کشمور واقعہ میں ملوث شخص کو گرفتار کروانے والے پولیس افسر کو وزیراعظم کا فون
- ہفتہ 14 / نومبر / 2020
- 8550
وزیر اعظم عمران خان نے کشمور واقعے میں ملزم کی گرفتاری کے لیے جال بچھانے کےلیے اپنی بیٹی کو پیش کرنے والے پولیس اے ایس آئی محمد بخش بروڑو اور ان کی بیٹی سے فون پر بات کی ہے۔ اور ان کے مثالی قدم اور جرات کی تعریف کی۔
ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے لکھا ہے کہ میں نے اے ایس آئی محمد بخش بروڑو اور ان کی بیٹی سے بات کی اور کشمور ریپ کے ملزم کی گرفتاری میں ان دونوں کے مثالی قدم اور جرات کو سراہا۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ انہوں نے پولیس کی ساکھ کو بھی سہارا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام نقائص کو دور کریں گے۔ آئندہ ہفتے ریپ کے خلاف ایک سخت اور ٹھوس قانون لارہے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ایک شخص رفیق ملک نے نوکری کا جھانسہ دے کر کراچی سے تعلق رکھنے والی خاتون اور ان کی کمسن بیٹی کو کشمور بلانے کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ ملزمان نے خاتون کی 5 سالہ بیٹی کو یرغمال بنا لیا تھا اور اسے چھوڑنے کے لیے دوسری خاتون کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے اے ایس آئی کی بیٹی کے ذریعے جال بچھایا اور اسے گرفتار کرلیا جبکہ ملزم خیر اللہ بگٹی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے تھے۔ تھانہ کشمور کے ایس ایچ او اکبر چنا نے بتایا تھا کہ ہمارے اے ایس آئی محمد بخش بروڑو نے اپنی اہلیہ کو رفیق ملک سے فون پر بات کرنے کو کہا۔ جس کے بعد کراچی کی خاتون اے ایس آئی کی بیٹی کے ساتھ کشمور میں ایک پارک میں رفیق سے ملنے پہنچی۔
جب رفیق ملک وہاں پہنچا تو پولیس نے اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد وہ پولیس کو اس مقام پر لے کر گیا جہاں بچی کو رکھا گیا تھا۔ گزشتہ روز سندھ اور بلوچستان کی صوبائی سرحد کے قریب ضلع کشمور کے علاقے آر ڈی 109 میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ماں اور کمسن بچی کا ریپ کرنے والا مرکزی ملزم ملک رفیق اپنے ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔
پولیس ذرائع اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملک رفیق کو شریک ملزم خیراللہ بگٹی کو گرفتار کرنے کے لیے بلوچستان اور سندھ کے صوبائی سرحد میں بخش پور تھانے کی حدود میں واقع علاقے میں لے گئی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس کے پہنچتے ہی خیراللہ بگٹی نے فائرنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں ملک رفیق موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ خیراللہ بگٹی کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا۔