مسلم اقوام کا اصل المیہ ؟

فرد ہو یا قوم جو خود کو تیس مار خاں یا میاں مٹھو سمجھتا ہے، دنیا میں ہولا گردانا جاتا ہے۔ عصر حاضر میں اصلاح احوال کیلئے خود احتسابی اور حقیقت پسندی سے آگے کوئی نسخہ کیمیا نہیں ہے۔

یہاں المیہ یہ ہے کہ جس کو پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہا ہے اور جسے سننا چاہیے وہ بول رہا ہے، خودنمائی و خود ستائی ہماری ہڈیوں میں گھسی ہوئی ہے اوپر بیٹھے شخص سے لے کر درجہ چہارم کے ملازم تک سب شیخی و تعلی سے لتھڑے پڑے ہیں، النَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مَلَوْکِھُمْ۔

مجھے کسی چیز کی کمی نہ تھی میرے پاس اتنا کچھ تھا کہ میں آرام سے عیش و عشرت کی زندگی گزار سکتا تھا میں یہ تھا میں وہ تھا میں میں میں۔۔۔۔ “ بھلے مانس کیا آپ کے سامعین سارے کے سارے جاہل اجڈ یا احمق ہیں۔ کیا کسی کو اتنی سمجھ بھی نہیں ہے کہ ہوس حکمرانی یا اقتدار کے لالچ میں لوگ پاگل ہو جاتے ہیں، اپنی جانوں پر کھیل جاتے ہیں ، اپنے کنبوں کو مروا لیتے ہیں لیکن چودھراہٹ، پھوں پھاں یا نمبرداری کیلئے ان کی بڑھی ہوئی خواہش کسی پل ان کا نچلا بیٹھنے نہیں دیتی، جس کو شوق حکمرنی کا نشہ لگ جائے یا اس کی لت پڑ جائے،و ہ دیگر جتنے مرضی نشے کر لے، اس کی خواہش نفسانی کی تسکین ہو نہیں پاتی۔ اس نے میکیاولی کی ’’دی پرنس‘‘ کا مطالعہ کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن اس کی جبلی بیماری سے نمودار ہونے والی یہ ہوس، تمام اخلاقی و انسانی تقاضے تک بھلا دیتی ہے۔

کرسی اقتدار تک پہنچنے یا اسے قائم دائم رکھنے کے لئے انسانی لاشوں پر سے گزرنا پڑے تب بھی کوئی شرم و حیا نہیں آتی۔ اس کی بدترین مثال ہمیں لچھے دار تقاریر کرنے والے ہوس کے مارے جرمن بھیڑیے ایڈولف ہٹلر کی زندگی اور بائیس سالہ جدوجہد کے مطالعہ سے مل جاتی ہے جس نے جرمن قوم کی عظمت کے گیت سنواتے ہوئے انہیں کیسے کیسے سہانے سپنے دکھائے اپنی تقاریر میں ناقابل عمل وعدے کیے۔ ترقی و خوشحالی کے جھوٹے خواب دکھائے، اپنے سیاسی مخالفین پر ہر نوع کے گھٹیا الزامات لگائے اور پھر جرمن قوم کو مفلسی و نفرت وبربادی کی دلدل میں پھینک کر غائب ہو گیا۔ ایک اچیومنٹ البتہ ضرور ہوئی اس ’’عظیم‘‘ لیڈرکے سینے میں جرمنی کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچنے اور اس پر براجمان رہنے کے لئے جو آگ لگی ہوئی تھی، اس بددماغ اور جنونی شخص کی وہ حسرت جاہ یا ہوس حکمرانی ضرور پوری ہو گئی۔ دنیا میں صرف ایک ہٹلر نہیں آیا ہے۔ ہر دورمیں اس ذہنیت کے لوگ پیدا ہوتے اور اپنی اپنی اقوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔

ہم مسلمان بھی ماشاء اللہ اس فیلڈ میں بانجھ ہیں نہ کسی قوم سے پیچھے، ہمارے دور کمال میں ایک شخص گزرا ہے۔ حجاج بن یوسف جس نے سندھ فتح کرنے کیلئے اپنے بھتیجے اور داماد محمد بن قاسم کو ہندوستان پر حملہ آور ہونے کیلئے بھیجا تھا۔ بظاہر یہ شخص اتنا نیک حکمران تھا کہ قرآنی حروف پر اعراب لگوانا اس کا اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ غیر عرب اقوام کیلئے اس نے قرآن کی قرأت ممکن بنا دی۔ حافظہ و ناظرہ کو سہل بنا دیا۔ خانہ کعبہ کی ازسر نوع تعمیر بھی اس کا بہت بڑا کریڈٹ ہے حالانکہ عبداللہ بن زبیر کی بغاوت کو کچلنے کیلئے اس کی کامل تخریب بھی اسی کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ مگر وہ اصل مقتدر قوت یعنی اموی خلفاء کا اتنا بڑا وفادار تھا کہ ان کی خوشنودی کی خاطر ہر انتہا تک پہنچنے کیلئے آمادہ و تیار رہتا تھا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ہمارا موجودہ کعبۃ اللہ کاملاً اس ہستی کا تعمیر کردہ ہے۔ اس کے بعدمختلف ادوار میں کبھی ہیوی اور کبھی ہلکی مرمتیں ضرور ہوئیں۔ بالخصوص عثمانیوں کے ادوار میں مگر کامل تعمیر کو کسی نے نہیں چھیڑا۔ عباسیوں کے دور میں یہ مسئلہ اٹھا کہ ابن زبیر نے کعبے کی تعمیر خواہش پیغمبر ؐ کی تعمیل میں زمینی سطح پر دو دروازے لگواتے ہوئے کی تھی، ہارون الرشید نے امام مالک سے اس کی اجازت طلب کی مگر امام صاحب نے فرمایا کہ نہیں اس طرح تو ہر ملوک اپنی دھاک بٹھانے یا شان منوانے کیلئے کعبۃ اللہ کو تختہ مشق بنائے رکھے گا۔ حطیم نہیں بھی ہے تو کیا ہوا اب جو بن چکا سو بن چکا۔

