پاکستان میں کورونا پھیلنے کے باعث نئی پابندیاں لگانے کی تجاویز

  • بدھ 11 / نومبر / 2020
  • 5960

نیشنل کمانڈ کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے خدشے کے باعث بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی کی تجویز دی ہے۔

این سی او سی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی اسد عمر کی صدارت میں ہوا جس میں خاص طور پر تعلیمی اداروں سے حاصل ہونے والے کووڈ 19 کے کیسز سے متعلق اعدادوشمار کا جائرہ لیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ وائرس کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن بڑے اجتماعات پر پابندی کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

تعلیمی اداروں میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ سامنے آرہا ہے۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ 16 نومبر کو وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود، این سی او سی میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کریں گے اور وہ تمام صوبائی وزرا تعلیم کو تعلیمی اداروں میں کیسز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اعتماد میں لیں گے۔ اجلاس کے شرکا کو یہ بھی بتایا گیا کہ کیسز میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات قبل از وقت دے دی جائیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے اور طلبہ کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

این سی او سی نے شادی ہالوں سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کو گائیڈ لائنز جاری کیں کہ 20 نومبر سے کھلی فضا میں ہونے والی شادی کی تقریبات میں زیادہ سے زیادہ 500 افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی۔ اجلاس میں قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ بڑے عوامی اجتماعات اور جن شعبوں میں خطرہ زیادہ ہے وہاں پابندیاں عائد کی جائیں۔

این سی او سی کی جانب سے گزشہ ماہ کئی ماہ سے مساجد میں اختیار کیے جانے والے ایس او پیز کو سراہا تاہم یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ عمل درآمد میں اب کمی دیکھی جارہی ہے۔ اجلاس میں تجویز کیا گیا کہ  تمام عوامی اجتماعات، جن میں سیاسی، مذہبی، ثقافتی، اور دیگر جلسے شامل ہیں، ان میں شرکا کی تعداد کو 500 تک محدود کیا جائے۔ اس سے زائد کی شرکت پر پابندی لگا دی جائے۔

وفاقی اور صوبائی وزرا تعلیم کی مشاورت کے بعد موسم سرما کی قبل از وقت تعطیلات دینے اور اس میں اضافے سے متعلق فیصلوں پر عمل کیا جائے۔ رات میں 10 بجے کے بعد ریسٹورنٹس میں کھانے اور گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں مزاروں، سیمنا اور تھیٹرز کو فوری طور پر بند کردیا جائے۔ مارکٹس کو جلد بند کردیا جائے۔

واضح رہے کہ ملک میں  کووڈ 19 کیسز کی شرح ایک مرتبہ پھر 5 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ یومیہ مصدقہ کیسز 16 فیصد سے بڑھ گئے ہیں۔ سب سے زیادہ مصدقہ کیسز میں اضافہ آزاد جموں اور کشمیر میں دیکھا گیا جہاں یہ 16.71 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 8.71 فیصد، سندھ میں 5.39، پنجاب میں 4.46 فیصد اور گلگت بلتستان میں 3.24 فیصد تک کیسز بڑھ گئے۔ اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں کیسز میں بالترتیب 4.92 فیصد 4.61 فیصد تک کمی ہوئی۔