آڈیٹر جنرل نے پی آئی اے کے سربراہ ہٹانے کی سفارش کردی

  • جمعرات 19 / نومبر / 2020
  • 8150

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک کو فوری عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

حکومتی آڈٹ  2019 میں سی ای او ارشد ملک سے وصول کیے گئے اضافی الاونسز واپس لینے کی بھی سفارش کی گئی۔  علاوہ ازیں آڈٹ پیرا میں پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔

آڈٹ پیرا کے مطابق ایئر مارشل ارشد ملک ایک ہی وقت میں ائرفورس اور پی آئی اے سے الاؤنسز وصول کرتے رہے ہیں۔  آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق سروسز رولز کے تحت ارشد ملک ائیر فورس کی ملازمت کے دوران بطور چیف ایگزیکٹو پی آئی اے کے اضافی مراعات وصول نہیں کرسکتے تھے۔

حکومتی آڈٹ پیرا 2019 میں کہا گیا کہ  سی ای او ارشد ملک نے الاونسز کی مد میں پی آئی اے سے تقریباً 30 لاکھ روپے غیر قانونی طور پر وصول کیے ۔  آڈٹ رپورٹ کے مطابق کہ پی آئی اے میں ائیرفورس سے آئے دیگر افسران نے بھی تقریباً 7 کروڑ 18 لاکھ روپے غیر قانونی الاونسز وصول کیے۔

پی آئی اے میں ڈیپوٹیشن پرارشد ملک کے علاوہ 5 ائیر کموڈور، 2 ونگ کمانڈر اور ایک فلائٹ لیفٹینینٹ پی آئی اے میں اضافی الاونسز وصول کرتےرہے ہیں۔  حکومتی رولز کے مطابق ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران صرف رہائش، بجلی کے بل اور فرنیچر کی مد میں سہولیات حاصل کرسکتے ہیں۔  اس میں انکشاف کیا گیا کہ تمام افسران پی آئی اے سے ہاؤس رینٹ لینے کے ساتھ پی اے ایف کی رہائش گاہ بھی استعمال کررہے تھے۔

آڈٹ پیرا میں کہا گیا کہ ائیر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کے وقت مطلوبہ تعیناتی کے معیار کو بھی نظر انداز کیا گیا ۔  رپورٹ کے مطابق تعیناتی کے وقت اخبار میں دیے جانے والے اشتہار میں مطلوبہ تعلیم میں بھی ارشد ملک کے لیے خصوصی رعایت پیدا کی گئی اور تعلیمی معیار سے ہٹ کر وار کورس اور ملٹری آپریشن جیسے مضامین شامل کیے گئے۔

واضح رہے کہ ایئر مارشل ارشد ملک کے خلاف ایئر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (ساسا) کے جنرل سیکریٹری صفدر انجم نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس عہدے کے لیے ایئر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ان کا ایئر لائن میں کام کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایئر مارشل ارشد ملک نے 1982 میں بی ایس سی کیا اور اس کے بعد وار اسٹیڈیز سے متعلق تعلیم حاصل کی۔ تاہم انہیں ایئر لائن انڈسٹری اور کمرشل فلائٹس سے متعلق سول ایویشن قوانین سے کچھ آگاہی نہیں ہے۔

تاہم یہاں یہ بات مدنظر رہے 21 جنوری 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے قومی ایئر لائن کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی قانون کے مطابق قرار دی تھی۔