امریکی جمہوری نظام کی طاقت؟

اس سال جون میں درویش کا کالم چھپا تھا کہ ’’کورونا اور ٹرمپ سے دنیا کی جان کب چھوٹے گی؟‘‘ کورونا جیسی مہلک وبا کا تو ابھی معلوم نہیں لیکن ٹرمپ جیسے غیر ذمہ دار اور مسخرے صدر سے امید ہے کہ دنیا کی جان چھوٹنے والی ہے۔

 ان کی جگہ 78 سالہ سابق نائب صدر جوبائیڈن عالمی سپر پاور کے صدر منتخب ہونے والے ہیں، بشرطیکہ صرف امریکی ریاست نیواڈا میں ان کی لیڈ (برتری) قائم رہے دیگر چار ریاستوں جارجیا، نارتھ کیرولینا، پنسلوینیا اور الاسکا میں اگر صدر ٹرمپ جیت بھی جاتے ہیں پھر بھی جوبائیڈن کی فتح کو وہ روک نہیں سکیں گے۔ کیونکہ اب تک کے انتخابی نتائج کے مطابق جوبائیڈن 264 الیکٹورل ووٹ حاصل کر چکے ہیں جبکہ انہیں جیت کے لئے جو 6 ووٹ درکار ہیں وہ نیواڈا میں موجود ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ امریکاکے دشمن بھی امریکا کو دنیا کی عظیم ترین جمہوریت تسلیم کرتے ہیں، جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے کی آزادی سے جہاں ٹکراؤ کی صورت دکھائی دیتی ہے وہیں سیاسی و سماجی گھٹن اور جبر و استبداد کا خاتمہ بھی ہوتا ہے۔ 4 جولائی 1776 سے 3 نومبر 2020 کی ایک تابناک تاریخ ہے جس پر امریکی قوم بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ امریکی دستور سازوں اور جمہوریت کے اولوالعزم معماروں نے اپنی قوم کے لئے کیسی شاندار بنیادیں استوار کی ہیں۔ پرامن انتقال اقتدار کی کیسی درخشاں روایات قائم کر دی ہیں کہ آج ان کا آئینی و جمہوری سسٹم پوری دنیاکیلئے لائٹ ہاؤس یا روشنی کا مینار ہے۔

جارج واشنگٹن کی پاپولیریٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اصرار کیا جاتا ہے کہ آپ اپنی صدارتی حکمرانی کا تسلسل جاری و ساری رکھیں۔ لیکن وہ مدبر امریکی بابائے قوم کس قدر سچائی و سادگی سے کہتا ہے کہ میرے علاوہ بھی امریکا میں بہت سے قابل اور باصلاحیت انسان موجود ہیں۔ میں اپنی قوم پر مسلط کیوں رہوں، دیگر اہل شہریوں کو یہ موقع کیوں نہ ملے کہ وہ اپنی قوم کی خدمت کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ جبکہ دیگر اقوام کے اقتدار کے حریص ایسے بابے بھی تھے جو کہتے تھے ملک یا قوم چاہے جائے بھاڑ میں ہمیں تو سب سے بڑا عہدہ ملنا چاہیے اور پھر تادم مرگ ہمارے پاس رہنا چاہیے۔ ایسے بھی تھے جو بیک وقت کئی کئی عہدوں پر براجمان رہنا چاہتے تھے یا پھر اپنے لمبے ہاتھوں سے دوسروں کی پلیٹیں صاف کرنا اپنا حق سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں۔

خدا معاف فرمائے اقتدار اور حکمرانی کی ہوس کتنی بری بلا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں منتخب وزیراعظم کابینہ کاسربراہ ہوتا ہے۔ وہی کابینہ کے اجلاسوں کو پریذائیڈ کرتا ہے مگر ہمارے یہاں ایسے سربراہان یا بابے بھی گزرتے ہیں جو وزیراعظم کو کارنر کرتے ہوئے خود کابینہ کی صدارت کرنے بیٹھ جاتے تھے۔ کسی بھی عمارت کی جب بنیادیں ٹیڑھی ہوں گی تو لازمی بات ہے اوپر چل کر مزید بڑی خرابیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔

مغربی جمہوریتوں پر طنز و حقارت کے تیر چلانے والے بلاشبہ ہماری صفوں میں کم نہیں ہوں گے۔ لیکن پوری انسانیت تہذیب مغرب کی احسان مند اور سپاس گزار رہے گی کہ انہوں نے انسانی و عوامی رائے یعنی ووٹ کی طاقت کو صحیح معنوں میں عزت و عظمت بخشی اور باور کروایا کہ ووٹ کی عزت درحقیقت انسانیت کی عزت و تقدیس ہے۔ انہوں نے پوری دنیا کو پرامن انتقال اقتدار کی راہ دکھلائی ورنہ ہم جو خود کو تیس مار خاں قرار دلوانے میں پاگل ہوئے بیٹھے ہیں۔ ہماری 14 صدیوں پر محیط ہسٹری خون خرابے اور قتل و غارت گری سے بھری پڑی ہے۔ ہماری مستحکم ترین سلطنتوں میں بھی جب انتقال اقتدار ہوتا تو خونی رشتوں کو بھی خون میں نہلا دیا جاتا۔

