اوباما بمقابلہ اسامہ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 21 / نومبر / 2020
- 10160
امریکی صدور میں ایک خوبصورت روایت یہ چلی آ رہی ہے کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داری سے فارغ ہونے کے بعد بالعموم اپنی یادداشتیں کتابی صورت میں قوم اور دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس سے جہاں انہیں مالی فائدہ پہنچتا ہے وہیں تبصروں اور تجزیوں کے ذریعے حقائق کے بہت سے خفیہ گوشے عامۃ الناس کے سامنے آتے ہیں۔
یوں ماضی سے مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے یہ تفصیلات ذہن سازی یا بہتر تفہیم میں معاونت کرتی ہیں اس بہتری میں صدارتی مدت دو دورانیوں یا ٹرمز تک محدود رکھنے کی سوچ کا اعجاز و فیضان بھی ہے۔جس طرح ایک وقت میں مڈل ایسٹ کے ایشوز عالمی مباحثوں میں چھائے ہوئے تھے۔ بلاشبہ ان کی اہمیت آج بھی ہے مگر تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں اس وقت جنوبی ایشیا اور اس سے ملحق خطے بوجوہ انٹرنیشنل ریلیشن میں نمایاں تر ہیں۔ اس خطے میں چین، انڈیا اور روس جیسی طاقتوں کے علاوہ مسلم شدت پسندی کی اپروچ بھی کم اہم نہیں ہے۔ بالخصوص افغانستان، ایران اور پاکستان اس حوالے سے عالمی تجزیوں میں نمایاں رہتے ہیں۔
امریکی صدر باراک حسین اوباما کی کتاب ’دی پرامسڈ لینڈ‘
حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اس کی کوئی 5 ملین کاپیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی بڑھتی ہوئی فراوانی کے باوجود مغرب میں کتاب بینی کا ذوق کس قدر ہے جو اتنی ضخیم (750 صفحات پر محیط) کتابوں کو پڑھتے ہوئے بوجھل نہیں ہوتے۔ مغرب کی دوسری خوبی مختلف النوع تعصبات سے چھٹکارے کی ہے۔ نائن الیون کے بعد جس طرح کی فضا میں صدر باراک اوباما ایک پاپولر صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے اس میں اسامہ اور اس کے عقائد و نظریات و حرکات امریکیوں کیلئے خوف کاسمبل بنے ہوئے تھے۔ اسامہ کی طرح اوباما کا بھی ایک مسلم پس منظر تھا مگر وہ پاپولر ووٹ کے ساتھ نہ صرف جیتا بلکہ اپنی صدارتی ٹرمزمیں اتنا پاپولر رہا کہ اگر تیسری ٹرم کی قدغن نہ ہوتی تو وہ اس مرتبہ بھی اپنی ہردلعزیزی کا لوہا منواتا۔ دیکھا جائے تو جوبائیڈن کی حالیہ جیت کے پیچھے بھی اوباما کی پاپولر شخصیت، کارکردگی اور جدوجہد کا ہاتھ ہے۔
اوباما نے اگرچہ 2 مئی 2011 کے خطرناک آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے یہ وضاحت کی ہے کہ ان کے نائب صدر جوبائیڈن اور ڈیفنس سیکرٹری رابرٹ گیٹس اس کے حق میں نہیں تھے اور انہوں نے اس مشن سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی، شاید اسی لئے وہ اپنی کتاب 3 نومبر کے بعد منظر عام پر لائے ہیں تاکہ جوبائیڈن کی مقبولیت کو انتخابی معرکے میں نقصان نہ پہنچے۔ بہرحال انہوں نے تورا بورا کی کہانی ایبٹ آباد کی پراسرار وسیع عمارت تک خوش اسلوبی سے بیان کی ہے۔ امریکی فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ جیسے پاکستانی فوج کے مرکز سے چند کلو میٹرز کے فاصلے پر ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں امریکا کو مطلوب دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد کئی برسوں سے رہائش پذیر یارو پوش تھا۔ پاکستانی حکومت نے اگرچہ دہشت گردی کے خاتمے کی کارروائیوں میں مدد کی تھی اور افغانستان میں امریکی افواج کو اہم سپلائی کا راستہ بھی فراہم کیا تھا مگر صدر اوباما نے اسلام آباد سے اپنی معلومات شیئر نہ کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ بقول ان کے وہاں کئی ایسے طاقتور عناصر موجود ہیں جو طالبان اور شاید ا لقاعدہ سے بھی روابط رکھتے ہیں۔ اگر پاکستانیوں سے یہ معلومات کسی لیول پربھی شیئر کی جاتیں تو وہ یقیناً ہمارے ہدف تک پہنچ جاتیں اور ہمارا مشن اسی طرح ناکام ہو جاتا جس طرح امریکی سفارتی یرغمالیوں کو چھڑانے کیلئے کارٹر کا مشن ناکامی سے دوچار ہوا تھا۔
