چند لوگوں کی آئین شکنی کا الزام پوری فوج کو نہیں دے سکتا: نواز شریف

  • جمعہ 13 / نومبر / 2020
  • 4400

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے چند لوگوں کی لاقانونیت اور آئین شکنی کا الزام پوری فوج کو نہیں دے سکتا۔ اسی لئے افراد کے نام لئے ہیں۔

سوات میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ کچھ عرصے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف تعمیر و ترقی کا سلسلہ رک گیا ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ (ن) نے ڈالی تھی دوسری طرف مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت نے جینا محال کردیا ہے۔ ہماری حکومت نے عوام کے لیے بہت کچھ کیا، جب ترقی کے کام ہوتے ہیں تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، خوش حالی آتی ہے اور کسان کی حالت بہتر ہوتی ہے۔ جو ہم نے کرکے دکھایا۔

حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادویہ بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں اور لوگوں کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ روٹی خریدیں یا دوا خریدیں یا پھر بچوں کے اسکول کی فیس ادا کریں یا ان کے کتابیں خریدیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں اتنی زیادہ بڑھ گئی ہیں اور روپیہ خطے میں سب سے کمزور ہوگیا ہے۔ افغانستان میں 40 سال کی جنگی تباہ کاریوں کے باوجود ان کی کرنسی روپیہ سے بہتر ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ اس لیے ہؤا ہے کہ ایک نااہل، بدعنوان اور کٹھ پتلی ٹولہ مسلط کر دیا گیا ہے جو عوام کو نہیں بلکہ کسی اور کو جواب دہ ہے۔ اس کو عوام کی نہیں بلکہ کسی اور کی خوشنودی چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کی فتح کو شکست میں بدلنے اور اپنے لاڈلے کو اقتدار میں لانے کے لیے اس ملک میں جو کچھ ہوا ہے، وہ قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے اور میرے خاندان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر دکھ نہیں لیکن صرف نواز شریف سے عداوت کی بنیاد پر جس طرح اس ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی، 22 کروڑ عوام کو ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور جس طرح نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا گیا اس کا جواب کون دے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ یا جنرل فیض حمید جواب دیں کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا اور انہوں نے پاکستان کو تباہی کے گڑھے میں کیوں پھینکا؟

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پھر کہتے ہیں نواز شریف ہمارا نام کیوں لیتا ہے تو پھر میں کس کا نام لوں۔ میں چند آدمیوں کی لاقانونیت اور آئین شکنیوں کا الزام پوری فوج کو نہیں دے سکتا اور کیوں دوں۔ ٹھیک ہے جنرل باجوہ اور جنرل فیض آپ نے اپنی مرضی کی جے آئی ٹی تو بنوالی، اس کے فیصلے بھی آپ نے حاصل کرلیے اور نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹوا بھی دیا۔ مجھے، شہباز شریف، مریم نواز، میرے خاندان اور پارٹی کے لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا۔ میڈیا کے ذریعے ہماری کردار کشی اب بھی جاری ہے۔ اگر معاملہ یہی تک رہتا تو چلیں کوئی بات نہیں تھی لیکن سب عوام کو غربت، مہنگائی  میں دھکیلنے کا جواب کسی نہ کسی کو تو دینا پڑے گا اور دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میرا تو جرم تھا کہ میں پاکستان کے عوام کی حکمرانی، آئین، جمہوریت کے اصولوں اور اپنے حدود کے اندر رہنے کی بات کرتا تھا لیکن عوام کا کیا قصور تھا۔ عوام سے روزگار اور روٹی کا نوالہ کیوں چھین لیا گیا؟ بچوں سے تعلیم کیوں چھین لی گئی؟ دوا اور علاج کی سہولتیں کیوں چھین لی گئیں اور عوام کا عزت سے رہنا کیوں مشکل بنا دیا گیا؟ اس کا جواب میں صرف عمران خان سے نہیں مانگتا بلکہ اس کو لانے والوں سے مانگتا ہوں کیونکہ وہ تو کٹھ پتلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کو ہلانے والی انگلیاں اس ظلم و جبر کا حساب دیں گی۔ کراچی میں کس طرح سندھ پولیس کے سربراہ  کو رات گئے گھر سے اغوا کرکے یرغمال بنایا گیا اور پھر ایک بے بنیاد اور غیرقانونی ایف آئی آر کاٹنے کا حکم دیا گیا۔ اور مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے کمرے کو توڑا گیا اور صفدر کو گرفتار کیا گیا۔ اس شرم ناک رویے پر سندھ پولیس نے اپنا ردعمل دیا۔ اس پر جنرل باجوہ نے خود انکوائری کروانے کا اعلان کیا، اب ایک پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے کہ انکوائری مکمل ہوگئی اور ذمہ داروں کو موجودہ ذمہ داروں کو ہٹا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ یہاں حکومت کے اوپر ایک حکومت ہے، ریاست کے اوپر ایک ریاست ہے تو کیا کراچی کے واقعے نے میرے مؤقف کو سچ ثابت نہیں کیا؟ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پہلے یہ تو دیکھیں کہ کیا ایف آئی آر کٹوانا آئی ایس آئی اور رینجرز کا کام اور ذمہ داری ہے؟ اگر پولیس بے بنیاد اور غیرقانونی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردے تو کسی ادارے کو یہ حق ہے کہ یہ بندوق کے زور پر آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کو اغوا کرلے۔ کیا کسی مہذب ملک میں ایسا ہوسکتا ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ چادر اور چار دیواری کی توہین کی کوئی ایسی مثال کسی ملک میں مل سکتی۔ اس رپورٹ پر نظر ڈالیں تو یہ رپورٹ نہیں بلکہ یہ پریس ریلیز ہے بلکہ میں کہوں گا کہ یہ ان کے اپنے خلاف ایف آئی آر ہے۔ کہا گیا کہ مزار قائد کی بے حرمتی کی گئی اور افسروں کے جذبات بھڑکائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کے مزار کا احترام کرتے ہو تو قائد اعظم کے نظریات کا بھی احترام کرو، ان کا احترام کیوں نہیں کرتے۔ قائد اعظم کی تعلیمات کی بے حرمتی کیوں کرتے ہو۔ یہ جذبات اس وقت کیوں جوش نہیں مارتے جب آئین پر حملہ ہوتا ہے۔

