پی این اے سے پی ڈی ایم تک

یہ 1976کی بات ہے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ حزب اختلاف منتشر ہے، حالات سازگار ہیں، قبل از وقت انتخابات کرا دیں، واضح اکثریت مل جائے گی۔

اکثر حکمرانوں کو درپردہ سازشوں کا علم نہیں ہوتا۔ وہ جن رپورٹوں پر اعتماد کرتے ہیں، وہ ان کو گمراہ کرتی ہیں۔ یہاں بھٹو نے الیکشن کا اعلان کیا، وہاں ’’نو ستاروں‘‘ پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد تشکیل پا گیا۔ الیکشن ہوئے، بھرپور مہم چلی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کا کامیاب بائیکاٹ تحریک کا باعث بنا۔

بھٹو صاحب کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ تحریک ناکام ہوجائے گی، فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ آخر آپ نے سات جرنیلوں پر ترجیح دیتے ہوئے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا ہے۔ وزیراعظم نے انکار کردیا مذاکرات اور نئے انتخابات سے ایک ماہ تک تحریک میں بہت جان نہیں تھی پھر 9اپریل 1977 کو لاہور میں گولی چل گئی اور کئی افراد مارےگئے۔ آہستہ آہستہ صورتحال قابو سے باہر ہونا شروع ہوگئی۔ پہیہ جام، ہڑتالیں شروع ہوگئیں۔ شہر تقریباً جام ہوچکے تھے۔ تب خیال آیا کہ مذاکرات کی دعوت دی جائے، نئے انتخابات ایک غیر جانبدار انتظامیہ کے تحت ہونا قرار پائے۔

مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہونے لگے تو سازشیوں نے گیٹ نمبر4 کو اطلاع کردی اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا یعنی 5جولائی 1977کو ملک میں تیسری بار مارشل لا لگ گیا۔ لگانے والے جنرل ضیاء الحق نے 1973 میں میجر جنرل کی حیثیت سے حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں کئی فوجی اور ایئرفورس کے افسران کا کورٹ مارشل کرکے سزا دی تھی۔ شاید بھٹو صاحب نے اسی بات پر ان کو آگے چل کر چیف بنا دیا۔

اس لمبی تمہید کا صرف ایک مقصد تھا کہ ہمارے حکمران اکثر غافل رہتے ہیں زمینی حقائق سے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے سب اچھا ہے۔ جو ایجنسیاں ان کو رپورٹ کرتی ہیں، وہ انہی پر اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے یہ کہا تھا کہ وہ آئی بی سے تحقیقات کرواتے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں بھی کروائی تھیں مگر جب ایک ان کے ہم نام اینکر عمران نے سامنے کچھ حقائق رکھے تو وہ بزدار کایہ کہہ کر دفاع کرنے لگے کہ آخر ان کے حلقے والوں کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔ بظاہر عمران خان ایک طاقتور وزیراعظم نظر آرہے ہیں۔ ریاستی ادارے بھی یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں مگر حال ہی میں خلاف توقع ہونے والا ظہرانہ اس طرف اشارہ تھا کہ سب اچھا نہیں ہے۔

اتحادیوں کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے گو کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر کسی اصول پر نہیں، کسی کے کہنے پر۔ گجرات کے چوہدریوں کی ناراضی تاحال برقرار ہے اور انہوں نے خان صاحب کا ’’نمک‘‘ کھانے سے انکار کردیا شاید وہ باربار کسی اور کا نمک کھانے کو تیار نہیں۔ رہی بات متحدہ قومی موومنٹ کی تو وہ ڈھائی سال میں کوئی ایک سیاسی مطالبہ منوانے میں ناکام رہی، ان کی ڈور بھی کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ جب بھی وہ کوئی ناراضی کا اظہار کرتے ہیں تو ڈور کھینچ لی جاتی ہے۔

