مزار قائد اور آئین کی حرمت ؟

چوہدری سردار محمد ایک دانشور آئی جی پنجاب پولیس تھے۔ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے انسان۔ درویش کی ان کے ساتھ اپنائیت اوربے تکلفی تھی اس لئے ان گنت یادیں ہیں۔

کوئی تین دہائیاں پرانی بات ہے کہ نارنگ منڈی کے گائوں جنڈیالہ کلساں ایک تقریب میں شرکت کیلئے لاہور سے اکٹھے جانے اور آنے کا پروگرام بنا۔ پورے سفر میں بحث کا موضوع ون پوائنٹ ایجنڈا تھا: پولیس بمقابلہ آرمی، جسے آج کل اسٹیبلشمنٹ بولا جاتا ہے۔ خاکسار تب روایتی پاکستانی سوچ یا مطالعہ پاکستان کے زیر اثر یہ سمجھتا تھا کہ ساری خرابیاں پولیس میں ہوتی ہیں۔ یہ بڑے رشوت خور اور کرپٹ لوگ ہوتے ہیں۔ ہمارا تمام سماجی بگاڑ انہی کی یا پھر کچھ مولویوں کی وجہ سے ہے۔ ان کے بالمقابل پاک اسٹیبلشمنٹ کو سلام۔ تمام پاکیزگی، امانت، دیانت، نیکی، پارسائی، خوبی و صلاحیت انہی میں ہے۔ ان کے دم سے  یہ ملک قائم ہے۔ یہ نہ ہوں تو قوم بھی نہ ہو بلکہ قومی شیرازہ بکھر جائے اپنے بیگانے سب ہمیں کھا جائیں۔ ہم رات کو سو کر صبح اگر زندہ سلامت اٹھتے ہیں تو ان محافظوں اور پاسبانوں کے جاگنے کی وجہ سے۔ یہ دنیا کی لمبرون ہے ان کے بالمقابل انڈیا کیا امریکی فورس بھی ہیچ ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ناچیز کے ان وچاروں پر چوہدری صاحب نے بالتفصیل جو دلائل دیے کم از کم اس وقت یوں محسوس ہوا کہ جیسے چوہدری صاحب مغربی نہیں مشرقی پنجاب کے آئی جی ہوں یا زیادہ صاف الفاظ میں انڈیا کےایجنٹ ہوں۔ اس کالم میں چوہدری صاحب کے وہ دلائل تحریر کر بھی دیئے جائیں تو کسی صورت شائع نہیں ہو سکیں گے۔  کئی برسوں بعد جب چوہدری صاحب کی کتاب آئی جو انہوں نے درویش کو محبت بھرے الفاظ لکھتے ہوئے عنایت فرمائی، اس میں وہ باتیں کافی حد تک آ گئی ہیں۔ احباب کو مشورہ ہے کہ موقع ملے تو صورتحال کی اصلیت سمجھنے کے لئے چوہدری صاحب کی اس کتاب کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔ آج رات اپنے اس شفیق مرحوم دوست کے درد مندانہ الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے۔ جب مہربانوں کی اس انکوائری رپورٹ کے متعلق پڑھا جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہاں آئی جی سندھ پولیس کو رات گئے اغوا کیا گیا تھا لیکن یہ کارروائی ماتحت افسروں نے کی تھی۔

ترجمان کے مطابق مزار قائد کی بے حرمتی پر قانون کے مطابق کارروائی کیلئے عوام کا شدید دباؤ تھا۔ آج آئی ایس آئی اور رینجرز کے ان افسران نے جذباتی ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ متعلقہ افسران نے تیزی سے بدلتی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سندھ پولیس کےطرز عمل کو اپنی دانست میں ناکامی و سست روی کا شکار پایا۔ متعلقہ افسران کو ایسی صورتحال سے گریز کرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسران کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے جنرل صاحب کے اقدام کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی کا اعتراف کرنے سے ادارے کےوقار میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماتحت افسروں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور اصل ذمہ داران کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہماری نظر میں اس فیصلے پر اعتراضات کی جتنی بھی گنجائش موجود ہے، بہرحال مجموعی طور پر اسے خوش آئند فیصلہ ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ جنرل صاحب نےبلاول بھٹو کے ساتھ افسوسناک واقعہ کے حوالے سے جو وعدہ کیا تھا انہوں نے اسی کا پورا خیال رکھا ہے۔ اور اپنے ماتحت ادارے کےافسران کی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ہٹا کر ایک طرح سے سزاہی دی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ ورنہ یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا رہا جس پر بات کرنے کا بھی کسی میں یارا نہیں ہے۔

