امریکی صدارتی انتخاب میں ووٹنگ فراڈ کے شواہد نہیں ملے
- جمعہ 13 / نومبر / 2020
- 3980
امریکہ کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات 2020 میں ووٹنگ سسٹم میں خرابی یا بیلٹس کو چھپانے سے متعلق الیکشن سیکیورٹی حکام کو کوئی شواہد نہیں ملے۔
سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کامیاب قرار پائے ہیں جب کہ انتخابات میں دھاندلی، ووٹ غائب ہونے یا تبدیل ہونے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق انتخابات کے دو منتظم گروپس الیکشن انفرااسٹرکچر گورنمنٹ کوآرڈینیٹنگ کونسل ایگزیکٹو کمیٹی (جی سی سی) اور الیکشن انفرااسٹرکچر سیکٹر کورآرڈینیٹر کونسل (ایس سی سی) کا کہنا ہے کہ رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات امریکہ کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔ یاد رہے کہ ری پبلکن صدارتی امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ شواہد فراہم کیے بغیر مسلسل انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے۔
دوسری جانب جو بائیڈن نے آئندہ صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور کئی عالمی رہنماؤں نے اُنہیں امریکہ کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد بھی دی ہے۔ امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفرااسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات سے متعلق بہت سے دعوے اور گمراہ کن معلومات موجود ہیں۔ تاہم انتخابات کی خودمختاری اور اس کے درست ہونے سے متعلق ہم مطمئن ہیں۔
سی آئی ایس اے کے سابق سربراہ کرسٹوفر کربس امریکہ کے مایہ ناز سائبر سیکیورٹی افسر ہیں اور وہ صدارتی انتخابات سے متعلق گمراہ کن معلومات کی بیخ کنی کے لیے ایک ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں۔ انتخابات سے متعلق سیکیورٹی گروپس کا کہنا ہے جن ریاستوں میں ذبردست کا مقابلہ ہوا ہے، اُن تمام ریاستوں کے پاس پیپر ریکارڈ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر ووٹوں کی گنتی کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے کئی ریاستوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج کر رکھا ہے۔ اٹارنی جنرل ولیم بار نے وفاقی پراسیکیوٹرز کو اختیار دیا ہے کہ وہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج اب تک تمام ریاستوں سے موصول نہیں ہوئے۔ امریکہ کی 50 میں سے 47 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور ریاست ایریزونا، نارتھ کیرولائنا اور جارجیا سے نتائج تاحال آنا باقی ہیں۔
غیرحتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو بائیڈن 279 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے امریکہ کے 46ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں جب کہ صدر ٹرمپ نے 217 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
رواں برس ہونے والے امریکی انتخابات اس لیے بھی اہم تھے کہ کورونا وبا کے باعث لگ بھگ 10 کروڑ ووٹرز نے تین نومبر سے قبل ہی ارلی ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران جوبائیڈن اپنے حامیوں کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے پر زور دیتے رہے تھے جب کہ صدر ٹرمپ اپنے حامیوں کو الیکشن کے روز ووٹ ڈالنے کی تلقین کر رہے تھے۔ انہوں نے متعدد بار ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