عوام پوچھتے ہیں سی پیک کہاں ہے: بلاول بھٹو

  • اتوار 08 / نومبر / 2020
  • 4890

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں مرکزی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ عوام کو پوچھنا پڑ رہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ کہاں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے گوجال میں انتخابی جلسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تیسری مرتبہ گلگت بلتستان آیا ہوں۔ ہمارا تین نسلوں کا تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کا ساتھ دیا اور امید کرتا ہوں اسی طرح میرا ساتھ دیں گے تاکہ نامکمل مشن کو مل کر مکمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ میرے تین وعدے ہیں اور موقع ملا تو انشااللہ ان تینوں باتوں پر پورا اتروں گا۔ تین نکات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہم یہاں کے نوجوانوں کو روزگار دینا چاہتے ہیں، خاص کر سی پیک اور روڈ کے منصوبوں میں سب سے پہلے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دوسرا وعدہ ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام کو حق ملکیت دلانا چاہتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے غریب کسانوں کو زمین کا مالک بنایا اور اب میں چاہتا ہوں گلگت بلتستان کے عوام کو نہ صرف اپنی زمین کا مالک بناؤں بلکہ ان پہاڑوں میں چھپی معدنیات کا حق بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کا منشور ہے اور ہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر یہاں کے نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بٹھانا ہے۔ وزیراعظم کا انتخاب اس علاقے کےعوام کی مرضی سے ہوگا۔

اس موقع پر عوام نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق سوال کیا کہ سی پیک کہاں ہے۔ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اس منصوبے کا دروازہ گلگت بلتستان ہے اور افسوس کی بات ہے کہ آپ کو پوچھنا پڑ رہا ہے کہ سی پیک کہاں ہے حالانکہ یہ منصوبہ آپ کی وجہ سے ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں ہر جگہ کہتا ہوں کہ سی پیک گیم چینجر منصوبہ ہے تو یہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں کی وجہ سے ہے اس لیے سب سے پہلے کام یہاں ہونے چاہیے تھا۔ پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں تاکہ آپ کو حق حاکمیت اور روزگار کے علاوہ سی پیک جیسے بڑے منصوبےمیں حصہ دیا جائے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ مجھے یہاں کے عوام کے بہت مسائل بتائے ہیں، سردیوں میں ایندھن کا مسئلہ ہوتا ہے جس کو دور کرنے کے ریاست کو اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔  ہم یہاں کے عوام کو سردیوں میں ایندھن کے لیے کوئلہ فراہم کرنے میں مدد دینا چاہتے ہیں۔ یہ اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حکومت سندھ نے تھرکول منصوبہ بنایا ہے اور وہ یہاں کے عوام اور حکومت سے معاہدہ کرے تاکہ اس کوئلے کو سستی قیمت میں غریب عوام تک پہنچایا جائے۔

کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ کے علاقے میں ایک نعرہ اٹھا ہے ‘نو روڈ، نوووٹ‘ اس لیے ہم جیت کر روڈ کے مسئلے کو بھی حل کرنا چاہتے ہیں۔