پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ انتقال کرگئے

  • جمعرات 12 / نومبر / 2020
  • 8670

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے باعث وفات پا گئے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ بیان کے مطابق چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا کے مرض میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔

خیبرپختونخوا بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار نے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے انتقال پر شدید دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کورونا کے باعث ان کی ہلاکت پر پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے کل یوم سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل عدالتوں میں صرف ارجنٹ اور انتہائی اہم نوعیت کے امور سرانجام دیے جائے گے۔ معمول کی کارروائی بند رہے گی۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے بی بی سی کو بتایا کہ عدلیہ ایک ایسے بہادر جج سے محروم ہو گئی ہے جس نے ملک میں طاقتور ترین ادارے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فیصلے کیے۔ ان کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کے لیے وکلا تنظیمیں کوششیں کر رہی تھیں۔ واضح رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایک درخواست بھی سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ کا جج بنا کر ان کی حق تلفی کی گئی ہے۔

چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔  وہ 16 مارچ 1961 کو ڈی آئی خان میں پیدا ہوئے۔  1977 میں کینٹ پبلک سکول پشاور سے میٹرک اور 1981 میں اسلامیہ کالج پشاور سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ 1985 میں خیبر لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی جبکہ 1986 میں پشاور یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے 1985 میں لوئر کورٹس سے اپنی وکالت کا آغاز کیا اور 1990 میں ہائی کورٹ میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں شروع کیں۔ مئی 2008 میں سپریم کورٹ میں وکالت شروع کی۔ ایڈیشنل جج کی حیثیت سے 2011 میں اپنی فرائض کی انجام دہی کا آغاز کیا۔

انہوں نے 28 جون 2018 کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حیثیت سے حلف اٹھایا اور اب بھی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعینات تھے۔ ان کے والد سیٹھ عبدالواحد سینیئر سیشن جج ریٹائرڈ ہوئے تھے جبکہ ان کے نانا خدا بخش پاکستان بننے سے پہلے 1929 میں بننے والی صوبے کی پہلی اعلیٰ عدالت میں جج رہے تھے۔ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے مطابق جسٹس وقار احمد سیٹھ ابتدا سے ہی روشن خیال انسان تھے اور انہوں نے لیبر لاز اور سروس لاز میں مہارت حاصل کی اور ساتھ ساتھ سول اور کریمنل کیسز بھی کرتے تھے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کا شمار خیبر پختونخوا کے ان ججوں میں ہوتا تھا جنہوں نے انتہائی اہم معاملات میں فیصلے دیے ہیں اور پشاور کے وکلا ان فیصلوں کو 'بولڈ' فیصلے سمجھتے ہیں۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایسے افراد کے مقدمات کی طرف زیادہ توجہ دی جو مالی حیثیت نہیں رکھتے یا ایسے مقدمات کو ترجیح دیتے رہے جن میں عام طور پر عدالتوں میں تاخیر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ 70 سے زیادہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف تمام درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ جسٹس سیٹھ نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے بڑے منصوبے بی آر ٹی کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو حکم دیا تھا کہ اس بارے میں تحقیقات مکمل کریں اور رپورٹ  پیش کریں۔

جسٹس وقار سیٹھ اس خصوصی عدالت کے سربراہ تھے جس نے سابق صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی تاہم اس فیصلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ملک کے سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی تھی جس کی بنیادی وجہ اس تفصیلی فیصلے کا پیراگراف نمبر 66 تھا جسے جسٹس سیٹھ نے تحریر کیا تھا۔

پیراگراف 66 میں بینچ کے سربراہ جسٹس سیٹھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ جنرل مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔

تاہم اس سے اگلے پیرگراف 67 میں اپنے اس حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے، اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہوگا یا نہیں اور کیسے ہوگا۔