پاکستان کا اصل مسئلہ
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 09 / نومبر / 2020
- 16620
اس وقت پاکستان میں جو سیاسی تھیٹر لگا ہے اور جس طرح سے سیاست دان، حکومتی وزیرے اور مشیرے اور حزب اختلاف کے گوند کتیرے اور تارے میرے ایک دوسرے کو کوسنے دے دے کر ایک دوسرے کے لتّے لے رہے ہیں ، اُسے دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید آسمان ہم پر برہم ہیے اور ہمیں ہماری غیر ذمہ داریوں کی سزا دے رہا ہے۔
ہم جو اسلام کو امن کا دین کہتے ہیں اُس کے پرچم تلے جس پر کلمہ طیبہ کا طغریٰ ہے ، ایک دوسرے کی پگڑ یاں اُچھال رہے ہیں، اور ہم نے دوطرفہ نفرت کا وہ تماشا لگا رکھا ہے کہ کارکنانِ قضا و قدر بھی حیران ہیں کہ کیا یہ سچ مُچ دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ ہم ہیں کیونکہ پاکستان کا ہم سب سے الگ کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ پاکستان ہماری دنیا ہے، یہ ہمارا معاشرہ ہے جو ہمارے باہمی تعلقات پر استوار ہے یا زیادہ واضح الفاظ میں ہم بہتر برس سے اس معاشرے کو تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو ہم لوگ جو اس معاشرے کی دستاویز کا متن ہیں، ہم ہی پاکستان ہیں اور ہم ہی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہیں کیونکہ ہمیں اب تک ایک قوم بن کر رہنا نہیں آیا۔
یہ پاکستان ہمارے معاشرتی رشتوں کی تصویر ہے اور ہمیں پاکستان کو اور اُس کے معاشرتی سٹرکچر کو سمجھنے کے لیے خود کو انفرادی سطح پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اپنے قومی ساختیے میں ہمارے ہونے کا دارومدار ایک دوسرے پر ہے، یعنی باہمی روشتوں ناتوں پر ہے مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بائیں بازو کی اصطلاح میں ہم ایک دوسرے کا استحصال کرتے ہیں۔ اور ایسا رویہ اس لیے ہے کہ ہم قومی مفادات پر انفرادی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور جب ہمارا مقصد ذاتی مفادات کا حصول ہو تو معاشرتی تعلقات مر جاتے ہیں اور قومی وحدت بسترِ علالت سے لگ جاتی ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کو استعمال کرنے کے شیطانی چکر میں پھنس جاتے ہیں تو ہمارے باہمی انسانی، ملی اور قومی رشتے وفات پا جاتے ہیں۔
ہمارا تعلق دوکاندار اور گاہک کا سا بن جاتا ہے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔ یہ کیفیت ایک طرح سے نفسا نفسی کی سی ہوتی ہے جس میں ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے۔ جب ہم دوسرے کو استعمال کرتے ہیں تو ہماری نظر اُس مفاد پر ہوتی ہے جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ مفاد تعلق اور رشتے کا قاتل ہے۔ اس طرح کے مفاد پر مبنی تعلق میں ہمیں اپنے مفاد کے حاصل نہ ہو سکنے کا خوف رہتا ہے۔ اور اس خوف سے نجات کے لیے ہم زیادہ سے زیادہ ذخیرہ اندوزی اور زر اندوزی کرنے لگتے ہیں تاکہ ہم خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس طرح کی دولت کا ارتکاز حسد، ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات ، تضادات اور اختلافات پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ سوسائٹی جس میں یہ تضادات اور اختلافات ہوں، لوگوں کو نہ خوش حالی دے سکتی ہے اور نہ ہی خوشی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔
ہمارے جس سیاسی بیانیے کا آج ڈھول پیٹا جا رہا ہے وہ ہے ووٹ کو عزت دو۔ جس کا مطلب ہے کہ سیاست دان اپنے مفادات کے لیے ووٹر کو استعمال تو کرتے ہیں لیکن وہ ووٹر کو تو عزت نہیں دیتے چنانچہ ووٹر اور حکمران کے درمیان ووٹ کا جو رشتہ ہے وہ حکمران کی ضرورت ہے۔ حکمران اور سیاستدان اُس کے ذریعے مسندِ اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں ۔ بھلا ایسے تعلقات میں جس میں ایک شہری کو کاغذ کی پرچی میں تبدیل کر دیا جائے، وہاں روز مرہ زندگی کی اہمیت کہاں باقی رہتی ہے ۔ ایسے معاشرے میں جہاں مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے تشدد پرورش پاتا ہے اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔ انسان کی معاشرتی تاریخ یہ ہے کہ وہ متشدد ہے ۔ یہ تشدد غصے ، حسد، اور لالچ کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور دوسروں پر غلبہ پانے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اس وقت سیاسی محاذ پر لفظوں کی جو وحشیانہ جنگ جاری ہے وہ یہ عندیہ دے رہی ہے کہ پاکستانی معاشرہ شدید قسم کے تشدد کے بُخار میں مبتلا ہے۔ وہ تشدد کبھی سیاسی جماعتوں کی باہمی آویزش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی بھارت کے خلاف پوری قوم کو یک جان کروڑ قالب کردیتا ہے۔ ہمارے ٹی وی کے ٹاک شوز میں جس طرح کی وحشیانہ گفتگو ہوتی ہے وہ تشدد کی کہانی بیان کرتی ہے کہ پورا معاشرہ کس آ گ میں جل رہا ہے۔ چنانچہ جب ایک معاشرہ امن کے دین کا علمبردار ہونے کا بلند بانگ دعویٰ کرتا ہے تو وہ لازمی طور پر تشدد میں مبتلا ہوتا ہے۔ جیسے سلطان باہو نے فرمایا ہے:
