کورونا وائرس کے باعث پاکستان میں 300 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی
- سوموار 16 / نومبر / 2020
- 4610
پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر 300 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جلسے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کی ہے۔
پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد عوام سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چھ، سات روز کے دوران کورونا وائرس کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ اگر صورتِ حال یہی رہی تو پاکستان میں جون کے مہینے جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں، جب اسپتالوں میں گنجائش کم پڑنے لگی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ شادی ہالوں میں اِن ڈور کیٹرنگ پر پابندی ہوگی جب کہ آؤٹ ڈور کیٹرنگ میں 300 مہمانوں کی اجازت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ماسک ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فی الحال ریستوران بند نہیں کر رہے لیکن اُنہیں سماجی فاصلے یقینی بنانا ہوں گے۔ اسکولوں کی بندش سے متعلق فیصلہ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صورتِ حال کا جائزہ لیں گے۔ اگر کیسز بڑھے تو اسکولوں میں سردیوں کی چھٹیاں بڑھا دیں گے جب کہ گرمیوں کی چھٹیاں صرف ایک ماہ کی ہوں گی۔ ملک میں دو ہفتوں کے دوران کورونا کے کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں اموات کی یومیہ تعداد 6،7 سے بڑھ کر 25 تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس میں ملک میں کیسز کی بڑھتی ہوئی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔
عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات دنیا بھر میں منفی آئے ہیں۔ ہم نے اپنی معیشت کو بھی بچانا ہے، اس لیے ہم کوئی ایسی پابندی نہیں لگا رہے جس سے لوگوں کا روزگار متاثر ہو۔ پاکستان میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی شرح ساڑھے تین ماہ کی بلند ترین شرح یعنی 7.21 فی صد پر پہنچ گئی ہے۔ ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے 29 ہزار سے زائد ٹیسٹس میں سے مزید 2 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اب تک ملک میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد سات ہزار 160 تک جا پہنچی ہے۔ 12 نومبر کو ملک میں 37 افراد کرونا سے انتقال کر گئے تھے جو گزشتہ ساڑھے تین ماہ میں ایک ہی دن میں کرونا سے مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