عمران خان کسی بھی صورت میں حزبِ اختلاف سے بات کرنے کو تیار نہیں اور ہر بار وہ  این آار او کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ ان کو پورا یقین ہے کہ حزب اختلاف میں وہ دم خم نہیں ہے جو انہیں استعفیٰ یا نئے انتخابات پر مجبور کردے۔ انہیں یہ بھی یقین ہے کہ طاقتور ریاستی اداروں کا کوئی حلقہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پیچھے ہے۔ ایک بار جب مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو خان صاحب کو شک ہوا تھا اور انہوں نے اداروں کے افسران پر ناراضی کا بھی اظہار کیا کہ یہ اسلام آباد تک کیسے پہنچے۔

اب اگر پی ڈی ایم کے پیچھے کوئی ’’قوت‘‘ نہیں ہے اور بغیر کسی اشارے کے وہ ایک بار پھر اسلام آباد کا رخ کررہے ہیں تو پھر اس تحریک کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ کیا حزب اختلاف یہ موڈ بنا کر آرہی ہے کہ ریاستی ادارے غیر جانبدار ہوجائیں، اتحادیوں کی ڈور کاٹ دیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو شاید آئینی طریقے سے پہلے پنجاب میں اور پھر بلوچستان اور وفاق میں عدم اعتماد کی تحریکیں لائی جائیں۔  اگر ایسا نہیں ہوتا تو بات تصادم کی جانب جاسکتی ہے جس کیلئے کم ازکم جے یو آئی اور مسلم لیگ ن تو تیار ہیں۔ اگر پی پی پی کو کوئی بڑا ریلیف نہ ملا تو وہ بھی شاید ’’اینٹ سے اینٹ نہ سہی پتھر سے پتھر‘‘ تک تو ساتھ دے دے گی۔۔ رہ گئی بات اسمبلیوں سے استعفوں کی تو وہ بھی صرف اس صورت میں آسکتے ہیں کہ یہ یقین ہوجائے کہ حکومت جارہی ہے۔

اینٹ سے اینٹ بجا دینے والا بیان دے کر زرداری صاحب نے 2015 میں اپنے لئے بڑی مشکلات کھڑی کرلی تھیں۔ اس وقت بھی انہوں نے میاں صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ ’’کراچی آپریشن کو بے لگام نہ چھوڑیں، سب لپٹ جائیں گے۔ میاں صاحب! جو آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے، وہ کل آپ کے ساتھ بھی ہوگا۔‘‘ یہ 2015 کی بات ہے۔ ظاہر ہے جب آدمی وزیراعظم ہوتا ہے تو وہ بات کو ایک کان سے سنتا ہے اور دوسرے سے نکال دیتا ۔ ویسے تو ہماری سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں مگر بظاہر میاں صاحب کی واپسی اتنی ہی ناممکن ہے جتنی الطاف حسین کی ۔ مگر اب تک مسلم لیگ کا قائم رہنا اور بڑے بڑے جلسے اور میاں صاحب کا غیر لچکدار رویہ خان صاحب کیلئے کچھ نہ کچھ سوچنے کیلئے کافی ہے۔

اگر یہ تحریک اشاروں پر نہیں چل رہی تو اس کا ٹارگٹ بھی عمران خان نہیں ہیں۔ یہ کچھ کچھ مجھے ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت کی طرح کا اتحاد نظر آرہا ہے۔ بہتر ہے کہ وزیراعظم مسائل کو پارلیمنٹ میں لے جائیں اور پارلیمانی طریقے سے مذاکرات کا آغاز کریں۔ اپنا ایجنڈا اپوزیشن کو بھیجیں۔ پی ڈی ایم اگر انکار کرتی ہے اور کوئی غیر آئینی اقدام کی طرف صورتحال کو لے جاتی ہے تو یہ ’’خطرے کی گھنٹی‘‘ جس کا آخر میں الزام مجموعی طور پر سیاستدانوں پر ہی آئے گا اور کوئی بھی جمہوری سوچ رکھنے والا شخص ایک اور 5جولائی 1977 نہیں چاہتا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : مظہر عباس

???? ???? ????? ??? ????? ??? ???? ???? ???? ?? ??????? ??? ????? ?? ????? ????? ???? ???? ????????? ??? ??? ???? ?????? ??? ??? ???? ?????? ???? ?? ??? ?? ???? ????? ????