امریکی صدارتی الیکشن: جوابات کی تلاش

  • تحریر
  • ہفتہ 07 / نومبر / 2020
  • 3530

وہائٹ ہاؤس امریکہ  کا نیا مکین کون ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں امریکہ سمیت  پوری دنیا منتظر ہے۔  اس سوال کا جواب   آج نہیں تو کل  سامنے آ جائے گا۔ سیاسی تقسیم اور صدر ٹرمپ  کے ووٹوں کی گنتی پر تحفظات اور الزامات  نے قانونی جنگ کا سامان بھی کر رکھا ہے۔

 امریکہ میں الیکشن قوانین  بہت واضح اور ریاستی کنٹرول میں الیکشن ادارے  بہت مضبوط ہیں جس کی بنا پر ووٹوں کی گنتی کا عمل احتیاط سے اپنے انجام تک  پہنچنے کو ہے۔ قانونی جنگ اگر ہوئی تو  بھی فیصلہ چند ہفتوں میں ہو جائے گا۔ دونوں صورتوں میں وائٹ ہاؤس کے   اگلے مکین کا فیصلہ چند گھنٹوں یا چند دنوں کی بات ہے۔وائٹ ہاؤس کا نیا مکین کون ہوگا؟  اس سوال کا جواب تو مل جائے گا مگر اس سارے عمل میں جمہوریت پر  بطور نظام  اٹھنے والے سوالات کے  جوابات   ابھی تک  واضح نہیں   ہو سکے ۔

 سرمایہ دارانہ نظام میں  جمہوریت   اس کی شناخت اور کارِ حکومت میں جمہوری اداروں کی مرکزیت کا سرچشمہ ہے۔ بادشاہی نظام  سے جمہوریت کے موجودہ نظم تک پہنچنے میں کئی صدیاں اور  لاتعداد مزاحمت  کام آئی۔ اقتدار میں عوام کی شمولیت  کے  سادہ سے فلسفے کے یہاں تک پہنچنے میں   سختیوں کے ساتھ ساتھ خون کے نذرانے بھی دینے پڑے۔  آج شاید عجیب لگے لیکن ایک صدی قبل تک یورپ میں خواتین کو  ووٹ دینے کا  حق بھی بمشکل ملا۔ امریکہ میں غلامی کی بیڑیاں قانونی طور کہیں جا کر پچاس کی دہائی میں ٹوٹیں۔ الغرض جمہوریت  کا ثمر  آسانی سے حاصل نہیں ہوا۔

 مگر اب اسی شاندار نظام سے اس کے اپنے لوگوں کی ایک بڑی تعداد  امریکہ اور یورپ  میں شاکی ہے۔ کیوں؟  گزشتہ چار دِہائیوں کے دوران  دھیرے دھیرے سیاست  میں سرمائے کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے۔  سیاسی جماعتوں کے عمل میں شاذ ہی نچلے طبقات سے کسی کو آنے کا موقع ملا۔ متوسط طبقات  کو البتہ  گاہے گاہے قدرے بہتر مواقع ملے مگر تعداد میں یہ مثالیں بہت کم ہیں۔ لے دے کر اقتدار کے حالی  موالی ایک مخصوص اشرافیہ ہی سے تھے اور ہیں۔ چہرے بدلنے کا  التزام باقاعدگی سے ہوتا  آیا  مگر  اقتدار کا ہما اشرافیہ ہی میں  سے کسی  خوش نصیب کے سر بیٹھنے کا مکلف رہا۔ امریکہ ہی کی  مثال لے لیں کینیڈی سے لے کر ٹرمپ تک  کوئی بھی فاقے کاٹنے اور نچلے طبقات کی بیڑیاں توڑ کر  تو نہیں آیا۔  صدارتی امیدوار کی دوڑ میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہی یہ ہے کہ کون  اپنی مہم کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز اکٹھے کرسکتا ہے۔

جمہوریت  میں  سرمائے کا عمل دخل اور اشرافیہ کی آہنی گرفت بیشتر سرمایہ دار ممالک میں بدستور مضبوط ہے۔ فرانس جہاں  کی روشن خیالی جمہوریت  کے لئے  راہبر رہی،  وہاں بھی سیاست میں اشرافیہ اور اس کی کرپشن کی داستانیں عام ہونے کے باوجود متوسط یا نچلے طبقے  سے کوئی اس   خصوصی  کلب میں شاذ ہی آیا۔ برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی  کی قیادت پر بھی اشرافیہ کی ہی گرفت رہی ہے۔ سو  عوام  کے ووٹوں کے خمیر سے اٹھنے والے اس نظام  پر اشرافیہ کی بدستور گرفت رہی ہے۔نئے ورلڈ آرڈر میں تجارت اور  سرمایہ کاری  کی مرکزیت  کے سبب  عالمی اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیز کا  کردار بہت بڑھ  گیا ہے۔ عملا ٌ  حکومتی پالیسی سازی میں ان کمپنیوں کی براہ راست یا بالواسطہ  گرفت اس قدر مضبوط ہے کہ اب جمہوریت کی نکیل ان  کمپنیز، ان کے لابی نمائندگان اور ان کے مفادات کے ہاتھ میں ہے۔

