پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام میں مشکلات کا سامنا

  • جمعہ 13 / نومبر / 2020
  • 5200

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پاکستان کے درمیان توسیعی امداد کے پیکیج کے بارے میں اختلاف موجود ہین جس کی وجہ سے ای ایف ایف کی سہولت فوری طور سے بحال نہیں ہوسکتی۔

پاکستانی حکام کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے مشکل معاشی صورتحال میں بجلی کی قیمتوں اور ریونیو میں اضافے جیسے مشکل چیلنجز کا سامنا ہے۔ فریقین اس وقت نظر ثانی شدہ اسٹکچرل بینچ مارک کے لیے وقت کی حد طے کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ چند معاشی اشاروں میں کچھ بہتری محسوس کرنے والے عناصر کو اہمیت دی جائے۔

باخبر ذرائع کے مطابق حکومت تعمیرات کے شعبے کے لیے سپورٹ پیکیج میں جون تک کی توسیع کرنا چاہتی ہے جس کی میعاد دسمبر میں ختم ہورہی تھی۔ کیونکہ اس سے صنعتی شعبے کی سرگرمیاں اور متعلقہ علاقوں میں نمو ہورہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر اور بہتر ترسیلات زر کی بدولت شرح تبادلہ کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔

محکمہ خزانہ کے خصوصی سیکریٹری اور ترجمان کامران علی افضل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے روزانہ کی بنیاد پر اسٹرکچرل بینچ مارکس اور ان کے ٹائم فریم کے بارے میں مشاورت ہو رہی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے متعلق دو اہم بلوں کی منظوری سے  ’پیش قدمی‘ ہوسکتی ہے۔ تاہم بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور ریونیو پیداوار میں اضافہ  ضروری ہوگا۔

بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور ریونیو سے متعلقہ چیزوں کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ وبائی امراض سے متاثر ہوئے تھے اور اہم چیلنج بنے ہوئے تھے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹرکچرل بینچ مارک کے جائزے میں ’جب تک فنڈ کے ذریعے چھوٹ نہیں دی جاتی ہے‘ پاکستان کو اس میں  پیشگی کارروائی کرنا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک بار جب ان مشاورتی مباحث نے واضح سمت اختیار کی تو آئی ایم ایف کا باقاعدہ جائزہ مشن ترتیب دیا جائے گا۔ کامران علی افضل نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے ملک کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ بصورت دیگر معاملات صحیح سمت میں جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 4 ماہ کے دوران ریونیو کی وصولی میں 7 اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور چند فصلوں میں بہتری سے بحالی کی ٹھوس علامات سامنے آئی ہیں۔  تاہم اس بات پر یقین کرنا ابھی جلد بازی ہوگی کہ مجموعی ترقی ہوئی ہے۔