اپوزیشن نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج مسترد کر دیے
- سوموار 16 / نومبر / 2020
- 5000
گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر اتوار کو ہونے والی پولنگ کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق وفاق میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کی آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جب کہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار آگے ہیں جن کی تعداد سات ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی چار، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دو اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔ ایک نشست سے اب بھی نتائج آنا باقی ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سابق وزرائے اعلیٰ حفیظ الرحمان اور مہدی شاہ کو انتخابی معرکے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا الیکشن چوری کر لیا گیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے احتجاج میں شریک ہوں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ انتخابات میں پوری ریاستی طاقت، حکومتی اداروں اور سرکاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔ پوری ریاستی طاقت، حکومتی اداروں، سرکاری مشینری کا زور زبردستی اور جبر کے ہتھکنڈوں سے وفاداریاں تبدیل کرانے اور بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے۔ ہارنے والوں کو "لوٹا پارٹی" سے دگنی سیٹوں کا ملنا کٹھ پتلی پر عوام کا عدم اعتماد ہے۔
مریم نواز نے ایک اور ٹوئٹ میں گلگت بلتستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت نہ ہاریں کیوں کہ حکومت کا کھیل ختم ہونے والا ہے۔ گلگت بلتستان کے بہادر لوگو ! اس دھاندلی سے ہمت نہیں ہارنا۔ ریت کی یہ دیوار گرنے والی ہے۔ کٹھ پتلی کا کھیل ختم ہونے کو ہے۔ انشاء اللّہ ۔ پاکستان مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے بھی الزام عائد کیا کہ انتخابات میں سرکاری وسائل استعمال کیے گئے۔ تاہم گلگت بلتسان کے چیف منسٹر کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق شاہد خاقان عباسی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے حزبِ اختلاف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن نے الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا منترا پڑھنا شروع کردیا تھا۔ اگر دھاندلی ہوتی تو تحریک انصاف 14 سے 15 نشستیں حاصل کر لیتی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان پر زبانی جمع خرچ کیا جسے عوام نے مسترد کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کئی اعتبار سے مختلف ہیں۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عبدالرحمان بخاری کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کی ایک تاریخ رہی ہے اور وہی تاریخ دوبارہ دہرائی گئی ہے۔ حکمران جماعت سے وابستہ امیدوارں کی اکثریت انتخابی معرکے میں کامیاب رہی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری گزشتہ تین ہفتوں سے گلگت بلتستان میں عملی طور پر اپنی جماعت کی مہم چلا رہے تھے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مریم نواز نے بھی کئی بڑے جلسے کیے۔
حالیہ انتخابات سے ثابت ہوا ہے کہ ترقیاتی کام بھی کسی سیاسی جماعت کے لیے فتح کا ضامن نہیں بن سکے۔ اُن کے بقول مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کئی ترقیاتی کام کروائے جس میں بلتستان اسکردو سڑک کی تعمیر اور یونیورسٹی کا قیام سرِ فہرست ہیں۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) حالیہ انتخابات میں ناکام رہی۔
عبدالرحمان بخاری کے مطابق انتخابی مہم کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی ایک جلسے میں کئی اعلانات کیے تھے لیکن اس کے باوجود نو یا دس نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی زیادہ احسن کامیابی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ سیاسی جماعتوں کے برعکس سات آزاد امیدواروں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو شکست دی ہے جن کا نہ کوئی سیاسی منشور تھا اور نہ ہی انہوں نے کوئی بڑے بڑے اعلانات کئے تھے۔