نیب نے پرویز الہٰی کے خلاف تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کرلیا

  • جمعرات 12 / نومبر / 2020
  • 5960

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف عدم ثبوت کی بنا پر تحقیقات بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر، پراسیکیوٹر جنرل، ڈی جی آپریشن و دیگر افسران اور ریجنل بیوروز کے ڈائریکٹر جنرلز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز الزامات کی بنیاد پر شروع ہوتی ہیں جو حتمی نہیں ہیں۔ نیب قانون کے مطابق متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کے بعد مزید کارروائی کی جاتی ہے۔ ایگزیکٹو اجلاس میں مجموعی طور پر7 نئے ریفرنسز کی منظوری دی گئی۔

سابق وزیر صحت حکومت بلوچستان رحمت علی اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ٹھیکے دینے، بھرتیاں کرنے اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام پر ریفرنس دائر ہوگا۔ بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر محمد صادق عمرانی کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کی 5 ایکڑ اراضی اپنے نام الاٹ کرنے اور قومی خزانے کو 28 کروڑ 26 لاکھ روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

بلوچستان کے سابق سیکریٹری مائنز کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ ان پر قومی خزانے کو ایک کروڑ 10 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔  ضلع بنوں اور ٹانک میں ایف سی کی زمین غیر قانونی طور پر لیز پر دینے کے الزام میں سابق ضلعی افسران کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر پٹ فیڈر کینال توسیعی منصوبہ شیرزمان خان اور دیگر عہدیداروں پر قومی خزانے کو 59 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام پر ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ نیب نے نوشہرہ کے سابق ضلعی ہیلتھ افسران، انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بینک آف پاکستان گلگت کے سابق منیجر میراجان، سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گلگت قلب علی اور ضلعی کونسل کے متعدد سابق عہدیداروں پر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے الزام پر ریفرنس کی دائر کرنے کی منظوری دی۔

نیب کے ایگزیکیٹو بورڈ میں 6 مختلف انوسٹی گیشنز اور 3 انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن جبکہ پشاور اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور دیگر کے خلاف انکوائری عدم شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 466 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروایا۔ نیب نے راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے، جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیے کی سہولت موجود ہے۔