بھارتی انٹیلی جنس پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے: حکومت اور پاک فوج کی پریس بریفنگ

  • ہفتہ 14 / نومبر / 2020
  • 5260

کشمیر کی ایل او سی پر فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات کے ایک روز بعد پاکستان کے اعلیٰ حکام نے بھارت الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں غیر مستحکم صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کررہاہے۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس پریفننگ کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک ڈوزیئر پیش کیا اور کہا کہ ان کے پاس اس بات کے ’ناقابلِ تردید شواہد‘ ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں میں بھارت اور اس کے انٹیلیجنس ادارے ملوث ہیں۔

ماضی میں انڈین حکام پاکستان کی جانب سے عائد کردہ  الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

ایک روز قبل پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ دفترِ خارجہ میں ایک گھنٹے کی پریس بریفنگ کے دوران وزیرِ خارجہ اور پاکستان فوج کے ترجمان نے مختلف دستاویزات کو یکجا کر کے دعویٰ کیا کہ بھارت کن علاقوں میں کون سے گروہوں کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں ثبوت پیش کرنے کا کہا جاتا ہے۔ آج ہم بین الاقوامی سطح پر تمام تر ثبوت یکجا کر کے انڈیا کے عزائم کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ مزید خاموش رہنا پاکستان کے مفاد میں نہ ہوگا۔ اور اس خطے کے امن اور استحکام کے مفاد میں بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان نے دہشتگردی کے نتیجے میں بہت نقصان اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2001 سے 2020 تک پاکستان میں دہشت گردی کے 130 حملے ہوئے ہیں۔ اور 83000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 32000 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں انڈیا ملوث ہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے ابھی تک اس الزام کا جواب نہیں دیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں 126 ارب ڈالرز کا مالی نقصان پہنچا ہے۔ بھارت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا رہا ہے۔ وہ گرد و نواح کے علاقوں کا بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے الزام عائد کیا کہ انڈیا نے ان تمام دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی سنبھالی ہے جنہیں پاکستان سے ختم کردیا گیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عسکریت پسندوں کے ذریعے صوبے میں شورش پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب بھی یہ کوششیں ہورہی ہیں۔ کراچی میں الطاف حسین کی جماعت سے منسلک عسکریت پسندوں کو اسلحہ دے کر انڈیا کی جانب سے ان گروہوں کی مالی اعانت کی جاتی رہی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے الزام لگایا کہ بھارت تمام تر دہشت گرد گروہوں سے روابط قائم کرکے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کا ایک مشترکہ اتحاد بنارہا ہے۔  ان میں قوم پرست جماعتوں سے منسلک پاکستان مخالف گروہ بھی شامل ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان کی جماعت الحرار اور حرکت الانصار سے اگست 2020 میں دوبارہ اتحاد بننے کے بعد انڈیا اب ان کا ایک مشترکہ اور وسیع اتحاد بنارہا ہے۔ ان میں  بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان رپپبلکن آرمی سے منسلک علیحدگی پسند گروہ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تمام تر گروہوں کی حمایت کرنے والا اور ماسٹر پلانر افغانستان کے سفارتخانے میں موجود انڈین انٹیلیجنس افسر کرنل راجیش ہے۔  اس بات کی تصدیق بیشتر دیگر ثبوتوں کے علاوہ فارسی میں لکھے ایک خط سے ہوئی جس سے پتا چلا کہ کرنل راجیش نے ان کالعدم گروہوں کے کمانڈروں سے چار مرتبہ رابطہ کیا ہے۔ تاکہ کراچی، لاہور اور پشاور میں نومبر اور دسمبر کے ماہ میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ انڈین انٹیلیجنس ایجنسی’داعشِ پاکستان‘ کے نام سے تنظیم بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔  حال ہی میں انڈین داعش کے 30 مسلح اہلکاروں کو پاک افغان سرحد کے نزدیک موجود کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ بھارت نے  نے پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کے لیے 700 دہشت گردوں کے ایک گروہ کی مالی اعانت کرکے بلوچستان میں دہشت گرد حملے کرنے کا پلان بنایا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیسوں کی منتقلی کے چار شواہد ملے ہیں جس میں دو کروڑ 33 لاکھ  ڈالر دیے گئے تھے۔ ایک اور ثبوت سے واضح ہوا ہے کہ 50 لاکھ ڈالرز ایک قوم پرست جماعت کو بلوچستان میں شورش پیدا کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ سرفراز مرچنٹ اور طارق میر کے اعترافی بیان سے پتا چلا کہ انڈین انٹیلیجنس ایجنسی را الطاف حسین گروپ کی مالی مدد کرتا تھا۔ یہ مالی مدد دو کمپنیوں کی مدد سے ہوتی تھی جن میں جے وی جی ٹی اور پارس جیولری گروپ شامل ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں کی طرف سے جاری کردہ 32 لاکھ ڈالر کے ثبوت فوج کے پاس موجود ہیں۔