اورنگزیب عالمگیر جیسے متقی وپرہیز گار حکمران نے ہوس اقتدار میں اپنے تینوں بھائیوں شجاع مراد اور دارا شکوہ کو قتل کرواتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہ کی۔ اور نہ ہی ان کےمعصوم بچوں پر ترس کھایا۔ ہماری تاریخ کا جو مثالی دور ہے اس کی داستان بھی کم رنگین نہیں ہے۔ درویش معذرت خواہ ہے کہ غیروں کی سیاسی کہانی بیان کرتے ہوئے اپنے سینے کے زخم تازہ ہو گئے۔ یہاں جی چاہ رہا ہے نیلسن منڈیلا جیسے وسیع النظر اور وسیع الظرف انسانوں کی مثالیں پیش کی جائیں لیکن محدود کالم میں اتنی گنجائش نہیں۔

 اسی امریکی نائب صدر جوبائیڈن کی سوچ اور طرز حکمرانی کا جائزہ لے لیا جائے جس نے صدر باراک اوباما جیسے عظیم امریکی صدر کے ساتھ کام کیا تھا۔ ان کا جوان بیٹا کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہؤا تو جمع پونجی اس کے علاج پر خرچ ہو گئی اور نوبت اپنا گھر بیچنے تک پہنچ گئی۔ کیا اس کے کوئی دوست نہیں تھے جو ہوائی جہازوں کے نہ سہی بیمار بچے کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات ہی اٹھاتے؟ بہرحال بات جب صدر اوباما کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے دست تعاون بڑھایا مگر کینسر کے مرض میں مبتلا جواں سال بیٹے کی موت کا دکھ پھر بھی جوبائیڈن کو سہنا پڑا۔

آج منتخب ہونے سے قبل ہی جوبائیڈن اپنی پارٹی اور اپنی قوم سے مخاطب تھے۔’’بلاشبہ میں نے صدارتی الیکشن ایک ڈیمو کریٹ کی حیثیت سے لڑا ہے لیکن منتخب ہونے کے بعد میں تمام امریکیوں کا صدر بنوں گا۔ میرے حمایتی بھی تحمل کا مظاہرہ کریں۔ سیاست میں نفرت اور دشمنی نہیں ہوتی۔ امریکی قوم کو توڑنے والی چیزیں کم ہیں اور جوڑنے والی بہت زیادہ ہیں‘‘۔ اس کو کہتے ہیں قیادت، قوم کے زخموں پرمرہم لگانے والی قیادت۔ جمہوری تسلسل کا یہی حسن ہے کہ اگر اس راستے سے کوئی ابن الوقت یا چالباز آگے آ بھی جاتا ہے، تب بھی اگر جمہوری تسلسل میں خلل نہ آنے دیا جائے تو موقع ملنے پر نااہلی سے پھیلائے گئے گند کو صاف کرنے والی باصلاحیت قیادت سامنے آ جاتی ہے۔

بشرطیکہ اگر سسٹم میں مضبوطی ہو تو ایک ٹرم کیا دو ٹرمز کی خرابیوں کو بھی بطریق احسن صاف شفاف بنایا جاسکتا ہے۔ سسٹم مستحکم ہو تو افراد و اشخاص سے بھی کوئی بہت زیادہ خرابی نہیں پڑتی۔ صدر ٹرمپ اور ان کی سوچ یا کارکردگی پر ہم جتنی مرضی تنقید کر لیں۔ انہیں مسخرہ یا غیر ذمہ دار کہہ لیں۔ ان کی سیاسی صلاحیتوں پر سوالات اٹھالیں۔ اس میں شک نہیں کہ انہوں نے امریکی صدارت کے باوقار منصب کو خاصا بے توقیر کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے عالمی وقار پر زد پڑی۔ لیکن یہ امریکی جمہوری سسٹم کی مضبوطی ہے کہ منفی تبدیلی کا بالآخر صفایا ہو جائے گا۔ عظیم امریکی عوام اپنی آئینی جمہوری راہوں پر پچھلی دو ڈھائی صدیوں کی طرح رواں دواں رہیں گے، ان کی آزادی اظہار اور ووٹ کی عزت پر کوئی جنونی یا سر پھرا حملہ آور نہیں ہو سکے گا۔