کیا جو بائیڈن امریکی سیاست میں خوش آئند تبدیلی لائیں گے؟
امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی پوری دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے لئے خوش آئند مانی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے کر جو بائیڈن امریکی صدارت کی کرسی حاصل کرچکے ہیں۔ جبکہ ٹرمپ نے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھائے ہیں۔.
انہوں نے انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایاہے مگر انہیں اس سے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ جو بائیڈین کی کامیابی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کے دوراقتدار میں عالمی سطح پر جو بدامنی، ناچاقی، سیاسی و تجارتی تعلقات میں کشیدگی اور اقتصادی و معاشی بدحالی پھیل گئی تھی، جو بائیڈن اس صورتحال پر جلد از جلد قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ امریکہ ٹرمپ کو ان کے غیر عاقلانہ فیصلوں، احمقانہ حرکتوں اور عالمی سیاست سے عاری سیاسی مداری کی حیثیت سے کبھی بھلانہیں پائے گا۔ انہوں نے امریکی عوام کو جو سنہرے خواب دکھائے تھے، ان کے پورے ہونے کی نوبت ہی نہیں آئی اور عالمی سطح پر بھی انہوں نے امریکہ کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ امریکی داداگیری اور اس کی طاقت کا دبدبہ ختم ہو چکاہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بائیڈن امریکی طاقت کے دبدبے کی بحالی اور عالمی سیاست پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے کون سی نئی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ قابل ذکر یہ ہے کہ ہند نژاد امریکیوں نے بھی بائیڈن کی کھل کر حمایت کی ہے۔ انہوں نے ’ہاؤ ڈی مودی‘ اور ’نمستے ٹرمپ‘ جیسے سیاسی اور ذاتی مفاد پر مبنی پروگراموں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ جس علاقے میں ’ہاؤ ڈی مودی‘ پروگرام منعقد ہوا تھا، وہاں بائیڈن کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔
امریکی ہندوستانی عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ جھوٹ اور فریب کی سیاست کو اکھاڑ پھینکنے میں یقین رکھتے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس پروگرام میں کھل کر ٹرمپ کی حمایت میں تقریر کی تھی۔ انہوں نے نعرہ دیا تھا کہ ’اس بار پھر ٹرمپ سرکار‘ ، مگر ٹرمپ کے حق میں وزیر اعظم مودی کی انتخابی تشہیر پر ہندوستانی عوام نے دھیان نہیں دیا۔ انہوں نے وہی فیصلہ لیا جو ان کے حق میں بہتر تھا۔ کیونکہ ٹرمپ کی وزیر اعظم مودی کے ساتھ دوستی سے ہندوستان کو کوئی خاص اور بڑا فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ دونوں کے تعلقات ذاتی نوعیت کے تھے جس کا ہندوستانی مفادات کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس کے باوجود بھکتوں کی ٹولی ٹرمپ کی شکست سے آزردہ خاطر ہے۔ انہیں لگتاہے کہ بائیڈن ان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوں گے۔ شاید انہیں علم نہیں ہے کہ ذاتی تعلقات اور دونوں ملکوں کی سالمیت پر مبنی سیاست دوالگ الگ چیزیں ہیں۔ امریکہ نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کیاہے۔ بارہا ٹرمپ نے بھی اس دوہرے رویہ کا اظہار کیا مگر وزیر اعظم مودی اپنی ٹرمپ نوازی میں ان کے اس دوہرے رویے سے چشم پوشی کرتے رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی احمقانہ اور بصیرت سے عاری سیاست نے مشرق وسطیٰ کو بھی کم نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ ایران اور چین کے ساتھ اس کے بگڑتے تعلقات پوری دنیا کے لئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بائیڈن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پرکیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی چین جیسے اقتصادی سپر پاور کے ساتھ امریکی تعلقات میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ یہ دو اہم باتیں ہیں جن پر دنیا کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ ٹرمپ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے جوہری معاہدہ سے فرار اختیار کیا تھا جبکہ عالمی سیاست کے پیش نظر یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ عالمی سطح پر ٹرمپ کے اس فیصلے کی بھر پور مخالفت کی گئی مگر انہوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی زحمت نہیں کی۔ ایران پر مسلسل معاشی پابندیوں کے اضافے نے ایرانی عوام کو امریکہ سے بددل کر دیا ہے۔ خاص طرپر عراق میں جنرل قاسم سلیمانی کے قافلے پر بزدلانہ اوردہشت گردانہ حملے نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھادی تھی۔