حالیہ دنوں میں دہشت گردی میں ملوث چھ گروہوں کا پتا چلا ہے جو رواں سال 29 جون کو پاکستان سٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے میں ملوث ہیں۔ اور خودکش بمباری میں استعمال ہونے والے جیکٹس مختلف دہشت گردی میں ملوث گروہوں تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔  را کے دو ایجنٹ عبدالوحید اور عبدالقادر سمیت چار افغان شہریوں کے بارے میں بھی فوج کو معلوم ہے۔ را نے اس گروہ میں ملوث افراد کو ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور خودکش بمباری کرنے کے لیےدو کروڑ اور دس لاکھ پاکستانی روپے دیے ہیں۔

الطاف گروپ سے منسلک ٹارگٹ کلر اور کارکن اجمل پہاڑی کے اعترافی بیان کے مطابق انڈیا نے دہشت گردی کی ٹریننگ کے لیے چار کیمپس دہرادون، ہریانہ، شمالی انڈیا اور شمال مشرق انڈیا میں بنائے ہیں۔ جہاں طور پر دہشت گردوں کی ٹریننگ کرنے کے بعد ان کو پاکستان بھیجا جاتا ہے۔  مئی 2019 میں عسکریت پسند گروپ بی ایل اے اور بی ایل ایف نے گوادر کے پرل کانٹینینل ہوٹل پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار دہشتگردوں سمیت پانچ شہری ہلاک ہوئے۔

فوجی ترجمان نے بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ یہ پلاننگ را کے افسر انوراگ سنگھ نے کی تھی۔ جس کے لیے را کی طرف سے انہیں کارروائی کرنے کے لیے پانچ لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے۔ بریفنگ کے دوران بلوچ عسکریت پسند گروپ سے منسلک ڈاکٹر اللہ نذر کی آواز کی ریکارڈنگ چلائی گئی جس میں وہ مبینہ طور پر اسلم اچھو سے حملے سے متعلق باتیں کر رہے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق اللہ نذر کے دیگر ساتھی گوادر ہوٹل پر حملے کے دوران مبینہ طور پر انڈین حملہ آوروں سے فون پر رابطے میں تھے۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ انڈیا گلگت بلتستان کی عارضی حیثیت کو بدلنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششوں میں بھی مصروفِ عمل ہے۔ اور 20 نومبر کے بعد گلگت بلتستان اور اس سے منسلک خطے میں بڑے اجتماعات پر حملہ کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی بڑی مذہبی شخصیت کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو مشتعل کیا جاسکے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے انڈین لابی کے پاکستان مخالف ایجنڈے کی اطلاعات آ رہی تھیں۔  اس دوران انڈیا کی پوری کوشش تھی کہ پاکستان بلیک لسٹ میں ڈلوایا جائے۔  انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ فروری سے اپریل 2018 کے دوران بھارت نے پاکستان کے خلاف لابی کی جس کے نتیجے میں پاکستان جون 2018 میں گرے لسٹ کا حصہ بن گیا۔  بھارت اس سے پہلے ان لازامات کی تردید کرتا رہا ہے۔