صدر باراک اوباما نے اپنی کتاب میں اس پراسرار اور خطرناک آپریشن کی پوری تفصیل دلچسپی سے بیان کی ہے۔ اپنے دونوں آپشنز کا بھی بتایا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ کامیابی کے بعد انہوں نے جن مختلف عالمی رہنماؤں کو ٹیلی فون کالز کیں، ان میں اس وقت کے پاکستانی صدر زرداری بھی شامل تھے۔ خدشہ تھا کہ ملکی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر ان کا ردعمل خاصا منفی ہو سکتا تھا لیکن مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب انہوں نے مجھے اس کامیاب آپریشن پر مبارکباد دی اور بن لادن کی ہلاکت کو خوشی کی خبر قرار دیتے ہوئے اپنے حقیقی جذبات کا اظہار کیاکہ ان دہشت گردوں نے میری شریک حیات پرائم منسٹر بینظیر بھٹو کو کس طرح قتل کیا تھا۔
امریکی فوج کے سربراہ مائیک ملین کو کہا گیا کہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل اشفاق پرویز کیانی کو کال کریں تو ان کی جو گفتگو ہوئی وہ بھی خاصی نرم انداز میں تھی بلکہ انہوں نے درخواست کی کہ آپ لوگ اپنا ہدف مکمل کرتے ہوئے تمامتر کارروائی کو جلد مکمل کریں تاکہ ہمیں پاکستان میں عوامی ردعمل کو سنبھالنے میں مدد مل سکے۔ بہرحال امریکی صدر نے سعودی شاہ عبداللہ کی مشاورت پر یا جیسے بھی یہ ہدایت کی تھی کہ دنیا کو مطلوب اس ہائی پروفائل دہشت گرد کی لاش کو سمندر کی نذر کر دیا جائے تاکہ کوئی نیا فتنہ جنم نہ لے سکے۔
اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے درویش کے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھر رہا ہے کہ پھر ڈاکٹر شکیل آفریدی کا جرم کیا تھا؟ مانا کہ ہماری ریاستی ساورنٹی کی خلاف ورزی ہوئی اور اگر ہم یہ ایشو عالمی سطح پر اٹھاتے تو ساتھ ہی اس سے کہیں بڑا پنڈورا باکس کھل جانا تھا کہ آپ لوگوں نے د نیا کو مطلوب اتنے بڑے دہشت گرد اور ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قاتل کو کس خوشی یا جواز کے تحت اپنی ناک کے نیچے پناہ دے رکھی تھی؟ اگر لاعلم تھے تو پھر اپنی صلاحیت، نااہلی اور بودے پن کا ماتم کرو اور اگر علم تھا لیکن عالمی قاتل کی پردہ پوشی کر رہے تھے تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا کہ آپ عالمی تباہی و دہشت کے سہولت کار ہی نہیں اس کا اٹوٹ حصہ ہیں۔
جب ہماری عسکری و سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی طاقت سے تعاون کرتے ہوئے اس کے اس خفیہ مشن کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے تو پھر اگر کسی نیک دل پاکستانی نے بھی انسان نوازی سے کام لیتے ہوئے وحشی قاتلوں کے خلاف تعاون کیا ہے تو اسے سزا دینا یا قید میں رکھنا کیسے بنتا ہے؟ ایسے شخص کو تو امن، سلامتی اور انسانیت کا ایوارڈ ملنا چاہیے کیونکہ وہ نامی گرامی دہشت گرد محض امریکیوں کو نہیں، خود کش حملوں کے ذریعے اس خطے کے مسلمان عوام کو بھی قتل کروا رہا تھا۔
نائن الیون اور اسامہ کے خلاف آپریشن کے کچھ عرصہ بعد پاکستان کے حالات میں اگرچہ کافی بہتری آئی ہے لیکن افغانستان میں سناریو کافی حد تک اسی ڈگر پر چل رہا ہے۔ بالخصوص ناعاقبت اندیش امریکی صدر ٹرمپ نے بشمول افغانستان مختلف خطوں کیلئے جو غیر ذمہ دارانہ پالیسی اپنائے رکھی، اس سے جہاں امریکا کے عالمی وقار پر ضرب لگی وہیں امریکا کے عالمی رول یا مثبت پہلو میں کمی آئی۔ عالمی امن کے لئے عالمی قیادت و امامت کی ذمہ داری بہرحال اپنی قیمت وصول کرتی ہے۔ اب اس کو جواز بنا کر دہائیوں کی جدوجہد اور محنت کا تیاپائنچہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایران یا کسی طرف بھی نئے محاذ کھولنے سے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ پہلے سے جو محاذ چل رہے ہیں، مطلوبہ ہدف کے حصول تک افراتفری میں اپنے کیے پر پانی نہ پھیرا جائے۔
کسی شدت پسند گروہ سے یک طرفہ معاہدے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ جب تک کہ افغان انتظامیہ کو بھی تیسرے باضابطہ فریق کی حیثیت سے مطمئن نہ کیا جاتا اور ہتھیار پھینکنے کی شرط کو منوا نہ لیا جاتا۔
اس سلسلے میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کی تشویش کو ایک مرتبہ پھر کھلی آنکھوں سے پڑھیں اور 15 جنوری کا جو بھی پلان ہے نئی امریکی انتظامیہ کو اس کا جائزہ لینے دیں۔ ویسے امریکی سسٹم میں اس نوع کا اہتمام ہونا چاہیے کہ جو صدر نومبر کے پہلے منگل کو الیکشن ہار جائے وہ 20 جنوری تک وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے جوہری نوعیت کے اقدامات نہ کر سکے۔ ان حالات میں صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت کے ساتھ پاکستان کا پورا تعاون کرنا بنتا ہے۔