گلگت بلتستان میں انتخابات سے پہلے ہی دھاندلی شروع ہوگئی: مریم نواز

  • اتوار 08 / نومبر / 2020
  • 7640

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز نے گلگت بلتستان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی الیکشن ہوئے نہیں لیکن دھاندلی کے انبار لگ گئے ہیں۔ لیکن عمران خان کی جعلی حکومت جا رہی ہے۔

چلاس میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ جو رشتہ جوڑا تھا اس کو آخری دم تک نبھائیں گے۔ سنا ہے دیامر سے شیر جیت رہا ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہاں دھاندلی کی جارہی ہے، ابھی الیکشن آیا نہیں ہے لیکن دھاندلی کے انبار لگ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے ووٹ کو چوری نہیں ہونے دینا اور الیکشن والے دن نہ صرف ووٹ ڈالنا ہے بلکہ اپنے ووٹ پر پہرا دینا ہے۔ مسلم لیگ (ن) چھوڑنے والے سابق وزیر کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو اچھے وقت میں ساتھ رہا اور وزیر بن کر فائدے بھی اٹھاتا رہا ہو لیکن ذرا سا دباؤ آئے تو ووٹ کی پرچی کو روندے تو وہ ووٹ کا حق دار نہیں ہے۔

گلگت بلتستان میں نئی روایت قائم کرتے ہوئے لوٹوں کو گھر چھوڑ کر آئیں تاکہ آئندہ کسی کو یہ جرات نہ ہو کہ وہ دباؤ برداشت نہ کرسکے اور ووٹ کو بیچ کر آئے۔ جو اپنے لیے کھڑا نہ ہوسکے، وہ آپ کے لیے بھی کھڑا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جتنی خدمت کی ہے اتنی 73 برسوں میں کسی نے نہیں کی۔ گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمٰن نے وفا داری کی۔ وفا نبھانے والے سونے پر تلنے کے لائق ہیں۔

مریما نواز نے کہا کہ گلگت ایئر پورٹ کی عمارت نواز شریف نے بنوائی تھی اور گلگت کی سڑک بھی نواز شریف نے بنائی تھی۔ گلگت میں کینسر ہسپتال، اسپورٹس کمپلیکس اور کیڈٹ کالج چلاس سمیت تمام منصوبے نواز شریف کے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی وجہ سے کئی خاندان متاثر ہوئے ہیں اور ان کو پورا معاوضہ نہیں ملا۔ رقم کی ادائیگی میں تنگ کیا جارہا ہے، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنائیں گے اور اس صوبے کو حقوق بھی دیں گے۔ عمران خان کی جعلی حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں اور یہ جعلی حکومت جارہی ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں اس کو آخری دھکا دو اور گھر بھیج دو۔

خیال رہے کہ مریم نواز گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کی مہم کے لیے وہاں موجود ہیں۔ دو روز قبل اسکردو میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان والوں نے جو جذبہ دکھایا ہے اس کے بعد اگر مسلم لیگ(ن) کو دھاندلی سے ہرایا گیا تو نہ گلگت بلتستان مانے گا نہ پاکستان۔ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان انتخابات میں وفاقی حکومت کے ساتھ جاتا ہے۔ تو کیا اس بات گلگت بلتستان جاتی ہوئی حکومت کے ساتھ جائے گا، کیا گلگت بلتستان ایسی حکومت کے ساتھ جائے گا جس کی چند دنوں میں چھٹی ہونے والی ہے۔