بچے کھانے والی ڈائن

حکومت کی طرف سے  مُلک بھر  میں ہفتہ ء رحمت اللعالمین ﷺ  منانے کا اہتمام کیا گیا ہے  لیکن لگتا ہے کہ اس ہفتے  کی تقریبات سیاسی  ہنگاموں ، گلگت کے انتخابات  اور حکومت اور حزبِ اختلاف  کے ترجمانوں کی تو تو میں میں ، میں دب کر رہ گئی ہیں۔  اس  صورتِ حال سے مذہبی، سیاسی،  انتظامی اور صحافتی ترجیحات کا پتہ چلتا ہے۔

 ہمارے ہاں مذہب  ایک سیاسی  اثاثہ  اور نظریاتی فیشن ہے  جو دین کے پانچ ارکان کے گرد نمائشی طور پر گھومتا ہے۔ لوگ نمازوں کے اجتماعات ، جمعہ کے خُطبات  اور عمرہ و حج کے  کے میدان میں دین کی شان بڑھانے میں  کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے  اور حمد و نعت  کی محافل اور قوالیاں مذہب کے سونے پر سہاگہ ہیں  جن کے ذریعے پاکستان کا مطلب  لا الہ  ثابت کیا جا سکتا ہے  اور دین کے یہی ظاہری ارکان  ملک میں اسلام کے زندہ دین ہونے کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں ۔ لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان  شعائر  کے درمیان وہ  مسلمان کہیں نظر نہیں آتا جس کی زندگی سے اخلاقِ محمد ﷺ کی خوشبو آتی ہو۔  مسلمان کہیں بھی دوسرے مسلمان کا بھائی نہیں بلکہ  مسلمانوں کے مابیں  ایک گونہ مقابلہ ہے جو ایک دوسرے کو دنیا داری میں پیچھے چھوڑنے کے طرزِ عمل  کی گواہی دیتا ہے۔  اس صورتِ حال کا ادراک کرنے کے بعد اقبال نے مسلمان کے معدوم ہوجانے کا نوحہ کیا تھا۔ کہتے ہیں:

نماز و روزہ و قربانی و حج

یہ سب باقی ہیں، تو باقی نہیں ہے

اور اس صورتِ حال کا سب سے کرب ناک، زہر ناک اور  اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ کہ معاشرہ ایک بچے کھانے والی ڈائن بن چکا ہے۔  چشمِ فلک گواہ ہے کہ ہر آئے دن  جنسی درندگی اور قتل کا املیہ رونما ہوتا ہے  جو چند دن میں میڈیا میں  آنسو بہانے کے بعد طاقِ نسیاں کی  نذر ہوجاتا ہے۔  کتنی  المناک بات ہے کہ پچھلے  دنوں انسانی کھال میں چھپے کسی جانور نے ایک گیارہ ماہ کی بچی  کی آبرو ریزی کی جو  ہمارے اسلام کے  دعوے کے  ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے  لیکن اس پر نہ تو علماء کے  کان پر جون رینگی، نہ اسلامی نظریاتی کونسل کے  سربراہ کو جھرجھری آئی  اور نہ  وفاقی شریعت کورٹ کو سوموٹو کا خیال آیا  کہ وہ یہ سوال اُٹھاتے کہ آخر اس معاشرے میں اس قسم کے درندے کیوں دندناتے پھرتے ہیں اور ان کی بد کاریوں کا سدِ باب کیوں کر  ممکن ہے؟

اگر بچوں اور بچیوں  کی عصمت دری اور قتل  کی وارداتوں کی پوری دستاویزی فلم بنائی جائے  تو ایک ایسی ڈائن کا چہرا اُبھر کر سامنے آتا ہے جو اپنے ہی بچے کھاتی ہے  اور مسلسل کھائے چلی جا رہی ہے۔ یہ مکروہ اور بھیانک وارداتیں  گلی کوچوں، موٹر ویز، سکولوں، کالجوں، یونی ورسٹیوں، دینی مدرسوں اور مساجد کے حجروں سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک میں کسی نہ کسی صورت میں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن اس قسم کے قتل کی وارداتین نہ تو آسمان کو متاثر کرتی ہیں  اور نہ ہی زمین کا ضمیر  ان پر لرزتا ہے، حالانکہ نا حق قتل کے بارے میں قرآن کا واضح قانون موجود ہے کہ جس کسی نے خون کے بدلے کے بغیر قتل کیا اُس نے خُدا کی  زمین پر فساد بربا کیا  اور گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔

