کیا مدینہ ریاست ایسی ہوتی ہے: سپریم کورٹ کا سوال
- بدھ 18 / نومبر / 2020
- 5180
سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان، الیکشن کمیشن اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ اور متنبہ کیا ہے کہ آئین پر عمل درآمد نہ ہوا تو صوبائی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کے پی کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی شق 39 اور 41 پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت میں صوبائی حکومت نے کے پی کے ایکٹ کی شق 39 اور 41 سے متعلق رپورٹ پیش کی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ بلدیاتی حکومت کی منقولہ اور غیر منقولہ املاک کی تفصیل اپ لوڈ کی جائے۔
درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ 14 ماہ گزر گئے بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے پیش نہ ہونے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے بہت مصروف آدمی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل کا عدالت میں پیش ہونا ان کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملک میں ہر طرف وی آئی پی کلچر کے تحت روٹ لگے ہوتے ہیں۔ کیا ایسی ہوتی ہے ریاستِ مدینہ؟ ہر طرف مشین گنیں لگی نظر آتی ہیں، کچھ ہوا تو کیا یہ گنز عوام پر چلیں گی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کشمیر پر الیکشن کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرواتے۔ کیا صوبے میں عوام کے حقوق نہیں ہیں؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ ہر طرف لوگ شاہانہ طرز زندگی گزار رہے ہیں۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی۔