اتحادی جماعتوں کی سیاست

عمران خان کی حکومت اتحادی جماعتوں کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ عمران خان اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا کوئی بڑا تجربہ نہیں رکھتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان  کی حکومت اگرچہ اتحادی جماعتوں کے مرہون منت کھڑی ہے  لیکن اتحادی جماعتوں کے ساتھ  حکومت کے تعلقات کبھی بھی بہتر نہیں رہے۔

سردار اختر مینگل بلوچستان سے عمران حکومت کے اتحادی تھے۔کئی بار حکومت سے ان کی ناراضی ہوئی او رکئی بار صلح۔لیکن اب وہ حکومت کے اتحادی نہیں رہے بلکہ  حکومت سے نالاں ہوکر حکومت مخالف دھڑے کا حصہ بن گئے ہیں۔مسلم لیگ ق، مسلم لیگ فنگشنل، سندھ ڈیموکریٹک الائنس او رایم کیو ایم سے بھی ان کی محبت او رناراضی کا  رومانس چلتا رہتا ہے۔اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت کرنے کا تجربہ آسان نہیں ہوتا او رجب خاص طو رپر حکومت کا انحصار ہی اتحادی جماعتوں پر ہو  تو ان کے ناز نخرے اور مراعات کاسیاسی بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

اس وقت جب پی ڈی ایم حکومت مخالف تحریک چلارہی ہے تو حکومت کو  اپنی اتحادی جماعتوں کی زیادہ حمایت درکار ہوگی۔ لیکن اتحادی سیاست کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ  اتحادی جماعتیں حکومت کا سیاسی بوجھ اٹھانے میں شامل نہیں ہوتیں۔ ان کے خیال میں اگر حکومت ناکام ہورہی ہے تو اس کی وجہ  خود حکومت، وزیر اعظم یا اس کی کابینہ ہوتی ہے۔ یہ روش بھی ہمیشہ سے غالب نظر آتی ہے کہ اتحادی جماعتیں حکمران طبقہ سے عدم مشاورت، حکومت میں عملی حصہ نہ دینا، ترقیاتی فنڈز کے اجر ا میں  تاخیر، من پسند وزارتوں کی تقسیم یا وزیر اعظم کی جانب سے مسلسل نظراندازکرنے کی پالیسی کا شکوہ کرتی ہیں۔لیکن ان تمام شکایات کے باوجود حکومت کے ساتھ رہنا بھی ان کی سیاسی مجبوری ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگران چھوٹی جماعتوں کو کچھ  مل سکتا ہے تو وہ حکومت کا اتحادی بن کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت پر مسلسل دباؤ  رکھنا بھی اتحادی جماعتوں کی بارگینگ سیاست سے جڑا ایک اہم ہتھیار ہوتا ہے جو وہ وقفہ وقفہ سے اپنے حق میں استعمال کرتی ہیں۔

مسلم لیگ ق نے پچھلے دنوں وزیر اعظم کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے کھانے کی دعوت میں شرکت نہ کرکے ایک بار پھر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔مسلم لیگ ق ایک گلہ کافی حد تک بجا ہے کہ وزیر اعظم جب بھی لاہور کے دورے پر آتے ہیں تو اپنی اتحادی جماعت یعنی مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی  کے علاوہ ان کی قیادت کو بھی نظرانداز کرتے ہیں۔لیکن اسی طرح مسلم لیگ ق بھی اپنی حکومت سے ناراضی کا سیاسی کارڈ کھیلتی ہے جو یقینی طور پر وزیر اعظم عمران خان کو بھی پسند نہیں آتا۔عمران خان کی حکومت کا دعوی ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ق کو اس کے حصہ سے بڑھ کر بجٹ، تقرریوں یا تبادلوں میں  فوقیت دی جاتی ہے۔عمران خان کے حامی اس بات کا بھی شکوہ کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ق کے مقابلے میں ہم نے اپنے امیدوار نہ کھڑے کرکے ان کی جیت میں  کردار ادا کیا تھا  لیکن مسلم لیگ ق ہر وقت حکومت پر تنقید کرکے مشکلات پیدا کرتی ہے۔مسلم لیگ ق کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ترقیاتی فنڈز پر خود حکومتی ارکان اسمبلی بھی نالاں نظر آتے ہیں او ران کو بھی وہ کچھ نہیں مل رہا جو وہ چاہتے ہیں۔

