واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کا مظاہرہ

  • اتوار 15 / نومبر / 2020
  • 4900

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے صدارتی انتخابات میں صدر کی جانب سے عائد کیے گئے دھاندلی کے الزامات کے حق میں احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج کے جواب مین ٹرمپ مخالفین نے بھی مظاہرہ کیا۔

ہفتے کو صدر کی حامی لگ بھگ ایک درجن تنظیموں اور گروپس نے دارالحکومت میں احتجاج کی کال دی تھی جس میں شرکت کے لیے صدر کے حامی ملک کے مختلف علاقوں سے دارالحکومت پہنچے۔ واشنگٹن ڈی سی کی پولیس اور انتظامیہ نے مظاہرین کی تعداد سے متعلق کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

ہفتے کو واشنگٹن ڈی سی میں احتجاج سے لگ بھگ دو گھنٹے قبل صدر ٹرمپ اپنے قافلے کے ہمراہ دارالحکومت کی مرکزی شاہراہ پینسلوینیا ایونیو سے گزرے اور وہاں موجود مظاہرین کو دیکھ کر مسکرائے اور انہیں ہاتھ ہلایا۔ بعد ازاں صدر کا قافلہ واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں موجود ان کے ذاتی گالف کلب روانہ ہو گیا جہاں انہوں نے اطلاعات کے مطابق گالف کھیلی۔

امریکی نشریاتی ادارے 'فوکس نیوز' کے مطابق گالف کلب سے وائٹ ہاؤس واپسی پر صدر ٹرمپ ایک بار پھر اپنے حامیوں کے درمیان سے گزرے جنہوں نے صدر کو دیکھ کر ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس سے قبل اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر نے کہا تھا کہ جس طرح ملک بھر میں لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں اور اپنے طور پر جلوس نکال رہے ہیں اس سے ان کا دل خوشی سے بھر گیا ہے۔

صدر نے کہا تھا کہ وہ ہفتے کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے احتجاج کے مقام کا دورہ کرنے اور اپنے حامیوں کو 'ہیلو' کہنے کی کوشش کریں گے۔ صدر کے حق میں ہونے والے اس احتجاج کی میڈیا سے وابستہ کئی قدامت پسند شخصیات اور سفید فام قوم پرستوں نے بھی حمایت کی تھی۔  صدر کے حامیوں کے احتجاج کے مقابلے میں ان کے مخالفین نے بھی جوابی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران بعض مقامات پر فریقین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

واشنگٹن ڈی سی پولیس کے مطابق ہاتھا پائی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں کم از کم 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ امریکہ کے دارالحکومت میں یہ احتجاج ایسے وقت ہوا ہے جب ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر منتخب ہونے کے لیے درکار الیکٹورل کالج کے 270 ووٹوں کا ہدف عبور کر چکے ہیں۔

اب تک امریکہ کی 50 میں سے 49 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا اعلان ہو چکا ہے جن کے مطابق جو بائیڈن 290 ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 232 ووٹ ہیں۔ اب صرف ایک ریاست جارجیا کے نتائج آنا باقی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے تین نومبر کو کونے والے انتخابات کے نتائج کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ صدر اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ کئی ایسی ریاستوں میں انتخابی عمل میں دھاندلی کی گئی جہاں دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ صدر کی انتخابی مہم نے ایسی کئی ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستیں دی ہیں۔ اور ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے بعض ووٹ منسوخ کرانے کے لیے عدالتوں سے بھی رجوع کیا ہے۔