پی ڈی ایم کا جلسہ ہر صورت ہوگا: فضل الرحمٰن
- ہفتہ 21 / نومبر / 2020
- 4950
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکمرانوں کو ’کورونا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز حکمران بذات خود بڑا کورونا ہیں اور جب حکومت کو کوئی دوسرا بہانہ نہیں ملا تو کہہ دیا کہ کورونا وبا کا خطرہ ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ کل پشاور کا تاریخی جلسہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت مخالف اپوزیشن جماعت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہوچکا ہے۔ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم کورونا 19 کے ساتھ کورونا 18 کی بھی بات کرتے ہیں‘۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے واضح کیا کہ عوام کے ووٹ چوری کرنے والوں کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ پی ڈی ایم کے جھنڈے کے نیچے ملک میں ناجائز اور ناخلف حکومت کے خلاف حکومت مخالف تحریک جو بن پر ہے اور جو امانت قوم سے چھینی گئی وہ واپس لینا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اسٹیٹ بینک کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ 1992 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی شرح نمو 0.4 پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو لاڑکانہ اور 30 نومبر کو ملتان میں بھی جلسہ کریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ معاشی بحران ہی ریاست کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ وہ ادارے جو ملک کے دفاع کے ضامن ہیں اور اس ناجائز اور نااہل حکومت کی پشت پناہی کرتے ہیں، وہ ریاست کی بقا کا حق ادا نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ ریاست کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام، فوج، سول بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ کو ایک پیج پر لڑنا چاہیے۔ یہ تقسیم عجیب ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور ہم اس نااہل حکومت کو سپورٹ کررہے ہیں۔ اس سے بڑی نااہلی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ اب ہمیں پاکستان کے ٹرمپ کو بھی باہر نکالنا ہے پھر بھارت کا ٹرمپ رہ جائے گا، وہ ادھر کے عوام جانیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قوم کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
خیال رہے کہ پشاور کی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافے باعث پاکستان ٹیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) خیبر پختونخوا کے انفارمیشن سیکریٹری جلیل جان نے 22 نومبر کو دلازک روڈ پر جلسے کی اجازت مانگی تھی۔
تاہم ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) پشاور کے دفتر سے جاری خط میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس میں مسسلسل اضافہ ہورہا ہے اور پشاور میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی ہے جبکہ عوامی اجتماع کے باعث کورونا مزید پھیل سکتا ہے۔