یہ جذبات اس وقت کیوں جوش نہیں مارتے جب جمہوریت پر حملہ ہوتا ہے، جب ایک ملک کی حکومت پر شب خون مارا جاتا ہے، عوام کے منتخب وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کیا جاتا ہے اور ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں تو اس وقت یہ جذبات جوش کیوں نہیں مارتے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ جذبات اس وقت جوش کیوں نہیں مارتے جب دھرنے دیے جاتے ہیں اور دھرنے کروائے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے سینے میں دل نہیں، کیا ہمارے اور آپ کے جذبات کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ چند لوگوں کے جذبات میں ابال آتا ہے تو آئی جی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، کسی جرنیل کا خون جوش مارتا ہے تو وزیراعظم کو اٹھا کرجیل میں ڈال دیتا ہے اور خود حکومت پر قابض ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے جذبات میں گرمی آتی ہے تو کسی صحافی کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ پریس ریلیز جاری کرنے والوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ کس کو کیا پیغام دیا جارہا  ہے۔ نواز شریف کی ملکی مفاد میں نصیحت پر غدار قرار دیا جاتا ہے لیکن آج تم اپنے اداروں کا نام لے کر دنیا کو بتارہے ہو کہ ہمارے افسران جذبات میں آکر کسی وقت کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ایسے میں انہیں نہ تو آئین اور قانون کا خیال آتا ہے اور نہ ہی اپنے حلف کا اور نہ ہی فوج کے ادارے کا اور نہ ہی کسی چین آف کمانڈ کا خیال آتا ہے۔ اور جذبات کی رو میں بہہ کر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اس بڑے معاملے کو دو اداروں کے درمیان غلط فہمی کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ صوبائی پولیس کے سربراہ کو گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کرنے کا ذکر ہی نہیں، ان افراد کے نام تک نہیں بتائے گئے جس نے یہ کام کیا۔ اس لیے کہ یہ نام مقدس ہیں۔ یہ صرف سیاست دان ہی ہیں، ان کے نام کے ساتھ چور، ڈاکو اور غدار لگا دیتے ہیں۔ ہماری کردار کشی کرو، جیلوں میں ڈالو، ہمارے ناموں کو گالی بنادو لیکن میں آپ کو بتادوں کہ اب ایسے نہیں چلے گا اور نہ چلنا چاہیے۔ حاضر سروس ججوں کے خاندانوں کی تضحیک کی جاتی ہے، صحافیوں کے نام لے کر نشانہ بنایا جاتا ہے اور آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے والوں کے نام لے کر ان کی تضحیک کی جائے گی تو پھر ان سب کے نام بھی ضرور لیے جائیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ میں اس پریس ریلیز کی ایک مرتبہ پھر پر زور مذمت کرتا ہوں اور اسے مسترد کرتا ہوں۔ یہ انکوائری رپورٹ نہیں ہے بلکہ ایک من گھڑت افسانہ ہے، جس میں کسی سوال کا جواب دینے کے بجائے بے شمار نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واردات کا حکم دینے والے اصل کرداروں پر پردہ ڈال کر آلہ کار بننے والوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔ اس نے بے حد نقصان پہنچایا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ اسی کو ریاست کے اوپر ریاست کہتے ہیں، اسی کو حکومت کے اوپر حکومت کہتے ہیں۔ یہی چیزیں میرے اور آپ کے پاکستان کو آگے بڑھنے نہیں دے رہی ہیں اور پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ یہ ہمارے لیے گھاٹے کا سودا ہے۔ روک ٹوک کرنے والے اور آئین پر چلنے کی تلقین کرنے والے وزیراعظم اور سیاست دانوں کو عبرت کا نشان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ہماری کسی ادارے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ بلکہ ہم اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ہم نے ہمیشہ اداروں کو مضبوط کیا ہے اور میں نے افواج پاکستان کو مضبوط کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔  ہم اداروں اور اہلکاروں کو آئین کا احترام کرنے کو کہتے ہیں۔ وہی بات کہتے ہیں جو قائد اعظم نے کہی تھی، وہی بات کرتے ہیں جو آئین میں لکھی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ انتخابات میں دھاندلی بند ہونی چاہیے، عوام کے ووٹ کی عزت ہونی چاہیے اور ووٹ کو عزت دو کا بھرپور نعرہ لگانا چاہیے۔