اقتدار یا طاقت کی جنگ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 10 / نومبر / 2020
- 7460
کیا حزب اختلاف کا اتحاد پی ڈی ایم جمہوریت، قانون کی بالادستی یا سول بالادستی کے لیے ہے یا یہ بھی ماضی کی سیاسی، مذہبی تحریکوں کی طرح محض اقتدا رکے حصول کی جنگ ہے۔ اقتدار کی جنگ بری نہیں کیونکہ سیاست کے پیچھے اصل طاقت ہی اقتدار کے ہی حصول کے لیے ہوتی ہے۔
تاہم اگر سیاست یا اقتدار کی جنگ کسی سیاسی و فکری یا نظریاتی اصولوں کی جائے محض ذاتی، جماعتی یا کسی خاندانی مفادات کے گرد گھومتی ہو تو پھر جمہوریت کی منزل دور ہوجاتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حزب اختلاف میں وہ تمام جماعتیں شامل ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں ماضی یا حال میں اقتدار کے کھیل کا حصہ رہی ہیں ۔ان سب ہی جماعتوں کا سیاسی وجمہوری مقدمہ بہت کمزور رہا ہے۔ بالخصوص اقتدار کے کھیل میں ان کی سیاست جمہوریت، آئین، قانون، عوامی مفاد یا سول بالادستی کی بجائے ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔
جو لو گ موجودہ سیاسی مہم جوئی یا حزب اختلاف کی تحریک کو بنیاد بنا کر اسے دو حصوں یعنی جمہوری یا غیر جمہوری قوتوں کی جنگ کے طور پر پیش کررہے ہیں اس میں تجزیہ کم اور خواہش کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے نواز شریف کے سیاسی بیانیہ کو جمہوری یا قانون کی بالادستی کا رنگ بھرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اور ان کا خاندان پچھلے دو برسوں سے اسٹیلیشمنٹ سے کچھ لو واو رکچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت کرنے کے کھیل کا حصہ رہا ہے۔ لیکن اس کھیل میں ناکامی کی بعد ان کے پاس جو ہتھیار بچتا تھا وہ بیچاری او رمعصوم جمہوریت ہی ہے۔ جمہوریت ہمیشہ سے یہاں سیاسی بالادست قوتوں کو لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہے او ر اس کھیل کے پیچھے اصل مقدمہ جمہوریت کا کم اور محض اقتدار کے حصول زیادہ ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی مہم میں حزب اختلاف کو جمہوریت کا استعارہ استعمال کر رہی ہے حالانکہ اس حزب اختلاف کی بیشتر جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ ن کی مجموعی سیاست ہی اسٹیبیشمنٹ کی مرہون منت رہی ہے۔ مسلم لیگ ن ہماری اسٹیبلیشمنٹ کی ہمیشہ سے لاڈلی جماعت رہی ہے او راب اسٹیبلیشمنٹ سے تعلقات میں خرابی کے باعث اس کے پاس جمہوریت ہی وہ سہارا ہے جس کو بنیاد بنا کر وہ دوبارہ طاقت کے کھیل میں حصہ دار بننا چاہتی ہے۔نواز شریف اور پی ڈی ایم کے بیانیہ کا جو سیاسی پیکج ہے وہ جمہوریت سے زیادہ عمران خان کی حکومت کے خلاف ہے۔
یہ کوئی نئی سیاسی جنگ نہیں۔ ماضی کی تمام سیاسی تحریکوں کو ہی دیکھ لیں، سب میں جمہوریت او راسلام کو ڈھال بنا کر اقتدار کا کھیل ہی کھیل کھیلا گیا ہے۔ماضی کی تحریکوں میں بھی ہماری اسٹیبلیشمنٹ کو بنیاد بنا کر ہی حمایت یا مخالفت کی گئی۔اس لیے موجودہ سیاسی کھیل بھی جمہوریت سے زیادہ فرد یعنی عمران خان مخالفت تحریک ہے۔ اختلاف کے سامنے بڑا ہدف ہی عمران خان حکومت کا خاتمہ ہے۔ماضی میں ہم کبھی یہ کھیل نواز شریف یا بے نظیر کو نکالنے یا اسے لانے کے طور پر کھیلتے رہے ہیں۔منطق یہ دی جارہی ہے کہ حزب اختلاف کی تحریک چار بنیادی اصولوں پر کھڑی ہے۔اول سیاسی نظام کو ہر صورت آئین اور جمہوری تقاضوں کے مطابق چلنا چاہئے، دوئم ہر ادارہ اپنے قانونی حدود کے اندر رہ کر کام کرے جو آئین میں اسے کے لیے متعین ہیں، سوئم منصفانہ او رشفاف انتخابات اور اس عمل میں اسٹیبلیشمنٹ کی عدم مداخلت، چہارم عوام کی حاکمیت یا سول بالادستی کی عملی جنگ۔ان تمام سوالوں سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ جو بھی جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی بات کرے گا وہ ان ہی نکات کو بنیاد بنا کر اپناسیاسی مقدمہ پیش کرے گا۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری قومی سیاست میں نعروں کو بنیاد بنا کر سیاسی جنگ کم او رجذباتی نعرے زیادہ ہوتے ہیں۔
ہمارے اہل دانش کو پی ڈی ایم کی حمایت ضرور کرنی چاہیے او ریہ ان کا سیاسی حق ہے۔لیکن اس سے پہلے ہمیں جمہوری اور سیاسی تجزیہ کاروں سے کچھ سوالات بھی ضرور کرنے چاہئیں۔جب یہ لوگ اقتدار کی سیاست میں تھے تو کیوں یہ سب لوگ مل کر ملک میں آئینی انتظام کو بالادست نہیں بنا سکے۔ آج ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کے لئے ان کی اپنی ہی حکومتوں میں اصلاحات کا عمل کیوں شروع نہیں ہوسکا۔
جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ سیاسی قیادت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔ لیکن پچھلے دو برس کی سیاست کا تجزیہ کرلیں تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان جو کچھ پس پردہ کھیل کھیلا جارہا تھا اور جس انداز سے یہ دونوں جماعتیں ان ہی پس پردہ قوتوں کے ساتھ مل کر کچھ لو اور کچھ دو کا کھیل کھیلنے کی کوشش کررہی تھیں وہ کیسے جمہوری سیاست کے دائرہ کار میں آتا ہے۔یعنی اگر اسٹیبلیشمنٹ سیاسی قوتوں کی حمایت کرے تو سب اچھا اور اگر مخالفت کرے تو پھرجمہوریت کا نعرہ لگا کر میدان میں کود پڑیں۔
پی ڈی ایم کا بیانیہ کا محض حکومت کو گرانے کا سیاسی ہتھکنڈا ہے۔ حزب اختلاف متبادل نظام پیش کئے بغیر کیسے ملک کو بہتر بناسکتی ہے؟ حزب اختلاف کی قوتیں اسٹیبلیشمنٹ کو بھی پیغام دے رہی ہیں کہ وہ موجودہ حکومت سے شفقت کا ہاتھ اٹھا کر کر ہم پر اپنی شفقت کا مظاہرہ کرے ہم بہتر طور پر آپ کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔جمہوری جدوجہد ہونی چاہیے اور ملک کو بھی جمہوری بنانے میں سب کو آگے بڑھنا چاہئے۔لیکن یہ جمہوری جدوجہد ذاتی مفاد اور حصول اقتدار سے بالا ہوکر کی جائے۔