گلگت بلتستان کی حیثیت اور انتخابی مہم ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 14 / نومبر / 2020
- 5900
گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے پاکستان کا خوبصورت خطہ ہے۔ تاریخی و سیاسی حوالوں سے کشمیر کا حصہ یا مشمولہ ہونے کی بنیاد پر اسے ایک طرح سے متنازعہ علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے میں اب تک پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔ یکم نومبر کو وزیراعظم نے یہاں انتخابی دورے میں اعلان کیا کہ اگر ان کی پارٹی جیتی تو گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنا دیا جائے گا۔ مگر پاکستانی کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ایسی کسی بھی کارروائی کو افسوسناک اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ ان کا اعتراض تین حوالوں سے تھا اول روایتی پاکستانی موقف کی خلاف ورزی، دوئم ایسی صورت میں علاقے کے لوگوں کو ٹیکس دینا لازم ہو جائے گا، سوئم اس نوع کے اعلانات انتخابی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں کیونکہ انتخابی ضابطہ اخلاق اس کی اجازت نہیں دیتا۔
دوسری طرف انڈیا فارن آفس کا یہ استدلال ہے کہ جموں و کشمیر، لداخ کی یونین ٹیریٹیریز بشمول گلگت بلتستان، سب اس جموں و کشمیر کا حصہ ہیں جس نے مہاراجہ ہری سنگھ کی قیادت میں 1947 میں انڈیا سے الحاق کیا تھا۔ اس لئے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے حالیہ اقدامات جو خطے کی پوزیشن کو تبدیل کریں، ناقابل قبول ہیں۔ درویش کی نظر میں بھارت کا یہ اعتراض اس لئے اپنی اہمیت کھو دیتا ہے کہ اس نے پچھلے برس خود اپنے زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے جس طرح اپنی یونین کا حصہ قرا دے دیا ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں طے کیا گیا اصول کہ ہر دو ممالک کی فورسز متنازع خطوں سے چلی جائیں ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ انڈیا تو پہلے ہی شملہ معاہدے کو یو این او کے ریزولیوشنز کے خاتمے کا اعلان قرار دیتا رہا ہے اور مودی سرکار نے دفعہ 270 کو تحلیل کرتے ہوئے بالفعل شملہ معاہدے کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔
سی پیک کے حوالے سے چینی قیادت کی طرف سے یہ مطالبہ آتا رہا ہے کہ پاکستان اپنے اس خطے کی متنازع حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے باضابطہ اپنا حصہ قرار دے تاکہ چینی انویسٹمنٹ پر کوئی عالمی اعتراض وارد نہ ہو سکے جبکہ پاکستان کی سیاسی قیادت اسے اپنے روایتی موقف سے روگردانی خیال کرتی رہی ہے۔ اس کا استدلال یہ رہا ہے کہ اگر ہم خود اس متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہیں تو پھر انڈیا کے ایسے ہی اقدام پر اعتراض کس طرح کر سکیں گے؟ بالآخر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی زعما کے درمیان طے یہی پایا کہ یہ ایشو گلگت بلتستان میں 15 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد حل کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے انتخابات الحمدللہ اتوار کو منعقد ہوں گے۔ ان انتخابات کی ایک خصوصی بات تو یہ تھی جس کا ابھی ہم نے جائزہ پیش کیا ہے۔ دوسری اہم بات اس مرتبہ انتخابی مہم ایسی فقید المثال تھی جس میں نہ صرف تمام اہم سیاسی پارٹیوں اور ان کی قیادت نے بلند بانگ دعوے کیے بلکہ گلگت بلتستان کے عوام نے بھی عوامی جلسوں میں وہ جوش و جذبہ اور ولولہ دکھایا، ماضی میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس انتخابی مہم کا افسوسناک پہلو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف غیر ذمہ دارانہ الزام بازی اور لچر گفتگو تھی۔ سیاسی مخالفت میں شائستگی، وقار اور تہذیبی رکھ رکھاؤ کی روایات بری طرح توڑی گئیں، انتخابی ضابطہ اخلاق کے تقاضوں کو پائوں تلے روندا گیا اور سچائی یہ ہے کہ اس کی بڑی ذمہ داری حکومتی پارٹی اور اس کے مبلغین پر عائد ہوتی ہے۔
