گلگت بلتستان پہ رحم کریں
- تحریر
- ہفتہ 14 / نومبر / 2020
- 5510
عجیب بات ہے کہ الیکشن تو گلگت بلتستان کا ہورہا ہے لیکن اس کے مسائل، مصائب اور اس کی الجھی ہوئی شناخت کے دکھ پر بات ہی نہیں ہو رہی۔تینوں سیاسی جماعتوں کے جلسوں پہ جلسے ہو رہے ہیں جہاں اپنے مخالفین پر الزام تراشی اور انہیں ہر طرح رگیدنے کا وہی وطیرہ زور شورسے جاری ہے جو پاکستان میں ان کا چلن ہے۔
الیکشن میں جماعتوں کے اپنے اپنے نعروں کا شور ہے لیکن ان میں ہماری آواز کہیں بھی نہیں۔ گلگت بلتستان الیکشن کے بارے میں ہمارے استفسار پر راجہ نوشیرواں نے اپنے تحفظات کا خلاصہ ہمارے سامنے رکھ دیا۔ راجہ نوشیرواں کیانی اسلام آباد کی ایک مشہور یونیورسٹی سے مینجمنٹ اینڈ لیڈرشپ میں ایم فل ہیں۔ گلگت کے رہائشی ہیں، ایک پرنٹنگ پریس چلاتے ہیں اور ایک مقامی ایف ایم ریڈیو پر شاعری اور میوزک پر مبنی ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ ان کے بزرگ کشمیر کے ڈوگرہ راج سے مسلح جدو جہد اور بعد ازاں پاکستان سے الحاق کے عمل میں شریک تھے۔ گلگت بلتستان کے بے شمار دوسرے نوجوانوں کی طرح راجہ نوشیرواں بھی اس امر پر افسردہ اور شاکی ہیں کہ الیکشن کے موقعے پر بھی ان کے علاقے کے مسائل پر بحث و تمحیص کی بجائے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی باہمی رقابت نے ان سے یہ موقع بھی چھین لیا۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ جلسے لاہور، کراچی یا پاکستان کے کسی اور بڑے شہر میں ہو رہے ہیں، گلگت بلتستان کا ذکر تو زیبِ داستاں ہے، اور وہ بھی گول مول اور لچھے دار وعدوں کی حد تک!
گلگت بلتستان کا موجودہ نامکمل صوبہ نما انتظامی ڈھانچہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر اب تک کئی مراحل میں قسطوں میں تشکیل پایا ہے۔ یہ علاقہ اب بھی پاکستان کے ساتھ مکمل ملحق نہیں ہے۔گلگت بلتستان کی الگ شناخت کا خواب اپنی تاریخ کے جبر کا شکار رہا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں یہ علاقہ کشمیر کا حصہ تھا جو ڈوگرہ راج کے زیرِ نگیں تھا۔ تقسیم کے فوراٌ بعد مقامی حریت پسندوں نے مسلح جدو جہد کرکے ڈوگرا راج کے تسلط سے گلگت بلتستان علاقے کو آزاد کراکے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش اوردرخواست کر دی۔ مگر یہ ہو نہ سکا۔ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے جزوی قبضے کے بعد دونوں ملکوں اور بعد ازاں یو این اسمبلی میں بھی اس علاقے کو تاریخی طور پر کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے کشمیر مسئلے کا ایک جزو بنادیا گیا۔
شناخت کا یہ حل طلب مسئلہ گلگت بلتستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ تشکیلِ پاکستان کے بعد اسے دیگر قبائلی اور نیم آزاد علاقوں کی طرز پر چلایا گیا۔ ایک پولیٹکل ایجنٹ کی سربراہی اور ایف سی آر کا بے رحم قانون۔ ذولفقار علی بھٹو کے دور میں اس قانون سے چھٹکارا ملا۔ بعد ازاں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں کچھ مزید ٌ حقوق دئے گئے۔1999 میں سپریم کورٹ نے ایک آئینی مقدمے میں یہ فیصلہ دیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے شہری ہیں۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس علاقے کے انتظامی امورمیں شریک ہوں، انہیں یہ حق ہے کہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے آزاد عدلیہ کی رسائی حاصل ہو۔