اسی حجاج بن یوسف نے اصل طاقتوروں کی کٹھ پتلی بن کر شرفاء کی ایسی ایسی تذلیل کی، اتنا خون خرابہ کیا کہ مابعد عمر بن عبدالعزیز جیسے نیک دل اموی خلیفہ کو یہ کہنا پڑا کہ ’’اگر دنیا بھرکی اقوام میں خبائث کا مقابلہ ہوتو ہم مسلمان اکیلے حجاج کو سامنے لا کر یہ دنگل جیت جائیں گے‘‘۔ درویش کی نظروں میں مسلم اقوام کا روز اول سے المیہ یہ رہا ہے کہ ان کے پاس کوئی پائیدار و مستحکم سیاسی نظام نہیں تھا وامر ہم شوریٰ بینھم کی تلقین ضرور موجود تھی مگر اس نوع کی مشاورت بدترین آمریت یا بادشاہت میں بھی کی جاتی رہی ہے۔ مسلم خلیفہ کو امراء کی مشاورت مسترد کرنے کا اختیار پوری 14 صدیوں کے ہر دورمیں حاصل رہا ہے۔ آج بھی جہاں اس نوع کی حکومتیں یا بادشاہتیں قائم ہیں وہاں مشاورت باضابطہ منعقد ہوتی ہے مگر اس کی بندش لازم خیال نہیں کی جاتی ہے۔

عصر حاضر کے بدلتے تقاضوں کی مناسبت سے لازم ہے کہ مسلم اقوام میں اس حوالے سے کھلے مذاکرے و مباحثے منعقد کروائے جائیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان اقوام کی صدیوں پر محیط طویل تاریخ میں کبھی جمہوریت پنپ سکی اور نہ پرامن انتقال اقتدار کی روایت جڑ پکڑ سکی؟ مگر افسوس یہاں آزادی اظہار مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ آج اکیسویں صدی میں بھی یہ مظلوم اور بدنصیب اقوام جبر کے کسی نہ کسی مرئی و غیر مرئی شکنجے میں جکڑی ہوئی ہیں۔ کوئی سیاستدان یا کسی پریشر گروپ کا ان دانا جتنا بڑا کٹھ پتلی یاحجاج بننے کیلئے آمادہ و تیار ہو جاتا ہے، اسی قدر یا حصہ بقدر حبثہ نمائشی اقتدار طشتری میں رکھ کر اسے پیش کر دیا جاتا ہے۔ لو بیٹا مزے کرو اور اپنے نام کا ڈنکا بجاؤ۔ جب اسے ہوش آتا ہے اور بیگانی بیساکھیوں کی بجائے وہ اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہونا چاہتاہے تو اسے عوامی نظروں میں گرانے کیلئے کون کون سے حربے اور الزامات ہیں جو استعمال نہیں کئے جاتے۔ یوں دیس، دنیا یا سیاست نکالا اس کی قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے اور اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے کوئی دوسری کٹھ پتلی تلاش کر لی جاتی ہے۔

درویش کی تمنا و حسرت ہے کہ دنیا کی دیگر مہذب جمہوری اقوام کی طرح ہماری مسلم اقوام بھی اقوام عالم میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لئے اپنے عوام اور ان کی اراء کو عزت و حرمت بخشیں۔ منتخب پارلیمنٹ کو آئین و قانون کی ماں تسلیم کرتے ہوئے اسے نہ صرف ماؤں جیسا تقدس بخشا جائے بلکہ اصل مقتدر و بالا دست ادارے کی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے دیگر تمام عسکری و سویلین ادارے اس کی عظمت کے سامنے سرنڈر و سرنگوں ہو جائیں۔ یہ آئیڈیل صورتحال تب تک ممکن نہیں ہے جب تک ہر مسلم سماج میں حریت فکر اور آزادی اظہار کو انسانیت کی اعلیٰ ترین قدر تسلیم کرتے ہوئے اس کی بالفعل توقیر نہیں کی جاتی اور عظمت انسانی کے ابدی اصول پر ایمان نہیں لایا جاتا۔