پاکستان افغانستان میں تشدد کے خاتمہ کے لئے ہر ممکن مدد کرے گا: عمران خان
- جمعرات 19 / نومبر / 2020
- 6970
پاکستان اور افغانستان نے تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حالیہ سلسلے کو کم کرنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
افغان صدارتی محل میں وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس میں افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کے عزم کیا گیا۔ اپنے پہلے دورہ افغانستان کے موقع پر پریس کانفرنس میں عمران خان نے سب سے پہلے صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کیا اور کہا آپ نے مجھے کابل کا دورہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستانیوں کے لیے کابل پسندیدہ جگہ تھی جبکہ افغانوں کے لیے پشاور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تاریخی تعلقات ہیں، میں نے ایسے وقت میں جب افغانستان میں تشدد بڑھ رہا ہے، دورے کا خیال اس لیے کیا کیونکہ پاکستانی حکومت اور پاکستان کے لوگ افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے لوگ 4 دہائیوں سے ان حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی ضرورت ہے اور یہاں امن کے لیے پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد اب بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ تاہم ہم نے یہ نوٹس کیا ہے کہ قطر میں مذاکرات کے باوجود تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔
ایسے وقت میں میرا افغانستان آنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یقین دلا سکیں کہ جو ممکن ہوا پاکستان وہ کرے گا اور ہم اس تشدد کو کم کرنے اور جنگ بندی کی طرف لانے میں مدد کریں گے۔ ہم نے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کمیٹیوں کے قیام کا مقصد ہمارے اور ہماری سیکیورٹی ایجنسیز کے درمیان روابط کو یقینی بنانا ہے۔ آپ کو جب بھی یہ محسوس ہو کہ پاکستان، تشدد کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو بھی ہمارے دائرہ کار میں ہوا، ہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس پورے دورے کا مقصد اعتماد بحال کرنا، روابط بڑھانا اور اس بات کا یقین دلانا کہ ہم آپ کی توقعات سے بڑھ کر مدد کریں گے۔ قبل ازیں افغان صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے دورے پر وزیراعظم کا شکرگزار ہوں جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون علاقائی ترقی کے لیے ناگریز ہے۔