عالمی یوم ذیابیطس اور ہماری سماجی ذمہ داری
- تحریر غلام مرتضیٰ باجوہ
- جمعہ 13 / نومبر / 2020
- 5750
دنیا بھر میں ذیابیطس سے بچاؤ کا عالمی دن 14 نومبر کو منایا جاتا ہے، یہ فریڈرک بینٹنگ کا یوم پیدائش بھی ہے جنہوں نے انسولین ایجاد کی، اس طرح اس دن اس عظیم ماہر طب کو خراج تحسین بھی پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اس دن کا بنیادی مقصد ذیابیطس کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔
شوگر کی بیماری سے ہر4 سیکنڈ میں ایک شخص کی موت واقع ہو رہی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے ہونے والی اسی فیصد اموات کا تعلق غریب اور درمیانی طبقہ سے ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے، جہاں ذیابیطس کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں تقریباً 46 کروڑ30 لاکھ لوگ ذیابیطس کا شکارہیں۔ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ماہرین نے ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کے ذریعے میٹھی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لازم قرار دے دیا۔ڈ بلیوایچ او نے کہا ہے کہ ایک دن میں انسان کی ضرورت 5 سے 10 چمچ چینی ہوتی ہے۔موٹاپے اور دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ بھی میٹھے کا غیرضروری استعمال ہے۔
پاکستان میں تقریباً 17.1 فیصد نوجوانوں میں ذیابیطس کامرض پھیل چکا ہے۔آئی ڈی ایف اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شوگر کی بڑھتی ہوئی خطرناک شرح کے پیش نظر عوام میں شوگر سے بچاؤ اور بروقت علاج کے لیے عام آگہی پیدا کرنے کیلئے پہلی بار 1991 کو شوگر کا عالمی دن منایا تھا۔شوگر عالمی دن پر طبی ماہرین لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ یہ کن عام وجوہات سے ہوتی ہے اور اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے۔ طبی ماہر ین کے مطابق شوگر کی بنیادی وجوہات”موٹاپا“غیر صحت مندانہ طرزِ زندگی،خاندان میں شوگر کے مرض کا عام ہونا،غیرمتوازن غذا، بڑھتی ہوئی عمر،بلڈ پریشر، خون میں چکنائی کا عدم توازن کے بارے میں بتانا اور تحفظ اور باقاعدگی سے علاج کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں غیر متعدی امراض سے فوت ہونے والوں کی تعداد متعدی امراض سے فوت ہونے والوں سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ غیر متعدی امراض میں شوگر سرفہرست ہے۔ یہ شرح 1998میں شائع ہونے والے پہلے سروے سے 22 اعشاریہ 4 فیصد زیادہ ہے۔ ایک خطرناک پہلو جو اس سروے میں سامنے آیا وہ ایسے مریضوں کا ہے جو بیماری لاحق ہونے کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ ان کی شرح تقریباً 15 فیصد ہے، یعنی یہ وہ مریض ہیں جو شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے قریب ہیں اور اگر یہ ان عوامل پر توجہ نہیں دیتے تو چند سالوں میں شوگر کے مرض مبتلا ہوجائیں گے۔
گزشتہ سال طبی سروے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شوگر کی وجہ سے ہر 5سیکنڈز میں دنیا میں کہیں نہ کہیں ایک فرد اپنی جان کھو بیٹھتا ہے۔شوگر ایک ایسا مرض ہے جو کم و بیش جسم کے ہر نظام کو متاثر کرتا ہے، اس کے اثرات فرد سے لے کر معاشرے تک محیط ہیں، شوگر جسمانی، ذہنی، سماجی اور معاشی لحاظ سے انسانی معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے، ڈاکٹر اور مریض کے بعد معاشرے میں خاندان پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مریض اور مرض دونوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔خاندان شوگر کے انفرادی کنٹرول میں اہم کردار کرسکتا ہے، تاہم خاندان کے افراد کی جانب سے شوگر کے بارے میں کم علمی اور خاندان کی خستہ معاشی حالات کی وجہ سے خاندان بھی شوگر کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔خاندان میں شوگر کے بارے میں مناسب علم ہونے کے باعث ایسے افراد کی نشاندہی اور تشخیص بر وقت عمل میں لائی جاسکتی ہے جن میں شوگر میں مبتلا ہونے کے شدید عوامل موجود ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ادویات، فیسیں اور ٹیسٹ مہنگا ہونے کے باعث بہت سے افراد علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ صحت کے وسائل سب جو دستیاب ہوں۔ شوگر کی تشخیص ہوتے ہی اس کا بروقت علاج کرنا چاہیے۔ نارمل غذا، روزانہ ورزش اور روزمرہ امور بھی تبدیلی شوگر کا مرض 58 فیصد کنٹرول کرسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بیماری کا علاج اس وقت کروایا جاتا ہے جب وہ سنگین ہوجائے، عمومی طور پر بیماریوں کی حساسیت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ایشیا اور پاکستان یورپ میں صحت کی حفاظت کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں جبکہ اس شعور میں پاکستانی اپنے ہمسایوں سے بھی پیچھے ہیں۔ مقامی سطح پر بیماریوں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا چاہیے، علما کرام کی مدد سے معاشرے میں آگاہی فراہم کرنا بھی ذیابطیس جیسی بیماریوں کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