پاکستان میں الیکٹرانک انتخابی نظام لانے کا فیصلہ

  • منگل 17 / نومبر / 2020
  • 6870

وزیراعظم عمران خان نے ملک مہیں انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت آئینی ترمیم لائے گی جس میں سینیٹ انتخابات  'شو آف ہینڈز' کا طریقہ متعارف کروایا کروایا جائے گا۔ 

اس کے علاوہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔  اوورز سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے نیا انتخابی نظام لایا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے انتخاب کے حوالے سے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کریں گے۔ اس حوالے سے تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں گی۔  کہ کس طرح گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی درجہ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اگلا الیکشن ایسا ہو کہ جو بھی ہارے وہ ہار تسلیم کرے۔ اس کے لیے  پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ لایا جائے گا۔  کیونکہ سب سے بہترین سسٹم الیکٹرانک ووٹنگ ہے۔ اس معاملہ پر الیکشن کمیشن سے بات ہو رہی ہے اور نادرا کا ڈیٹا لے کر پاکستان میں بہترین الیکشن کرانے کا سسٹم آئے گا جس میں ٹیکنالوجی استعمال ہو گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا انتخابی نظام لایا جائے گا کہ اوور سیز پاکستانی بھی ووٹ ڈال سکیں۔ تیسری چیز ہم چاہ رہے ہیں اس کے لیے ہمیں آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی۔  وہ یہ ہے کہ جو سینیٹ کے الیکشن کے لیے ہم آئینی ترمیم لانے لگے ہیں تاکہ سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ پچھلے 30سال سے خصوصاً چھوٹے صوبوں میں پیسہ چلتا ہے۔ اراکین اسمبلی کو پیسہ دے کرووٹ خریدا جاتا ہے اور وہ لوگ جو پارٹی میں بھی نہیں ہوتے وہ پیسے اور رشوت دے کر سینیٹ میں آ جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ شو آف ہینڈز ہو تاکہ پتہ چلے کہ کونسی پارٹی کے لوگ کس کے لیے ووٹنگ کررہے ہیں اور سینیٹ کے الیکشن میں کرپشن ختم ہو۔

عمران خان نے کہا کہ ہم آئینی ترمیم لائیں گے۔ اب یہ دوسری جماعتوں پر منحصر ہے کہ وہ آئینی ترمیم کو سپورٹ کریں۔ کیونکہ اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار چاہیے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور ہم نے 2018 کے سینیٹ الیکشن کے بعد اپنے 20 اراکین اسمبلی کو پارٹی سے نکالا کیونکہ ہماری کمیٹی نے  رپورٹ دی تھی کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ان 20 اراکین اسمبلی نے پیسے لے کر ووٹ بیچے تھے۔