پی ڈی ایم لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے: عمران خان
- ہفتہ 21 / نومبر / 2020
- 4010
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے وہ اراکین جو پہلے سخت لاک ڈاؤن کے حامی تھے اور مجھ پر تنقید کرتے تھے وہ اب غیر ذمہ دارانہ سیاست سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ایک ٹوئٹ پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ ’پی ڈی ایم کے وہ اراکین جو پہلے سخت ترین بندشیں چاہتے تھے اور مجھ پر طنز و تنقید کے نشتر چلایا کرتے تھے آج لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر نہایت عاقبت نا اندیشانہ سیاست کر رہے ہیں۔ کیفیت یہ ہے کہ عدالتی احکامات ہوا میں اڑا کر کیسز میں نہایت تیز اضافے کے باوجود یہ جلسے پر مصر ہیں‘۔
قبل ازیں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا تھا کہ پشاور میں گزشتہ روز کورونا وائرس کی مثبت شرح 13.39 فیصد تھی۔ 202 مریض نگہداشت میں ہیں جبکہ 18 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ اسد عمر کے مطابق صرف گزشتہ روز 14 نئے مریض تشویشناک حالت میں سامنے آئے ہیں۔ تاہم پی ڈی ایم کا اس پر یہ ردعمل ہے کہ ’ہم اسٹیج پر محفوظ ہوں گے تو شہریوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کی پرواہ کسے ہے‘۔
انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آزاد کشمیر میں 2 ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے 4 اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا ہے۔ لیکن دونوں جماعتوں کا اصرار ہے کہ پشاور جلسہ ضرور ہوگا۔ دوغلے پن کی اس سے واضح مثال نہیں مل سکتی‘۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ ٹوئٹ کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے پشاور میں جلسہ کرنے کے اعلان کے بعد ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے 22 نومبر کو پشاور میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم پشاور کی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافے کے باعث پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) پشاور کے دفتر سے جاری خط میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس میں مسسلسل اضافہ ہورہا ہے اور پشاور میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی ہے جبکہ عوامی اجتماع کے باعث کورونا مزید پھیل سکتا ہے۔ کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے باعث جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے ترجمان اختیار ولی نے پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہ دینے کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان اور محمود خان نے کس کی اجازت سے سوات، مہمند اور باجوڑ میں جلسے کیے تھے؟ انہوں نے کہا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت سے اجازت لینے کی اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں، پی ڈی ایم جلسے کی تیاری مکمل ہے اور جلسہ ہر صورت ہوگا۔
یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور یومیہ کیسز اور اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے 2 ہزار 843 کیسز اور 42 اموات کا اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 71 ہزار 508 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 7 ہزار 603 ہے۔