نواز شریف لندن میں بیٹھ کر فوج کو بغاوت پر اکسا رہا ہے: وزیراعظم
- جمعہ 06 / نومبر / 2020
- 5820
وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر فوج کو آرمی چیف کے خلاف بغاوت پر اکسا رہا ہے۔
سوات میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سارے پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں۔ ان میں ایک ڈاکو لندن جا کر بیٹھ جاتا ہے۔ بیماری کی ایکٹنگ کرتا ہے جس سے ہمیں ترس آ جاتا ہے۔ وہ باہر چلا گیا لیکن پہلے اس نے کوشش کی تھی کہ کسی طرح این آر او مل جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے این آر او کی پوری کوشش کی لیکن وہ یہ جانتا ہے کہ عمران خان انہیں این آر او نہیں دے گا۔ جب اس کو یہ علم ہو گیا کہ جس طرح بلیک میل کرنا ہے کرلیں عمران خان این آر او نہیں دے گا تو اس نے باہر بیٹھ کر گیم کھلنا شروع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اس نے پاکستانی فوج اور عدلیہ پر حملہ کرنے کا جو کھیل کھیلنا شروع کیا ہے اور فوج کو کہہ رہا ہے کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو بدلو یعنی فوج کو کہہ رہا ہے کہ بغاوت کرو۔ اپنا پیسہ بچانے کے لیے لندن میں بیٹھ کر فوج کو کہہ رہا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرو۔ اس سے بڑا ملک کا دشمن کون ہو سکتا ہے اور اس کی بیٹی بھی یہی باتیں کررہی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ مریم نواز اُس فوج کے خلاف یہ زبان استعمال کررہی ہے جو ہر روز اس ملک کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ پڑوسی ملک کا وزیر اعظم اور سیکیورٹی ایڈوائزر پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور اس وقت یہ فوج کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں۔ کوئی اور ملک ہوتا تو ایسی زبان استعمال کرنے والوں کو جیل میں ڈالتے لیکن یہاں ہم عورتوں کا احترام کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف گیدڑوں کی طرح باہر بیٹھ کر بول رہا ہے، بیٹے بھی پیسہ چوری کر کے باہر بھاگے ہوئے ہیں۔ میں اپنی قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک ایسا فیصلہ کن وقت ہے اور 30 سال سے حکمرانی کرکے ملک کو لوٹنے والی دونوں جماعتوں کے سربراہان اب مجھ سے این آر او مانگ رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ جس دن میں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے ان ڈاکوؤں کو این آر او دیا، اس دن اپنے ملک سے سب سے بڑی غداری کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف نے نواز شریف اور زرداری کو این آر او دے کر اس ملک سے سب سے بڑا ظلم کیا کیونکہ اس کے بعد ان دونوں نے پاکستان کا قرض 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک ترقی تب کرے گا جب اس میں قانون کی بالادستی ہو گی اور پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے گا۔ وزیراعظم ایک قوم کے باپ کی طرح ہوتا ہے اور باپ اپنے بچوں کی تربیت کرتا ہے اور میں آج آپ سب کو ایک چیز بتانا چاہتا ہوں کہ ایک راستہ آپ کی عظمت کا راستہ ہے جس کو اللہ نے نعمتیں بخشیں اور دوسرا آپ کی تباہی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر ملک استوار کررہے ہیں۔ سب سے پہلا اصول انسانیت کا ہے.