ایم کیو ایم کو گلہ ہے کہ کراچی پیکج کے نام پر ہمیں براہ راست ترقیاتی فنڈ نہیں دیا جارہا۔ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کراچی پیکج سندھ حکومت یا محض تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی بجائے ایم کیو ایم کی مدد سے خرچ کیا جائے۔ ایم کیو ایم کے بقول کیونکہ سندھ حکومت نے کراچی کی مقامی حکومت کا نظام مفلوج کیا ہوا ہے او راس کا مقصد ایم کیو ایم کو سیاسی دیوار سے لگانا ہے تو ایسے میں وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سندھ حکومت کے مقابلے میں ہماری بھرپور حمایت کرے۔اسی طرح سندھ ڈیموکریٹک الائنس یا مسلم لیگ فنگشنل کا موقف ہے کہ ہم اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی مخالف میں پیش پیش ہیں۔لیکن اس مخالفت کی سزا ہمیں حکومت مسلسل نظرانداز کرکے دے رہی ہے جو سیاسی طور پر ہمیں قبول نہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اگر ان اتحادی جماعتوں کو واقعی حکومت سے بہت سخت اور بجا نا گلے ہیں تو وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ کیوں نہیں ہوجاتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تینوں اتحادی جماعتیں اسٹیبلیشمنٹ کی سیاست کے قریب  ہیں او ران کو اس بات کا احساس ہے کہ حکومت فی الحال کہیں نہیں جانے والی۔اس لیے وہ اتحادکو چھوڑنے کی بجائے اس میں رہنے کو اپنے سیاسی مفاد میں سمجھتے ہیں۔اگر  ان کو واقعی اس بات کا احساس ہوجائے کہ حکومت  جانے والی ہے او راسٹیبلیشمنٹ کچھ تبدیل کرنا چاہتی ہے تو یہ لوگ بھی اپنا سیاسی فیصلہ کرنے میں  دیر نہیں کریں گے۔ یہ بات حکومت بھی سمجھتی ہے کہ ان اتحادی جماعتوں کے پاس سوائے بلیک میلنگ کے کچھ نہیں ہے اور یہ ہمیں فی الحال ان سے کوئی  خطر ہ نہیں۔

حکومت نے اتحادی جماعتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے جوابی حکمت عملی کے تحت دونوں بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن او رپیپلز پارٹی میں فاورڈ بلاک بنانے کا کھیل شروع کردیا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ فاروڈ بلاک کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کی  سیاسی بلیک میلنگ نہیں چل سکے گی او ران کو اپنی پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنا ہوگا۔بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کیونکہ عمران خان حکومت او راسٹیبلیشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور اسی بنیاد پر اتحادی جماعتوں کا کھیل بھی سامنے آتا ہے تاکہ حکومت پر دباؤ  بڑھایا جاسکے۔لیکن فی الحا ل ایسے امکانات محدود ہیں۔

حکومت او راتحادی جماعتوں کو اگر مل کر آگے بڑھنا ہے یا حکومت مخالف تحریک کا سامنا کرنا ہے تو چار بنیادی باتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ اول حکومت او ران کی اتحادی جماعتوں کے درمیان باہمی مشاورت، فیصلہ سازی او رایک دوسرے کو سیاسی طور پر اعتمادمیں لے کر آگے بڑھنے کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ اس میں اہم کام خود وزیر اعظم کا ہے او ران کو ہی اس میں پہل  کرکے کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر اعظم کو اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ وہ براہ راست اتحادی جماعتوں سے ملاقات سے گریز کرتے ہیں۔ دوئم اتحادی جماعتوں کے جو بھی جائز تحفظات ہیں جن میں ارکان اسمبلی کی ترقیاتی امور میں شمولیت یا بجٹ شامل ہے اس پر حکومت کو ایک متوازن طرز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ سوئم اتحادی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ حکومت سے ناراض ہوکر معاملات کو میڈیا میں بطور ہتھیار تشہیر کے طور پر پیش کریں گی تو یہ درست حکمت عملی نہیں او راس کا  ردعمل  ہوگا۔چہارم اتحادی جماعتوں کو حکومت کی کامیابی کے ساتھ  ان کی مشکلات میں بھی حصہ دار بننا ہوگا۔

 یہ سوچ او رفکر کہ حکومت کی ناکامی یا مشکلات میں خود کو ذمہ دار نہ سمجھنا غلط ہے۔ جب وہ حکومت کا حصہ ہیں تو پھر اس کی کامیابی یا مشکلات یا ناکامی سب میں اس کو برابری کی بنیاد پر حصہ دار بننا ہوگا۔وزیر اعظم عمرا ن خان کی  ذمہ داری ہے کہ جب حکومت مخالف جماعتیں ان کی حکومت کو گرانے میں پیش پیش ہیں تو ایسے میں  وہ اتحادی جماعتوں کو اپنی سیاسی طاقت بنائیں تاکہ حکومت مخالف تحریک کا مقابلہ کرسکیں۔