کراچی واقعے میں ملوث افسران کو معطل کردیا گیا: آئی ایس پی آر
- منگل 10 / نومبر / 2020
- 4480
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا کہ کراچی واقعہ مین ملوث رینگرز اور آئی ایس آئی کے افسران کو معطل کردیا گیا ہے۔ اس واقعہ میں مسلم لیگ (ن) کے لیڈر کیپٹن (ر) صفدر کو قائد اعظم کے مزار کا تقدس پامال کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ مزارِ قائد کی بے حرمتی کے پسِ منظر میں رونما ہونے والے واقعے پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہوگئی ہے۔ یہ تفتیش آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر کی گئی تھی۔ کورٹ آف انکوائری کی تحقیقات کے مطابق 18، 19 اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان رینجرز سندھ اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے افسران مزارِ قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی ردِ عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے۔
بیان کے مطابق پاکستان رینجرز اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز آئی ایس آئی کراچی کے افسران پر مزارِ قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق بروقت کارروائی کے لیے عوام کا شدید دباؤ تھا۔ ان افسران نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سُست روی کا شکار پایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ذمہ دار اور تجربہ کار افسران کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتحال سے گریز کرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ اس کشیدہ مگر اشتعال انگیز صورتحال پر قابو پانے کے لیے اِن افسران نے اپنی حیثیت میں کسی قدر جذباتی ردِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسران کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان آفیسرز کے خلاف کارروائی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کراچی آئی تھی جس نے مزار قائد پر حاضری دی تھی۔ اس دوران کیپٹن (ر) صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے تھے۔
جلسے کے چند گھنٹوں بعد کراچی کے ایک ہوٹل سے مسلم لیگ (ن ) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد کا تقدس پامال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے پر آرمی چیف نے اس معاملہ کی تحقیقات کا حم دیا تھا۔