جوابی کارروائی میں ایران نے عراق میں واقع امریکی ’عن الاسد‘ ایئربیس پر میزائلوں سے حملہ کر دیا تھا جس میں امریکی فوج کا بھاری نقصان ہوا تھا۔ لہذا اب امریکہ ایران سے نرم گفتاری اور خارجہ سیاست میں تبدیلی کی امید نہیں کر سکتا جب تک اس کی طرف سے اس سلسلے میں پیش رفت نہیں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی روس کے بڑھتے ہوئے سیاسی و فوجی اثرات پر قابو پانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صہونیت نوازی بھی کسی سے مخفی نہیں رہی ہے۔ وہ اپنے داماد جارڈ کشنز کی محبت میں صیہونی سیاست کا بری طرح شکار ہوئے۔
عالمی سطح پر مسلمان امریکی سیاست سے بدظن ہو گئے ہیں اور یہ پہلی بار ہواہے کہ دنیا کے تمام مسلمانوں نے مشترکہ طور پر امریکہ کی دوغلی پالیسیوں کے خلاف آواز احتجاج بلند کی۔ اس مخالفت کو مسلمان ممالک کی حمایت سے الگ ہٹ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف یروشلم کو اسرائیلی پایہ تخت تسلیم کرنے کی امریکی سیاست کا اثر بھی مشرق وسطیٰ پر مرتب ہواہے۔ فلسطینی تنظیمیں اور فلسطین کے حامی دیگر ممالک بھی اس غیر سیاسی اقدام کے خلاف متحد ہوئے ہیں۔ ٹرعمپ کے داماد جارڈ کشنز کا ’صدی معاہدہ‘ فلسطینی عوام کے حقوق پر ڈاکہ تھا۔ مگر اسرائیل امریکہ کے تعاون سے اس معاہدہ کے نفاذ کے لئے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔ بائیڈن اس معاہدہ کے دورس نتائج سے باخبر ہیں۔ اس معاہدہ پر ان کا موقف عالمی سیاست پر اثر انداز ہوگا، اس لئے ابھی یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ جو بائیڈن فلسطین اور اسرائیل کو لے کر کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
عالمی و علاقائی مسائل سے ہٹ کر امریکہ کے داخلی مسائل بھی کم نہیں ہیں جن کو حل کرنا نومنتخب امریکی صدر کے لئے بڑا چیلینج ہوگا۔ کووڈ۔ 19 ابھی ختم نہیں ہواہے۔ اس وباسے امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور اموات کی شرح بھی قابل تشویش ہے۔ ٹرمپ نے کووڈ۔ 19 پر کبھی سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ کی طرح لاپروا اور غیر ذمہ دار نظر آئے جس کا خمیازہ امریکی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امگریشن قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس پر بائیڈن نے انتخابی تشہیر کے دوران بھی کھل کر بات کی تھی۔ نسلی و صنعتی مساوات امریکہ کے لئے ایک اہم موضوع ہے۔ اسقاط حمل کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے جس پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔ اقتصادی و معاشی بدحالی جو کورونا کے وبائی عہد میں اپنے عروج پر ہے، نیٹو ممالک سے تعلقات میں کشیدگی جس کی ساری ذمہ داری ٹرمپ کی غیر ذمہ دارانہ سیاست پر عائد ہوتی ہے، روس کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مد نظر سیاسی حکمت عملی کی ترتیب نو، پرانے اور نئے تجارتی معاہدات پر غوروخوض اور ایران و چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایسے مسائل ہیں جن پر جو بائیڈن کی خصوصی توجہ ہوگی۔
ظاہر ہے بائیڈن کے پاس الہٰ دین کا چراغ نہیں ہے کہ وہ ٹرمپ کی خراب کردہ صورتحال پر اچانک ایک آدھ دن میں قابوپالیں گے۔ لیکن اگر بائیڈن ان مسائل پر ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ کام کریں گے تو امید ہے کہ بہت جلد مثبت نتائج ظہور پذیر ہوں گے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)