راولپنڈی میں تحریک لبیک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں
- اتوار 15 / نومبر / 2020
- 11080
راولپنڈی میں تحریک لبیک کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مظاہرین فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔
تحریک لبیک کے ایک ترجمان کے مطابق ان کی جماعت کی طرف سے ان خاکوں کے خلاف پر امن ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیاں مغرب کے بعد شدید ترین جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ اس سے قبل جہلم اور دیگر علاقوں سے مظاہرین لیاقت باغ پہنچے تھے۔ جنہوں نے جلوس کی شکل میں فیض آباد کا رخ کر لیا تھا۔
پولیس نے مظاہرین کو لیاقت باغ کے قریب نہیں روکا۔ مظاہرین تمام رکاوٹیں دور کرتے ہوئے کمیٹی چوک اور چاندنی چوک پہنچ گئے تھے۔ ایک مقامی صحافی ملک ظفر اقبال کے مطابق جب مظاہرین شام کے وقت لیاقت باغ سے چلے تو اس موقع پر پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی بھی جلوس میں موجود ہیں جبکہ مظاہرین ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس ہیں۔
تحریک لبیک کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اس ریلی کی قیادت علامہ خادم حسین رضوی کر رہے ہیں اور منصوبے کے مطابق اس ریلی نے راولپنڈی میں واقع لیاقت باغ سے فیض آباد تک جانا تھا۔
لیکن ان کے بقول پولیس نے پرامن مظاہرین کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی جس پر کارکنوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کی۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان مظاہرین نے ناصرف لیاقت روڑ پر واقع دوکانوں کی توڑ پھوڑ کی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔کراولپنڈی پولیس کی سپیشل برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت لیاقت باغ اور اس کے قریبی علاقوں میں مظاہرین کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔ مزید مظاہرین اس احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔
اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا جنہیں حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ لیاقت باغ کے رہائشی علاقے میں موجود ایک مقامی شخص نصیر بھٹی کا کہنا تھا کہ 'تحریک لبیک کے کارکناں ڈنڈوں اور پتھروں سے مسلح ہیں وہ پولیس کی شیلنگ کے جواب میں پتھراؤ کر رہے ہیں۔ پہلے تو پولیس ان پر شیلنگ کرتی رہی مگر بعد ازاں پولیس نے بھی جوابی پتھراؤ کیا۔
حکومت نے اس احتجاجی ریلی کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے محتلف علاقوں میں موبائل سروس آج صبح سے بند کر رکھی ہے جبکہ راولپنڈی کی انتظامیہ نے لیاقت باغ سے فیض آباد کی طرف جانے والی مری روڑ کو مختلف جگہوں سے کنٹینرز لگا کر بند کردیا ہے۔
ریلی کی کوریج کے لیے آئے ہوئے مقامی صحافی بابر ملک کا کہنا ہے کہ جونہی وہ حالات کا جائزہ لینے کے باہر نکلے تو وہاں پر موجود تحریک لبیک کے کارکنوں نے اُنہیں پکڑ لیا اور ان سے موبائل بھی چھین لیا۔ بابر ملک کے بقول ان مظاہرین نے ان کا موبائل پر بیان ریکارڈ کیا اور کہا کہ وہ شہر کی صورت حال کے بارے میں بتائیں اور اگر ان کی ایک بات بھی غلط ثابت ہوئی تو اُنہیں جسمانی طورپر نقصان پہنچایا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ جب وہ بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تو ان کے پیچھے تحریک لبیک کے کارکن ڈنڈے لیکر کھڑے تھے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق تحریک لبیک کی یہ ریلی پلان کے مطابق فیض آباد پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی لیکن صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر سکیورٹی سخت کی گئی ہے جبکہ کچھ مقامات سے اسلام آباد ہائی وے کو بند کیا گیا ہے۔
ریلی کی کوریج کے لیے آنے والے چند صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روکا جا رہا ہے اور وہ پریس کلب میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ موبائل سروس بند ہونے کی وجہ سے بھی مشکلات ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے