اسامہ کے خلاف کارروائی کے بعد پاکستانی قیادت مطمئن تھی: سابق صدر اوباما
- بدھ 18 / نومبر / 2020
- 8150
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کے قتل کرنے کے لیے کی گئی امریکی کارروائی کی خبر دینا توقع سے زیادہ آسان ثابت ہوا تھا۔ صدر آصف علی زرداری امریکا کی صورتحال کو سمجھتے تھے۔
'اے پرامس لینڈ' کے نام سے سابق امریکی صدر کی آپ بیتی منگل کے روز عوامی سطح پر سامنے آئی جس میں امریکی کمانڈوز کی کارروائی کے بارے میں انکشافات کیے گئے ہیں۔ 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ میں دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن کو امریکی کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا۔
باراک اوباما نے لکھا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ایک اتحادی ریاست میں فوجی حملے کا حکم دینا اس کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے لیکن انہوں نے پھر بھی ایسا کیا کیوں کہ وہ القاعدہ کے رہنما کے خاتمے کا موقع کھونا نہیں چاہتے تھے۔ جو کچھ ہم نے ایبٹ آباد میں اس وقت کیا کہ وہ ایک اتحادی کے خلاف جارحانہ انداز تھا۔ اس سے آپریشنل اور سفارتی مفادات کی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوسکتا تھا۔
سابق امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ان کے دو قریبی ساتھیوں نائب صدر جو بائیڈن اور سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے اس کارروائی کی مخالفت کی تھی۔ کارروائی کے بعد باراک اوباما نے متعدد امریکی رہنماؤں اور صدر پاکستان سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے فون پر بات کی۔ باراک اوباما نے لکھا کہ آصف زرداری نے واضح جذبات کا اظہار کیا اور یاد کیا کہ کس طرح القاعدہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے ان کی شریک حیات بینظیر بھٹو کو قتل کیا تھا۔
سابق امریکی صدر نے لکھا ہے کہ مجھے توقع تھی کہ پاکستان کے مشکلات میں گھرے صدر سے بات بہت مشکل ثابت ہوگی۔ انہیں پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی پر ملک میں مخالفت کا سامنا ہوگا۔ تاہم جب میں نے انہیں کال کی، انہوں نے مبارکباد اور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’چاہے جو بھی نتیجہ ہو، یہ بہت اچھی خبر ہے‘۔
بعدازاں باراک اوباما نے امریکی فوج کے سربراہ مائیک مُلین کو اپنے پاکستانی ہم منصب کو کال کرنے کے لیے کہا۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مائیک مُلین نے پاکستانی آرمی چیف کو کال کی اور بات چیت نرم انداز میں ہوئی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے درخواست کی کہ ہم جتنا جلد ممکن ہو کارروائی اور اس کے ہدف کے بارے میں وضاحت کریں تاکہ پاکستانی عوام کے ردِ عمل کو سنبھالنے میں مدد مل سکے۔
باراک اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کارروائی میں پاکستان کو شامل کرنے سے انکار کردیا تھا کیوں کہ ان کا خیال تھا پاکستان میں کچھ عناصر طالبان بلکہ شاید القاعدہ سے بھی روابط رکھتے تھے۔ جب یہ بالکل واضح ہوگیا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں روپوش ہے تو میں نے اس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔
سابق امریکی صدر نے لکھا کہ معاملے کو خفیہ رکھنے کی ضرورت نے چیلنج میں اضافہ کیا۔ اگر اسامہ بن لادن سے متعلق معمولی سا شائبہ بھی باہر آجاتا تو ہم جانتے تھے کہ موقع ضائع ہوجائے گا۔ چنانچہ آپریشن کی منصوبہ بندی کے مرحلے میں پوری وفاقی حکومت کے صرف چند افراد کو اس بارے میں علم تھا۔
انہوں نے لکھا کہ حالانکہ پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد اور افغانستان میں فوج کو اہم سپلائی کا راستہ فراہم کیا تھا۔ لیکن اسلام آباد کو اس ایکشن کے بارے میں معلومات نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد کمپاؤنڈ پاک فوج کے امریکی فوجی اکیڈمی جیسے مقام سے چند میل کے فاصلے پر تھا، جس نے اس امکان کو اجاگر کیا کہ پاکستانیوں کو کچھ بھی بتایا گیا تو وہ معلومات ہمارے ہدف تک پہنچ سکتی ہیں۔