گلگت بلتستان میں انتخابی دھاندلی کے الزامات، چیف الیکشن کمشنر کی تردید

  • سوموار 09 / نومبر / 2020
  • 7420

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگایا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے دھاندلی روکنے میں ناکام ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات میں پری پول دھاندلی سے متعلق درخواست جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر وفاقی حکومت کی مداخلت روکنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔  انہیں شفافیت یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہئے۔ چیف الیکشن کمشنر خاموش تماشائی بن کر وفاقی وزرا  کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اجازت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی پوسٹل بیلٹ پیپر اور جعلی ووٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں 2018 والی روایت دہرائی جارہی ہے۔ انہوں نے وفاق کو خبردار کیا کہ اگر یہ حکومت دھاندلی سے باز نہ آئی تو اسے احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہی ہے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور ناصرف مہم چلارہے ہیں جبکہ وزیر اعظم نے بھی الیکشن کمیشن کے کوڈ اف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ پری ہول دھاندلی کے تمام ثبوت الیکشن کمیشن کو فراہم کردیے ہیں۔

اس سے پہلےکہ جی بی کے چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے کہا تھا کہ جی بی انتخابات میں ’متوقع دھاندلی‘ کے بارے میں کچھ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے اٹھائے جانے والے شور کا کوئی جواز نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جی بی انتخابات میں دھاندلی کے امکان کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے ردعمل میں انہوں نے رہنماؤں سے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی خرابی کی نشاندہی کرنے کو کہا اور کہا تھا کہ ’ہم اس کو ٹھیک کریں گے‘۔