 چنانچہ جو معاشرہ کم سن بچوں اور بچیوں کو ریپ کے بعد  پے بہ پے قتل کرتا چلا جاتا ہے  وہاں پوری انسانیت بار بار قتل ہوتی ہے  مگر حیرت ہے کہ وہاں  علماء، فقہا،  اور مذہبی دانشور  اُس خونِ ناحق کر درخُورِ اعتنا نہیں سمجھتے ۔ ایسے مکروہ سانحات پر وہ کبھی جمع ہو کر  اس کے تدارک کی بات نہیں کرتے ۔ ان کے طرزِ عمل سے ایسا لگتا ہے  جیسے کم سنوں کے ساتھ جنسی درندگی حلوے کی پلیٹ ہو  جس کو چٹ کر کے ڈکار مارنا بھی مباح نہیں۔  اور اس سے بڑا تعجب یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر علم و دانش کے خُدا بن کر بیٹھے اکابرین کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ ٹاک شوز میں یا اپنے ون میں شو پروگرام میں مولوی  فضل الرحمان، مولوی سراج الحق، مولانا طاہر القادری اور مولانا طارق جمیل جیسے  اسلام کے مجاہدین کو جمع کر کے یہ سوال کریں کہ آخر اس  لعنت سے معاشرے کو نجات دلانے کے لیے وہ کیا کر رہے ہیں  اور اُن کی جہد ِ مسلسل کا حاصل کیا ہے حالانکہ مذہب کی بنیاد پر استوار معاشروں کا اساسی قانون اللہ کی کتاب ہوتی ہے، جو قانون کی پکی روٹی ہے جس کے بعد اطاعتِ رسول ﷺ آتی ہے اور اُن کے بعد اُلو الامر کی اطاعت  جسے ملک کا مروجہ قانون  کہتے ہیں۔

 اللہ نے اپنی کتاب میں جو بنیادی اخلاقی قونین مرتب کر کے بنی نوعِ انسان کو دیے ہیں  وہ انسان کی اصل  فطرت کے  کے اصولوں کے عین مطابق ہیں۔  مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ  ہم جو اللہ کی کتاب کو ناظرہ پڑھتے ہیں، اصل مفہوم تک رسائی نہیں پا سکتے  اور مفہوم بیان کرنے کے لیے خُدا اور بندے کے درمیان مُلا بیٹھا ہے  جو در اصل مسلمان اور قرآن کے درمیان لوہے کی دیوار ہے جو مسلمان کو قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔  اسی باب میں اقبال کا ایک معنی خیز اشارہ موجود ہے۔ کہتے ہیں:

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں  پردے

پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو

حق را بسجودے، صنماں را بطوافے

بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو

اور یہ بیانیہ اس لیے تخلیق ہوا  کیونکہ  کہ ہمارے  یہاں  اب مذہبی ادارے ، روشنی تقسیم کرنے کے  قابل نہیں رہے ۔ یعنی اب  حرم و دیر دکانیں ہیں ۔ مُلا اور پجاری کی دکانیں  ہیں، اُن کی روزی روٹی کا وسیلہ ہیں  بلکہ حلوہ مانڈہ ہیں ، جو ان دکانوں  کے قیام کا اصل سبب ہیں۔ کمرشل ازم کے اس دور میں دین کی بعض دکانیں اس قدر چمکی ہیں کہ وہ بین الاقوامی فرموں میں تبدیل ہوگئی ہیں  اور مذہب کے وہ کمرشل ٹائیکون اپنے شعبے کے میاں منشا، انبانی اور بل گیٹس کی طرح امیر ہیں  لیکن اُن کے اثاثوں کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں ہوتی  اور نہ ہی اُن کے اثاثوں اور  ذرائع آمدن کے درمیان تواز ن کی تحقیق کی جا تی ہے۔  اس لیے کہ ایسے اقدام پر مذہب کی توہین کا معاملہ اٹھ کھڑا ہونے کا  اندیشہ ہے۔  اس لیے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ اُن کا محاسبہ کر سکے۔ 

ابھی حال ہی میں جامعہ بنوریہ کے ایک مرحوم مفتی کے بیٹوں کے درمیان اربوں روپے کے ترکے کی تقسیم کا معاملہ عدالت میں جا پہنچا  ہے  جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مذہب اب اربوں روپے کا کاروبار ہے، رسول ﷺ کا ٹوٹا حجرہ، پھٹا بوریہ، مسکینی و دلگیری  اور بندگی کا  عجز و انکسار باقی نہیں رہا۔  الا ماشا  اللہ