 پچھلے چالیس سالوں میں امریکہ میں دولت کے انبار لگے، وال اسٹریٹ پر کمپنیوں کی مالیت اور دولت میں اربوں کھربوں ڈالرز کا اضافہ ہوا مگر یہ کیا کہ عام لیبر  کے معاوضے میں ان چالیس سالوں میں  حقیقی  اضافہ نہیں ہوا۔ ایک طرف ارب پتیوں  کی فہرست اور دولت کے انبار میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف امریکہ کی آبادی  کا  تقریباٌ 12%  خطِ غربت کا شکار ہے۔

امریکہ میں ہیلتھ کئیر دنیا سے منفرد اور عجیب ہے۔ یہ نظام مکمل طور پر انشورنس  اور فارما سیوٹیکل کمپنیز کے کنٹرول میں ہے۔  واشنگٹن میں  ان کمپنیز کی لابی اس قدر مضبوط ہے کہ ان کی منشا کے  بغیر کوئی قانون بن نہیں سکتا۔ سابق صدر باراک اوبامہ نے  ایک ہمہ گیر ہیلتھ کئیر  بل پاس کیا جس کی مخالفت اب تک جاری ہے۔  کمپنیز کی  پالیسی سازی پر مکمل گرفت سے عوام میں بے چینی بڑھی۔ نسلی امتیاز اور معاشی ناہمواری نے  بلیک لائف میٹر اور ’ہم ننانوے فیصد ہیں‘  جیسی تحریکوں کو جنم دیا۔ امریکہ میں سالانہ  فائرنگ کے کئی واقعات اور اموات کے باوجود گن لابی اس قدر مضبوط ہے کہ گن کلچر کے کنٹرول پر قانون سازی کی نوبت نہیں آتی۔ اسی طرح امیگریشن  اور روزگار سمیت بہت سے معاملات میں سیاست اشرافیہ اور سرمائے کی فرمان برداری سے سر نہیں اٹھا سکی۔

میڈیا بھی سرمائے کا کھیل اور ان کا پروردہ ہے۔  عوام کی  ذہن سازی اور سیاسی موضوعات کی گردش میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ اس سارے کھیل میں نام عوام کا ہے مگر گرفت اشرافیہ اور سرمائے کی  رہتی ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی بے چینی اور ردِ عمل کہیں نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کی صورت میں سامنے  آتا ہے اور کہیں  دائیں بازو کی  شناخت پر مبنی سیاست   کی صورت میں۔ کہیں سازشی تھیوریاں  گُل کھلا رہی  ہیں  اورکہیں  وطنیت کے پرانے بت جھاڑ پھونک کر سامنے لا رہے ہیں، کہیں  انتہا پسندوں سے خوف کو بڑھاوا دے  کر موضوعات اور بحث کے رخ بدلنے پر زور ہے۔مگر جمہوریت پر اٹھنے والے  بنیادی  سوال بدستور برقرار اور جواب طلب ہیں۔

 جمہوریت  کارِ حکومت  میں عوامی شمولیت  کا نام ہے تو ارب پتیوں کی فہرست میں اضافہ  کے ساتھ چالیس سال سے لیبر کے معاوضوں میں اضافہ  کیوں نہیں ہو سکا؟ سیاسی جماعتوں اور الیکشن پر سرمائے کے تسلط  نے عوامی فلاح کی  پالیسیوں کا داخلہ ایوانوں میں بند اور لابنگ فرمز کے لئے صدر دروازے  کیوں کھول رکھے ہیں؟  جمہوریت کے باوجود عوام میں بے چینی اور بے سکونی کیوں بڑھ رہی ہے؟  وائٹ ہاؤس کا  اگلا مکین کون ہو گا؟ اس سوال کا جواب تو آج یا کل مل جائے گا مگر باقی سوالوں کے جوابات کب مل سکیں گے؟ 

میڈیا کی چکا چوند میں یہ سوالات کسی اگلے نیوز سائیکل میں پھر سے چندھیا جائیں گے مگر  سوالات  اپنے جوابات کے منتظر ہیں۔کسی اگلے الیکشن یا احتجاج تک۔۔۔