جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر منتخب ہوگئے

  • ہفتہ 07 / نومبر / 2020
  • 4840

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور سابق نائب صدر جو بائیڈن نے ریاست پینسلوینیا میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ وہ امریکہ کے 46 ویں صدر ہوں گے۔

صدر منتخب ہونے کے لیے جو بائیڈن کو 538 ارکان کے الیکٹورل کالج میں سے 270 کی حمایت درکار تھی۔ ہفتے کی دوپہر امریکہ کے کئی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ جو بائیڈن نے ریاست پینسلوینیا میں  ری پبلکن حریف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے دی ہے۔ پینسلوینیا کے 20 الیکٹورل ووٹ ہیں جو تمام کے تمام جو بائیڈن کو ملنے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد 273 ہوگئی ہے۔

ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 213 الیکٹورل ووٹ حاصل کرپائے ہیں اور پینسلوینیا کا فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کے لیے 270 ووٹوں کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ پینسلوینیا کے نتائج کے اعلان کے بعد امریکہ کی 45 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ پانچ ریاستوں جارجیا، نارتھ کیرولائنا، ایریزونا، نیواڈا اور الاسکا،  میں اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

جو بائیڈن کی فتح کا اعلان غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور حتمی سرکاری نتائج کے اجرا میں اب بھی کئی ہفتے لگیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ری پبلکن قیادت پہلے ہی کئی ریاستوں کے نتائج کو عدالتوں میں چیلنج کر چکے ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخاب کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق جو بائیڈن کے امریکہ کا 46 واں صدر منتخب ہونے کے ساتھ ہی ان کی رننگ میٹ اور ڈیموکریٹ سینیٹر کملا ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر منتخب ہو گئی ہیں۔ کملا نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے والی امریکہ کی تاریخ کی پہلی غیر سفید فام شخصیت ہوں گی۔ ان کے والد کا تعلق جمائیکا اور والدہ کا بھارت سے تھا۔

امریکہ کے بیشتر ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج میں جو بائیڈن کی فتح کے اعلان کے بعد کملا ہیرس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو ٹوئٹ کی ہے جس میں وہ جو بائیڈن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ ہیرس جو بائیڈن سے کہتی ہیں کہ "جو! ہم نے یہ کر دکھایا۔ آپ امریکہ کے اگلے صدر ہوں گے۔"

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے بیشتر ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو بائیڈن کی کامیابی کے اعلان کے بعد ایک بار پھر انتخابات میں اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کی کہ وہ بہت بڑے مارجن سے الیکشن جیت چکے ہیں۔ تاہم ٹوئٹر نے ایک بار پھر اُن کی ٹوئٹ پر انتباہ جاری کیا ہے۔

صدر ٹرمپ انتخابات میں بڑے پیمانے پر فراڈ کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے رُجوع کا عندیہ دے چکے ہیں۔ امریکہ میں بعض سوئنگ ریاستوں میں اُمیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق کم ہونے کے باعث دوبارہ گنتی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