پی پی پی کے تیسرے دور میں گلگت بلتستان میں ایک قانون ساز اسمبلی کے قیام کی راہ ہموار کر دی گئی۔ یوں یہاں پہلا الیکشن 2009 میں ہوا جس کے نتیجے میں پی پی پی کی حکومت بنی۔ بعد ازاں مسلم لیگ ن نے دوسرے انتخاب میں اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی اور اب تیسرے الیکشن میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ دیکھئے کامیابی کا ہما کس کے سر پر بیٹھتا ہے۔ بد قسمتی سے گزشتہ دونوں انتخابات میں وفاداریاں تبدیل کرنے اور مرکزی حکومت کی خوشنودی نے کام دکھایا اور یہاں کی حکومت کا قبلہ مرکز کی طرف ہی رہا۔
گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے پر پارلیمانی جماعتوں اور دیگر ریاستی اداروں کا اصولاٌ اتفاق ہو چکا ہے۔ سی پیک منصوبوں میں سے انفراسٹرکچر کی راہ گزر یہی علاقہ ہے۔ بھارت اسی پر واویلا مچا رہا ہے کہ یہ متنازع علاقہ ہے۔ 72 ہزار کلومیٹر پر مشتمل اس علاقے کی آبادی پندرہ سے بیس لاکھ ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب آبادی کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔ انڈسٹری بالکل نہیں ہے۔ زراعت اور سیاحت ہی یہاں کی اکونومی کا مرکز ہیں۔ کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے سیاحت میں اس علاقے کی حیثیت کے مطابق اضافہ نہیں ہوسکا۔ اب کووڈ19 کی وجہ سے رہی سہی سیاحت میں بھی نمایاں کمی ہے۔
اس علاقے میں شرح خواندگی تقریباٌ سو فیصد ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی میڈیکل اور انجینئیرنگ یونی ورسٹی نہیں ہے۔ مقامی طور پر روزگار کے مواقع بہت محدود ہیں۔دوسرے شہروں میں جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کو بھی اپنے کیرئیر اور معاشی ترقی کے لئے پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنا پڑتا ہے۔ واپس آ بھی جائیں تو کمائیں کیا اور کھائیں تو کہاں سے؟صحت کی سہولیات انتہائی بنیادی اور ناکافی ہیں۔ سی ٹی اسکین جیسی عام سہولت بھی کمیاب ہے۔ کہنے کو تو دریائے سندھ اس کے گلیشئیرز سے پانی سمیٹتا ہوا گزرتا ہے مگر دریا ئے سندھ اور دیگر آبی گزرگاہوں پر پن بجلی کے بڑے منصوبے نہیں لگائے جا سکے۔ بجلی کی فراہمی یہاں کی اہم ترین مشکل ہے۔سردیوں اور گرمیوں میں ایک ایک دن کی لوڈ شیڈنگ یہاں کا معمول ہے۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں والا معاملہ ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مسائل کی بجائے لندن بیٹھے لیڈر کے کارنامے سننے سے کیا غرض، ووٹ کی عزت اور سلیکٹرز کی حکومت کے بارے میں جوشیلی تقریروں سے انہیں کیا حاصل، دونوں بڑی پارٹیاں اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں سے اس قدر تہی دامن ہیں کہ اپنی کارکردگی پر ووٹ مانگنے کی بجائے پاکستان کی سیاست کی دشنام طرازی پر ہی تکیہ کئے ہوئے ہیں۔ الیکشن گلگت بلتستان کا مگر ان کے مسائل کا ذکر بڑی جماعتوں کے بیانیے تلے دب پر رہ گیا ہے۔ اس تکلیف دہ صورت حال کو ایک معروف مقامی شاعر جمشید خان دکھی نے ایک قطعہ میں یوں بیان کیا ہے:
جسم بوجھل ہے اور تھکاوٹ ہے
جھوٹ اور سچ میں بھی ملاوٹ ہے
مانا آئین دے نہیں سکتے
بجلی دینے میں کیا رکاوٹ ہے؟