ہماری اسٹیبلشمنٹ نے جو رویہ کسی زمانے میں محترمہ فاطمہ جناح اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے متعلق اپنایا تھا۔ افسوس اب اس کے زیر اثر پنپنے والوں نے اسی زبان کا اعادہ یہاں ضروری سمجھا۔ اگر آپ کسی پر بدبو پھینکیں گے تو لازمی بات ہے ردعمل میں عطر یا خوشبو تو نہیں آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دو ارب کے ترقیاتی منصوبوں کی خوشخبریاں بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں میں آتی ہیں۔
یہاں سب سے طویل انتخابی مہم پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چلائی اور خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ حکومت کے خلاف جتنا بھی گرجے برسے مگر اپنے دیگر سیاسی مخالفین کے حوالے سے ان کا رویہ خاصا دوستانہ تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پر یہ اعتراض کیا کہ انہیں پچھلے دو سالوں تک تو یہاں کے عوام کا خیال نہیں آیا، اب ناقابل عمل وعدے کرنے آئے ہیں جبکہ میرا تعلق تین نسلوں سے ہے اور اس کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہا ہوں۔
بلاول بھٹو نے یہیں بی بی سی کو ایک سنسنی خیز انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گفتگو کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی کا نام لے کر تنقید نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ اس سے مجھے دھچکا لگا اور جو الزامات لگائےگئے ہیں، تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کے پاس یقیناً ان کے ثبوت ہوں گے۔ جو انہیں پیش کرنے چاہیں۔ اس کے جواب میں پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ تقاریر میں نام لینے یا نہ لینے کی کوئی بندش نہیں ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے اپنی انتخابی مہم کے اختتام پر بلاول بھٹو سے براہ راست ملاقات کرنا ضروری سمجھا تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
انہوں نے حکومتی وزراء کے بالمقابل اپنا دفاع کرنے پر بھی پی پی کے چیئرمین کا شکریہ ادا کیا اور واپسی پر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک ایسی بھاری بات کہہ دی جس کے نیچے دیگر تمام بحثیں دب کر رہ گئیں۔ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ نے قریبی ساتھیوں کے ذریعے رابطے کئے ہیں۔ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ یہ بات چیت پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہو اور دھاندلی والی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ اس پر سوالات اٹھنے ہی تھے کہ بی بی جی وہ ووٹ کو عزت دو والا نعرہ کیا ہوا؟ آئینی رول اور آئینی ضابطوں کی پابندی کے مطالبات کہاں ٹھہرے؟ بہرحال جناب احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی جیسے لیگی ذمہ داران وضاحتیں فرما رہے ہیں کہ مریم بی بی نے نیشنل ڈائیلاگ کی بات کی ہے۔ ان کا قطعی یہ مدعا نہیں ہے کہ ایک پسندیدہ کو نکال کر اس نوع کے کسی دوسرے کھیل کا آغاز کیا جائے۔
گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر بہت کچھ لکھا بولا جا رہا ہے۔ عمومی رویہ اگرچہ یہی رہا ہے کہ جس کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے یہاں بھی اس کی حکومت بنتی ہے مگر بلاول بھٹو کا استدلال ہے کہ اس مرتبہ پانسہ پلٹ چکا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بظاہر ناقابل فہم ہے مگر یہاں اندر خانے جس نوع کی چالیں چلی جاتی ہیں، ان میں کچھ بھی ممکن ہے۔
اس ملک کی سیاست کا اصل ایشو ہی یہ ہے کہ یہ سینہ گزٹ اختتام پذیر ہو جس کا جو کام ہے جو ذمہ داری ہے وہ خود کو وہیں تک محدود رکھے۔ آئین پاکستان جس کے تحفظ اور پابندی کی قسم کھائی جاتی ہے، اس میں جس کا جو کردار بنتا ہے وہ اس سے آگے بڑھنے کی سوچ ختم کرے۔ اس سے کٹھ پتلیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور یہ اصول منوایا جا سکتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ کوئی اور نہیں صرف اور صرف عوام ہیں۔ یہی آئین ہے اور یہی میثاق جمہوریت کی روح ہے۔