مسلم لیگ (ن) میں بہت لوگ قیادت کے بیانیے سے متفق نہیں: وزیر خارجہ
- اتوار 15 / نومبر / 2020
- 5340
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک بہت بڑا عنصر موجود ہے جو اپنی قیادت کے بیانیے سے متفق نہیں ہے۔ وہ سیاسی مجبوریوں کے سبب اظہار نہیں کرسکتے۔
ان عناصر کا خیال ہے کہ ہم ایک بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں اور اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا قومی اداروں پر حملہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے اور قومی اداروں سے آئین سے ماورا اقدام کی توقع رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جن جمہوری قدروں کی آپ بات کررہے ہیں یہ تو اس کی نفی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو بوکھلاہٹ مجھے دکھائی دے رہی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی بھی ان کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے۔ کراچی واقعے کی انکوائری پر ایک جماعت کا تعریفی بیان آتا ہے تو دوسری اسے مسترد کردیتی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ دہشت گردی کے خطرہ سے آگاہ کردیں۔ البتہ فیصلہ اپوزیشن کو خود کرنا ہے۔ ہم انہیں اپنے فیصلے کا پابند نہیں کررہے۔ اس وقت بھارت کی پاکستان سے متعلق منصوبہ بندی ان کے علم میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔
بھارت سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پہلے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی بات ہوتی اب تو اسٹیٹ خود ایکٹر ہے۔ اس سے زیادہ سنجیدہ مسئلہ کیا ہوسکتا ہے جبکہ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں، لہٰذا دنیا کو بھارت کے ان ارادوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ افغانستان کے دورے کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں وزیراعظم عمران خان کابل جائیں گے اور مختلف معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
اپوزیشن کے جلسوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر میں بات کروں گا تو اسے سیاسی رنگ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ گھبرا گئے۔ لیکن ہم دیانت داری سے سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے قوم کے سامنے رکھنا ہمارا فرض تھا۔