ووٹوں کے ذریعے نہیں ہوتا۔ عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے 538 الیکٹرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ امریکہ کے صدر کا انتخاب ان الیکٹرز کے ووٹ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ امریکہ میں صدر کے منتخب ہونے کے لیے کم از کم 270 الیکٹرز درکار ہوتے ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی پر تحفظات کا اظہار کرنے والے صدر ٹرمپ کی جماعت نے تین ریاستوں پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں گنتی رکوانے کے لیے عدالت سے رُجوع کر لیا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کا کہنا ہے کہ پینسلوینیا اور نیواڈا میں ری پبلکن جماعت کے نمائندوں کو ان مقامات کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے جہاں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

اس کے علاوہ ریاست مشی گن میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کے دوران غیر جانب دار مبصرین موجود نہیں تھے۔

امریکی صدارتی انتخاب پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی مبصرین کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ ’قانونی اعتبار سے غیر یقینی صورتحال اور عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کی بے مثال کوششوں نے اس الیکشن کو داغدار کردیا ہے۔‘ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود حکام نے ووٹنگ کے نظام کو اچھے طریقے سے برقرار رکھا۔ لیکن انتخابی مہم میں لوگوں کو سیاسی طور پر منقسم کیا گیا، ممکنہ منظم دھاندلی کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے جبکہ پالیسی پر بحث پوشیدہ رہی۔

ابتدائی معلومات کی بنا پر او ایس سی ای نے کہا ہے کہ موجودہ صدر کی جانب سے نظام میں خامیوں سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے جن میں الیکشن کی رات کو ان کا خطاب بھی شامل ہے۔ اس سے جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔ رپبلکن پارٹی کے بعض رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ دھاندلی روکنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس سے لوگوں کی حق تلفی ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کی رات کو کہا تھا کہ یہ ووٹ ’امریکیوں کے ساتھ ایک فراڈ ہے۔‘ ٹرمپ کی انتخابی مہم چاہتی ہے کہ پنسلوینیا، وسکونسن، جورجیا اور مشیگن میں ووٹوں کی گنتی روک دی جائے۔ انہوں نے بغیر شواہد دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