انصاف سے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ اتنا بڑا تھا بھی نہیں جس پر اس قدر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔ بانی پاکستان کوئی فوجی آدمی نہیں تھے۔ وہ اول و آخر ایک عوامی و جمہوری رہنما تھے۔ ان کے مقبرے پر اگر کوئی پاکستانی شہری یا عوامی نمائندہ ان کے آدرشوں کی عین مطابقت میں اپنے دکھ درد کا اظہار کرتا ہے۔ اس سے ان کی روح افسردہ نہیں، آسودہ ہو گی۔ ان کی روح اس وقت پریشان ہو گی جب عوامی و جمہوری جدوجہد سے بنائے گئے ان کےملک میں کوئی آئین سے ماورا اقدام کرے گا۔ جمہوریت کا گلا گھونٹے گا، عوامی حقوق اور آزادیوں پر ڈاکہ ڈالے گا، آئین میں دیے گئے انسانی حقوق اور تقریر و تحریر کی آزادیوں پر قدغن لگائے گا، تب جناح صاحب کی روح ضرور تڑپے گی۔ اورتڑپنی بھی چاہئے کیونکہ یہی ان کی اور ان کےمقبرے کی اصل توہین ہو گی۔ ان کی سوچ فکر اور جدوجہد کی تذلیل ہو گی۔ جس وقت ان کی بہن فاطمہ کو انڈیا کی ایجنٹ اور غدار قرار دیا جا رہا تھا  اور اس کی ایف آئی آر بھی درج نہ ہوئی تب ان کی روح تڑپی ہوگی۔

اگر جنرل یحییٰ خان نے آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے لگانے والوں کو روکنے کے لئے کوئی آمرانہ قانون سازی کی بھی تھی تو جمہوری ادوار میں اس کا تیاپائنچہ ہو جانا چاہیے تھا۔ عوام کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے دکھوں کا اظہار کرتے ہوئے اپنے قائد کے مقبرے پر رو سکیں۔ ووٹ کو عزت دو اور محترمہ فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے لگا سکیں۔ اگر اس نوع کے نعرے قائد کے حضور نہیں لگائے جا سکتے تو کیا پھر ایوب اور ضیاء کے مقبروں پر لگائے جائیں، ظلم کے آمرانہ کالے قوانین کے خلاف ہر عہد میں آوازیں اٹھانے والے قابل قدر گردانے گئے ہیں۔

 ایف آئی پر اتنا شدید رد عمل کہ آئی جی سندھ کو رات گئے جبری اٹھایا جائے،

پاپولر عوامی قیادت اور وہ بھی قوم کی ایک بیٹی کے کمرےکا دروازہ توڑا جائے، یوں ملزم کو گرفتار کر کے جیل لے جایا جائے اور اس سے بھی بڑھ کر وہ لیڈران جو آئی جی سندھ کی توہین پر ہنستے ہوئے اس کا مذاق اڑا رہے تھے اور دوسری طرف ایک لیڈر کے غیر موجود بھانجے کی طرف سے ایف آئی آر میں جعلی طور پر میں جان سے مار دینے کی دھمکیوں کے الزامات ڈلوائے جا رہے تھے۔ اس ساری جگ ہنسائی کو سوائے افسوسناک کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

الحمدللہ آج حمود الرحمن کمیشن رپورٹ یا ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ نہ سہی ، بلوچستان سے اٹھائے گئے نامعلوم افراد  کی رپورٹ نہ سہی، کم از کم آئی جی سندھ کے اغوا کی رپورٹ پر تو کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ اسی طرح حال ہی میں ہمارے وزیر داخلہ نے جو قطعی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا تھا، پھرخٹک صاحب کو ساتھ لے کر باچا خاں سنٹر پہنچتے ہوئے نہ صرف یہ کہ شہید کے والد محترم بلکہ اے این پی کی قیادت سے اپنی غلطی کی معافی مانگی ہے، اس کی ستائش ہی کی جانی چاہیے۔

امید کی جانی چاہیے کہ آئندہ ایسے لیڈران ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے بولنے سے پہلے تولیں گے۔ گلگت بلتستان میں بھی اس نوع کی جو زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ امید ہے ہمارے طاقتور اس کے مضمرات کا بھی ادراک و احساس فرمائیں گے اور سب کو یہ ہدایت فرمائی جائے گی کہ آئین، قانون اور اخلاقی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔آخر میں ہم ضمیر کے قیدی میر شکیل الرحمن کی طویل قید و بند سے رہائی پر ،ان کو اور آزادی اظہار پر ایمان رکھنے والے ان کے لاکھوں پروانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