ہمارا ہیرو کون ہو؟
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 07 / نومبر / 2020
- 10660
ہمارا ہیرو کون ہو، یہ سوال ہر قوم کے لیے بہت اہم ہے ۔ چونکہ قومیں اپنے ہیرو سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں یہ سوال اور بھی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔
کیا تیونس سے فرانس میں سیاسی پناہ لینے کے لیے آنے والا21 سالہ وہ شخص ایک ناخوشگوار جرم کے بعد ہمارا ہیرو بننے کا مستحق ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر ہمیں ان معاملات پر اس طرح کے تاثر کو ابھرنے سے روکنا ہوگا۔ ہم پاکستان سمیت دنیا بھر کے ملکوں سے ہجرت کرکے یورپ آئے۔ اور اپنی محنت اور یہیں کے اداروں کی معاونت سے یہاں سکونت اختیار کی۔ اس معاشرے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں مختلف عہدوں پر فائز ہوئے اور اس معاشرے کے ذمہ دار اور قابل قدر شہری کی حیثیت سے پھیل گئے۔ ہم میں سے بہت سارے لوگوں کے خاندان کے افراد ایک سے زائد نسلوں سے یورپ کے دور دراز ملکوں میں آباد ہیں اور سکون اور عزت سے رہ رہے ہیں اور اپنے کاروبار چلارہے ہیں۔
اپنے اپنے مذہب اور ثقافتی اقدار اور یورپی معاشرے میں رائج طرز معاشرت سے قدم ملاکر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں ہماراکون سا ایسا تہوار یا رسم و رواج ہے جو ہم یہاں نہ منا سکتے ہوں۔ مذہبی رواداری کے اصول پر چلتے ہوئے ہماری زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے۔ فرانس میں ہونے والے ایک واقعے سے ہماری کئی نسلوں کی کوششوں سے بنائی زندگی، کاروبار یا روزگار کو یکدم تلپٹ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ یورپی اکثریتی آبادی ہم غیرملکیوں کے ساتھ رواداری اور برداشت کے اصول پر کاربند ہے۔ اور ہمارے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے پر راضی ہے۔ ہر معاشرے میں ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں اور یورپ میں بھی کچھ فیصد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اپنے اپنے ملکوں میں غیر ملکی افراد کی بڑھتی تعداد اور ان کی ترقی پر ناخوش رہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی حکومتیں باہر سے آئے لوگوں کی امداد پر رقم خرچ کرکے انہیں ان کی زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے میں مدد کریں۔
ایسے ہی لوگ گاہے بگاہے ایسے شوشے چھوڑتے ہیں جن سے اس ملک کے نئے باشندوں کی دل آزاری ہو۔ یہاں مقیم غیر ملکیوں کے مسائل کو کوئی نئی صورت دے کر اداروں کو حساس بنایا جائے۔ لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم ان صرف چند فیصد، آٹے میں نمک کے برابر افراد کی سازشوں کا شکار نہ ہوں۔ ہمیں دیکھ اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے قدم اسی سمت اٹھ رہے ہوں جس سمت ہمیں یہ چند فیصد سرپھرے دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ مذہب کا تعلق انسان کے شعور اور جذباتی لگاؤ سے ہوتا ہے۔ یورپی باشندے البتہ خاندان، رسم ورواج ہی کی طرح مذہبی معاملات میں سردمہری کا رویہ رکھتے ہیں۔ شمالی اور وسطی یورپ کی خاصی تعداد مذہب سے برگشتہ رہتی ہے۔ اسی طرح ان کے قوانین بھی انہیں اس بات پر اکساتے کہ وہ مذہب سے تعلق استوار کریں۔ ایسے میں چند فیصد لوگ نہ صرف مذہب بیزار ہیں بلکہ وہ مذہب کا تمسخر اڑانے کو بھی اپنا جائز حق مانتے ہیں۔ ایسے طرزعمل کو آزادی اظہار رائے کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔
آپ سب جانتے ہیں کی مذہبی آزادی، جنسی آزادی اور آزاد طرز معاشرت، سب کچھ اس معاشرے کے بنیادی جمہوری اقدار کا حصہ ہے۔ گو کہ اس طرح کا رویہ جو لوگوں کی دل آزاری کا باعث ہو، آزادی اظہار رائے نہیں کہلا سکتا۔ چونکہ یہاں ایسے قوانین رائج ہیں تو یہاں کی اکثریت بھی ایسے رویوں کو خاموشی سے برداشت کرتی ہے۔ مذہبی امور یا خاندانی قربت کے طرز معاشرت سے یورپ کا اپنے ماضی کے تجربوں کی روشنی میں ایک خاص نقطہ نظر ہے اور یہاں رائج قوانین انہی تجربات کی روشنی میں پروان چڑھے ہیں۔ یورپ میں زندگی گزارنے کے بنیادی اصولوں میں سب سے اہم اصول یہاں کے رائج قانون پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔ ہم قانون کی پاسداری کی افادیت سے بھی آگاہ ہیں ۔ دل سے اس کی قدر بھی کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم جن ممالک سے آئے ہیں وہاں قوانین کی پرواہ نہ کرنے کے کیا نقصانات وہاں کے عوام جھیل رہے ہیں۔ ایک جمہوری اور قانون پر عمل پیرا معاشرے میں اپنا حق حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کے اصول اور طریقے متعین ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ عوام کی اقلیت کو اکثریت کے بنائے اصول اور قانون پر بلاچوں چراں عمل کرنا ضروری ہے۔ اور قواعد و ضوابط یا رویوں میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ بلکہ جبراً ان قوانین پر چلتے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ یہاں رائج قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ان کو تبدیل یا ان میں نرمی یا ان سے اصولی اختلاف رکھنے کی نہ صرف کافی گنجائش موجود ہے۔ بلکہ ان پر نظر ثانی کروانے اور انہیں تبدیل کروانے کے مروجہ اصول اور ضابطے موجود ہیں۔
اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ جرمنی میں یہودی قوم کے ساتھ ماضی میں کافی ظلم و جبر کارویہ اپنایا گیا تھا اس وجہ سے یہاں کے قوانین اب انہیں خاصا تحفظ فراہم کر تے ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کے شرارت پسند، جمہوریت اور قانون سے خود کو مبرا سمجھنے والے ایک دوفیصد افراد کبھی کبھی اپنے رویوں کا اظہار کر ڈالتے ہیں۔ جو کہ خفیہ طریقے سے ہوتا ہے، قانون کو توڑنے کا موجب ہوتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو یہودی قبرستان کی توہین کردی۔ مگر ایسی صورت میں یہاں مقیم یہودی کمیونٹی کے افراد قوانین کی پامالی کرتے ہوئے فوری ردعمل کی بجائے قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے شدید احتجاج کرتے ہیں۔ یہاں کے قانون ساز اور قانون کے نفاذ کے اداروں کی توجہ ان مسائل کی طرف مبذول کراتے ہیں اور اپنے لیے تحفظ اور قانون میں ردبدل کی راہ کو ہموار کرنے کا طریقہ ڈھونڈتے ہیں۔ قانون کو اپنے موافق میں ڈھالنے کی کوشش یا رائج قوانین و رویوں میں تبدیلی کی خواہش کے اظہار کا سب سے مناسب اور بہترین طریقہ یہاں کے معاشرے میں ضم ہوکر، اپنا مقام بناکر اور یہاں کے رائج جمہوری طریقے اپنا کر ہی کیا جانا ضروری ہے۔ تاکہ ان کی افادیت سے فیضیاب ہؤا جائے۔
ہمیں اپنے بچوں کو پھر سے یہ تعلیم دینا ہوگی کہ قانون کی بالادستی کو دل وجاں سے نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ضرورت پڑنے پر قانون کے فراہم کردہ تمام تحفظات کو اس کی آخری شق تک اپنے مؤقف کی حمایت میں استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اسکول میں استاد یا کالج میں کوئی لکچرر یا دفتر میں باس ایسی کوئی بات یا حرکت کرے جو کسی طرح، مذہبی، معاشرتی یا کسی خاص قوم کے خلاف تصور کی جاسکتی ہو، کسی بھی قسم کی نسلی یا مذہبی امتیازی سلوک کی غمازی کرتی ہو یا کسی بھی پہلو سے عقیدے کے خلاف جاتی ہو تو ایسی بات پر احتجاج کریں۔ مگر احتجاج کا وہی طریقہ اپنائیں جو دوسری اقوام کا شیوہ ہے۔ اس کے لیے تحریری احتجاج سب سے پہلا زینہ ہونا چاہیے۔ زبانی احتجاج بھی موقع اور وقت کے مطابق درست ہوتا ہے۔
مگر قانون کو ہاتھ میں لینا، تشدد کا استعمال کرنا یا ایسے افراد کے ساتھ ایسے کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا جو تشدد کو پہلا اور آخری حل سمجھتا ہو بالکل غلط ہے۔ اس سے کوئی کامیابی حاصل کرنا تو دور کی بات ہے، آپ اپنے موقف سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جو مقصد ہوتا ہے اس کے بالکل برخلاف انسان اپنے ہی عقیدے اور اپنی ہی قوم کی بدنامی اور مشکلات کا باعث بن جاتا ہے۔ ہمارے بچوں کو جاننا چاہئے کہ بہ حیثیت ایک ذمہ دار اور مہذب شہری، آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہ رہے ہوں۔ آپ پر لازم ہے کہ مروجہ قانون کے اندر رہتے ہوئے احتجاج اور تحریک کا حصہ بنیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو اپنے حقیقی ہیرو کی بابت بھی بتا نا ہوگا کہ ہمارے اصلی ہیرو کون ہیں۔ ہمیں ایک ایسی نسل تیار کرنی ہے جن میں واقعی سوجھ بوجھ اور علمی قابلیت کے حامل ایسے حقیقی لیڈر سامنے آئیں جو ملک و ملت کی رہنمائی کرنے کے اہل ہوں۔ اور ہمارے ہیرو کہلانے کے مستحق ہوں۔