کسی کا نام لینا منع نہیں ہے: بلاول بھٹو زرداری
- بدھ 11 / نومبر / 2020
- 6030
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل تمام جماعتیں متحد اور متفق ہیں۔ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں کسی شخصیت کا نام لینے سے منع نہیں کیا گیا تھا۔
ہنزہ میں ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے ہونے پر زور دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی، تمام جماعتوں کی اپنی اپنی سیاست ہے۔ جمہوریت کی بحالی، اداروں کے آئینی و قانونی کردار ادا کرنے کے معاملہ پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اتفاق ہے۔
نواز شریف کے بیانیے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ایک ہے کہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم ہونی چاہیے۔ ہم سب پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے متحد اور ایک ہیں۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ پر کھڑے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں ہمارے نکات سب کے سامنے ہیں۔ تاہم اے پی سی میں نہ تو کسی کا نام لینے کا طے ہوا تھا لیکن کسی کا نام لینے سے منع بھی نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم کا ٹائم ٹیبل بڑا واضح ہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک کو کامیابی حاصل ہوگی۔ جنوری میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ ہوگا۔ فروری تک حکومت کو جانا پڑے گا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کو متنازع بنانے اور تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ غداری کے فتوے بانٹنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ عوام اس کارڈ کو جانتے ہیں۔ عمران خان کا بیانیہ کھوکھلا ہے، وہ نہ صرف قیادت بلکہ ہمارے کارکنان اور پاکستانی عوام کو کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہو تو غدار ہو۔ لیکن عوام جانتے ہیں کلبھوشن کو قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) دینے والا عمران خان ہے۔ نریندر مودی کے جیتنے کی دعا اور کشمیر کا سودا کرنے والا بھی عمران خان تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیانیہ ناکام رہے گا اور پی ڈی ایم کی تحریک کو کامیابی ملے گی کیونکہ ہم سچ اور جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ ہمیں بالآخر مفاہمت کی طرف جانا پڑے گا اور ایک کمیشن بنانا پڑے گا جو میثاق جمہوریت اور ہمارے منشور کا حصہ ہے۔ لیکن مذاکرات جائ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر یہ پارلیمان کی سرپرستی میں ہوں تو اس کا اسپیکر جو سلیکٹڈ ہے اور ڈکٹیشن پر چلتا ہے تو اس کی قیادت کو کوئی نہیں مانے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نظریہ ضرورت کے تحت عدالتی فیصلوں کی روک تھام کے لیے آئینی ترمیم ہونی چاہیے۔ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر پیش آئے واقعے پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کراچی واقعے پر ایکشن خوش آئند ہے۔ اس واقعے کے بعد آرمی چیف سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ نہ صرف تحقیقات ہوں گی بلکہ جو ملوث ہوئے ان کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کارروائی کی گئی جو ایک مثبت قدم ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے اداروں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ جمہوری قوتوں کو اچھے اقدام کو سراہنا چاہیے۔
گلگت بلتستان انتخابات سے متعلق انہوں نے دھاندلی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے اقدامات سے گلگت بلتستان کے انتخابات متنازع ہو رہے ہیں۔ واضح قانون کے باوجود وفاقی وزرا گلگت بلتستان میں گھوم رہے ہیں۔ ہم اُمید رکھتے ہیں جس طرح یہاں کے عوام ہمارا ساتھ دے رہے ہیں ہم تمام ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرکے کامیاب ہوجائیں گے۔