مضرصحت ماحول میں سیاسی دنگل

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر وائرس سے متاثرہ لوگوں اور اس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے 1436 نئے مریض سامنے آئے جبکہ جمعے کے روز ملک میں جولائی کے بعد سے پہلی مرتبہ 1500 سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

گزشتہ روز ملک میں 25 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔مگر کسی ایک دن کے متاثرین یا ہلاکتوں سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ گزشتہ سات روز میں ملک میں ہر روز مسلسل ایک ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 145 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔کچھ لوگ کیسز اور ہلاکتوں میں اس تیزی کو ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کہہ رہے ہیں۔اب تک ملک میں کورونا وائرس کے باعث کل 343189 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 6968 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ اب تک ملک میں اس وائرس سے 318417 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملک میں مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ ملک کے ایسے علاقے جہاں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے وہاں سمارٹ لاک ڈاؤنز بھی لگائے گئے ہیں۔

ایک طرف کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تو دوسری جانب ملک بھر سیاسی و مذہبی اجتماعات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ملک میں اس وقت سیاسی منظر پر خاصی گہما گہمی کا ماحول ہے۔پی ڈی ایم کی 11 جماعتوں  نے حکومت مخالف تحریک کا آغاز  گوجرانوالہ جلسے سے کیا۔ یہ شہر مسلم لیگ نون کا مضبوط سیاسی گڑھ ہے جہاں سے 2018  کے انتخابات میں مسلم لیگ نون نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی کی تمام نشستیں جیت لی تھیں۔ اس جلسے کا شمار کامیاب جلسوں میں کیا جائے گا۔ میاں نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کرگوجرانوالہ کے جلسے سے ویڈیو لنک پر خطاب کیا جس کا آغاز عوام کے بنیادی مسائل کے حوالے سے کیا گیا مگر خطاب کے آخر میں میاں نواز شریف نے حیران کن طور پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ براہ راست آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 میاں نواز شریف پاکستان کے تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے مگر افسوس انہوں نے پاکستان کی سلامتی اور وقار کا کوئی خیال نہ رکھا۔ انہوں نے ریاست کے خلاف کم و بیش وہی زبان استعمال کی جو بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی کرتا ہے۔ میاں صاحب کے اس اشتعال انگیز خطاب پر پاکستان کے محب وطن عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے عوام میاں صاحب کے سیاسی پس منظر سے پوری طرح آگاہ ہیں اس لئے یقین اور اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے کہ اس اشتعال پر مبنی خطاب کے عوام پر مثبت نہیں بلکہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس خطاب کے بعد پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں بھی اضطراب پیدا ہو گا۔

 پی ڈی ایم کے لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔  11 جماعتی حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے آنے والے دنوں میں پشاور، لاڑکانہ اور لاہور میں جلسے منعقد کیے جائیں گے۔ اسی طرح وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں مختلف تقریبات کے سلسلے میں بڑے اجتماعات ہوئے ہیں۔اسی دوران گلگت بلتستان میں انتخابات کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم بھی جاری ہے۔مضرصحت ماحول میں پاکستان میں جاری سیاسی دنگل  جاری ہے۔اس کا انجام کیا ہوگا۔یہ آنے والے دنوں میں سب کو معلو م ہوجائے گا۔بقول شاعر:

لگا کہ آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا

اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت

جھکا کہ سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے

حضور کا شوق سلامت رہے شہر اور بہت

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس دن سے نواز شریف  نا اہل ہوئے ہیں، بلکہ اس بھی پہلے، جس دن سے پانامہ لیکس  سامنے آئیں  ن لیگ کہ صرف یہ کوشش ہے کہ  کسی بھی طرح کچھ ایسا کر دیا جائے کہ سب کو سب کچھ بھول جائے۔  اپنی کشتی ڈوبتی نظر آ رہی ہے تو سب ہی ڈبودو،اپنا گھر جلتا نظر آ رہا ہے تو سارے محلے کو آگ لگا دو۔ اور جیسا میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکے کہ ہار رہے ہو تو بچوں کی طرح لوڈو کا ٹیبل ہی پلٹ دو، پنجابی میں اسے کہتے ہیں ’نہ کھیڈن گے،نہ کھیڈن دیواں گے‘۔بہر حال ایک بات تو آج پکی  ہے کہ میاں روشن مستقبل شریف  کو پاکستان کتنا عزیز ہے۔ انہیں غرض ہی نہیں کہ ان کی کسی حکمت عملی سے جذباتی طور پر یہ قوم کتنی مشتعل ہو سکتی ہے۔

موجودہ  مضرصحت ماحول میں  سیاسی دنگل کے شرکا کو ملک اور اپنے خاندان کوکورونا وائرس جیسی وبا سے بچانے کے لئے خود ہی  سوچنا ہوگا۔