اُچّے کلمے سویو پڑھدے نیت جیہناندی کھوٹی ہو
مگر وہ اپنے تشدد کے خلاف لڑنے سے تشدد کو ختم نہیں کر سکتے۔ تشدد کے قلع قمع کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم جس تشدد میں مبتلا ہیں وہ کیا ہے۔ جب ہم اپنی روزہ مرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ ہم تشدد میں مبتلا ہیں، ہمارے گلی کوچے تشدد کی لپیٹ میں ہیں، سرِ راہ ڈاکہ زنی کی وارداتیں ہوتی ہیں، بچوں کو اغوا کر کے انہیں ریپ کرنے کے بعد قتل کردیا جاتا ہے تو ہم اسے ایک خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور اس کا سبب یہ ہے کہ ہم اپنے تشدد سے آگاہ نہیں ہیں ۔ نہ ہمارے علما اور جرنیل، نہ ہمارے دانش ور اور سیاست دان اپنے تشدد میں مبتلا ہونے کا ادراک رکھتے ہیں اور نہ ہی ہمارے عام آدمی کو اپنے بیمار ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ غصہ، یہ حسد اور یہ سیاسی نفرتیں معمول کی باتیں ہیں۔ اور جب تک ہم یہ تشدد اپنی ذات کے اندر نہ دیکھ لیں تب تک کوئی تعلیم، کوئی تقریر، کوئی نصیحت، کوئی خطبہ یا کوئی کتاب تشدد کے خاتمے کا نسخہ نہیں بن سکتی۔ اور جب یہ بات سمجھ میں آ جائے تو تشدد ختم ہوجاتا ہے۔ اور اسے سمجھنے کے لیے محض اخفش کی بکری کی طرح سر ہلانا ہی کافی نہیں کہ میں تشدد کو سمجھتا ہوں بلکہ اپنے اندر اُتر کر تشدد کو سمجھنا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کس لیے کسی دوسرے کے خلاف غلیظ زبان استمال کرتا، کیوں گالی گلوچ کرتا اور الزامات لگاتا ہے، کیونکہ دوسروں کو گھٹیا، جاہل، بیوقوف اور نالائق قرار دیتا ہے ۔
کتنی عجیب بات ہے کہ تمام کی تمام متحارب سیاسی قوتیں اسی بیماری میں مبتلا ہیں اور اسے سمجھنے کے بجائے اسے پروموٹ کر رہی ہیں اور اپنے ساتھ پوری قوم کو تشدد کے جہنم میں دھکیل رہی ہیں۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ تشدد عدم تحفظ کی اولاد ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اقتدار سے محرومی کا زخم سہتی ہیں تو وہ تشدد پر اُتر آتی ہیں۔ حالانکہ سیاسی لوگ جو معاشرے کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے ذمہ دار ہیں، علم و حکمت سے لیس ہوتے ہیں۔ اُن کے مونہہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں جو اخلاق سے گری ہوئی ہوں۔ شریف آدمی کسی کو الزام نہیں دیتا۔ وہ اپنی مشکلات کا حل اپنی ذات میں تلاش کرتا ہے اور اپنے حصے کی زیادتیوں کا جائزہ لے کر اُنہیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے؛ اسی ضمن میں اقبال نے کہا ہے:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
چنانچہ جو لوگ پندرہ پندرہ سال امورِ حکومت چلاتے رہے ہیں وہ کس طرح سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر سکتے ہیں۔ کیا اُنہیں خود اپنا بننے کی ضرورت نہیں؟۔ کیا وہ دوسروں کو گالیوں دینے کے بجائے اپنے
اندر نصب گالی کا آلہ درست نہیں کر سکتے تاکہ گالی کے بجائے محبت کے کلمات نکلیں۔ غصے کو جو تشدد کا سب سے بڑا اظہار ہے، پی جانا اور معاف کردینا بندگی ہے۔ قرآن میں لکھا ہے:
والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس ۔کہ رب کے بندے غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ کیا یہ سیاسی لوگ رب کے بندے نہیں ہیں؟ وہ ایک دوسرے کو کیوں معاف کر کے ایسی دوستانہ فضا پیدا نہیں کرتے جس میں گالی کے بغیر گفتگو ممکن ہو؟ شاید یہ ان کے بس کا روگ ہی نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جو توانائی وہ گالی گلوچ پر اور گلا پھاڑ کر ایک دوسرے کو طعنے دینے میں ضائع کرتے ہیں اُسے تعمیری کاموں میں لگایا جا سکتا ہے۔ مگر شاید نہیں۔ ہم ایک بدقست قوم ہیں جو بہتر سال میں اپنا تشخص مستحکم نہیں کر پائی اور ابھی تک گمراہی کے راستوں میں بھٹک رہی ہے۔
خُدا ہی جانے اس کا انجام کیا ہوگا۔