ڈرون حملوں کا حکم دے کر کبھی خوشی محسوس نہیں کی: سابق صدر باراک اوباما
- ہفتہ 21 / نومبر / 2020
- 5870
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ انہیں اپنے دور میں ڈرون حملوں کا حکم دینے میں خوشی نہیں ہوتی تھی۔ ان حملوں میں ہزاروں جانوں کا ضیاع ہؤا لیکن دہشت گردی کے بارے مین نرم رویہ اختیار کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔
باراک اوباما نے 17 نومبر کو شائع ہونے والی اپنی نئی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’اے پرومسڈ لینڈ‘ میں ڈرون حملوں میں معصوم جانوں کے ضیاع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ باراک اوباما نے دعوی کیا کہ ان کے پہلے چیف آف اسٹاف دہشت گردوں کی فہرست کے حوالے سے ’جنونی‘ تھے۔ ’راحم ایمانوئل نے واشنگٹن میں یہ جاننے کے لیے کافی وقت گزارا کہ ان کا نیا اور آزاد خیال صدر دہشت گردی کے خلاف نرم گوشے کا متحمل نہیں ہے‘۔
سابق صدر نے کہا کہ یمن، افغانستان، پاکستان اور عراق جیسی جگہوں پر لاکھوں نوجوان مایوسی، جہالت، شاندار مذہبی دور کا خواب دیکھنے والے پرتشدد اسکیموں کی وجہ سے تنگ آچکے ہیں۔ یہ نوجوان اکثر دانستہ اور لاشعوری طور پر ظالمانہ کارروائیوں کا حصہ بنے۔ باراک اباما نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ انہیں بچا سکوں، انہیں اسکول بھیجا جا سکے۔ انہیں تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے اور ان کے دماغ سے نفرت کو نکلا جا سکے۔
باراک اوباما نے لکھا ہے کہ اس کے باوجود وہ دنیا کا حصہ تھے اور جس مشینری (ڈرون) کا میں نے حکم دیا تھا اس میں اکثر ہلاکت ہوجایا کرتی تھی۔ میں نے کبھی بھی خوشی محسوس نہیں کی اور نہ ہی کبھی خود کو طاقتور محسوس کیا۔ میں بچوں کی بہتر تعلیم، صحت کی سہولیات فراہم کرنے، غریب ممالک کو زیادہ سے زیادہ خوراک کے حصول کے لیے مدد کی نیت سے سیاست میں داخل ہوا تھا۔
تاہم ان کا کہنا ہے لیکن دہشت گردی کا خاتمہ ضروری تھا۔ یہ میری ذمہ داری تھی کہ ہم یہ یقینی بنائیں کہ ہمارے آپریشن زیادہ سے زیادہ موثر ہوں۔ ملک کی قومی سلامتی کے اداروں کو ’جنگ کی نئی شکلیں‘ تیار کرنے کا چیلینج دیا گیا تھا کیونکہ القاعدہ منتشر ہو کر زیر زمین چلی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ القاعدہ زیرزمین چلی گئی تھی اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے ہمدردوں، آپریٹوز اور سلیپر سیلز سے رابطہ قائم کرنے کا پیچیدہ نظام بنا چکی تھی۔ لہذا ہماری قومی سلامتی کے اداروں کو چیلنج تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہدف طے کریں۔ غیر روایتی جنگ کی نئی شکلیں تیار کریں جس میں پاکستان کے علاقے میں القاعدہ کے سرگرم کارکنوں کو نکالنے کے لیے مہلک ڈرونز بھی شامل تھے۔
پاکستان کی نومبر 2018 میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جنوری 2004 سے اس وقت تک 4 سو 9 ڈرون حملے ہوئے جن میں 2 ہزار 7 سو 14 افراد ہلاک اور 7 سو 28 افراد زخمی ہوئے تھے۔ نیکٹا کے مطابق زیادہ تر حملے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت (2012-2008) میں ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت (2018-2013) کے درمیان 65 ڈرون حملے ہوئے جن میں 301 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے۔