علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

  • ہفتہ 21 / نومبر / 2020
  • 8060

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے  علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں ادا کی گئی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی نے پڑھائی۔

نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ خادم حسین رضوی کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا۔ نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظام کیے گئے تھے۔ لاہور ٹریفک پولیس افسر کے مطابق 5 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور 36 انسپکٹر شہر میں ٹریفک کے انتظامات کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

نماز کے ادائیگی کے بعد جسد خاکی کو لاہور کے مختلف راستوں نیازی شہید انٹرچینج، بند رود، بابو سابو انٹرچینج سے جلوس کی صورت میں لے جایا گیا۔ انہیں  یتیم خانہ چوک کے قریب مسجد و مدرسہ رحمت الالعالمین کے احاطے میں سپردخاک کیا جائے گا۔ خادم حسین رضوی اسی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔

جنازے کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ کچھ افراد کی جانب سے موبائل فون کے سگنل میں دشواری کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔ 19 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی 54 برس کی عمر میں لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ ٹی ایل پی کے ترجمان حمزہ نے بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور گزشہ چند دنوں سے بخار تھا۔

خادم حسین رضوی کے سوگواران میں دو بیٹے، تین بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔ نماز جنازہ کے موقع پر ٹی ایل پی کے نئے امیر کا بھی اعلان کردیا گیا اور خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔ جنازے میں شریک تحریک لبیک یارسول کے سربراہ آصف اشرف جلالی نے ڈان کو بتایا کہ سعد حسین رضوی کو ٹی ایل پی کا نیا امیر بنایا گیا ہے۔

ٹی ایل پی کارکنان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے لیے ان کا متبادل تلاش کرنا مشکل ہوسکتا ہے جلد ہی پارٹی شوریٰ کا اجلاس ہوگا جس میں موجودہ نائب سید ظہرالاسلام حسن یا ان کے دونوں بیٹوں میں سے کسی ایک کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ تاہم کارکنان کے مطابق ایسی شخصیت کی جگہ لینا نہ ہی ان کے جانشین اور نہ ہی جماعت کے لیے آسان ہوگا۔

ایک پارٹی کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’کارکنان اور پارٹی قیادت کو اس اچانک پہنچنے والے صدمے س نکلنے کے لیے وقت لگے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹی ایل پی ایک سیاسی نہیں مذہبی جماعت ہے۔ اس کا قائد مذہبی اور روحانی رہنما ہوتا ہے جس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔

خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو پنجاب کے ضلع اٹک میں نکہ توت میں اجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن اور شیخ الحدیث تھے اور لاہور میں داتا دربار کے قریب پیر مکی مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرتے تھے۔ وہ مشہور اسلامی اسکالر امام احمد رضا خان بریلوی کے پیروکار تھے۔