فوج سیاست میں مداخلت کرے گی تو نام بھی لیا جائے گا: مولانا فضل الرحمٰن

  • اتوار 22 / نومبر / 2020
  • 6460

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ فوج دفاعی ادارہ ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن سیاست میں مداخلت ہوگی تو تنقید بھی کی جائے گی اور نام بھی لیا جائے گا۔

پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے تحت تاریخی اور فقیدالمثال کانفرنس کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے نواز شریف کی والدہ  کے انتقال پر شریف خاندان سے تعزیت کی اور سابق وزیراعظم کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اس اسٹیج سے جسٹس وقار سیٹھ اور علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر افسوس اور ان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا خیبر پختون خوا کے عوام نے اس عظیم الشان جلسے کے ذریعے دھاندلی کے تحت آنے والی حکومت کومسترد کردیا ہے۔ ہم نے پہلے ہی دن اعلان کیا تھا الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا تھا ۔ وہ آواز آج عام آدمی کی آواز بن گئی ہے اور اب پوری قوم کی متفق ہے۔ جلسوں سے حکومت اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہوئے ہیں لیکن آگے بڑھنا اور ان کے اقتدار کے قلعے کو فتح کرنا ہے اور انہیں یہاں سے ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کا اعلان ہم کر چکے ہیں۔ اب میدان جنگ ہے اور جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے۔ ہم نے چیلنج دیا ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں، ہمارا مؤقف واضح ہے: دھاندلی ہوئی ہے، دھاندلی کی گئی ہے، ہمیں دھاندلی کرنے والا بھی معلوم ہے اور وہ جو نامعلوم ہے، وہ ہم سب کو معلوم ہے۔

مولانا کا کہنا تھا کہ ہم فوج اور ادارے کا احترام کرتے ہیں۔ وہ ہمارا دفاعی ادارہ ہے اور اس حیثیت میں ہماری سر آنکھوں پر ہے۔  لیکن اگر وہ سیاسی ادارہ بننے کی کوشش کرے گا تو پھر تنقید برداشت کرنی ہوگی۔ پھر یہ مت کہیں کہ ہمارا نام نہ لیا کرو، پھر تمہارا نام بھی لیا جائے گا اور پھر تم پر تنقید بھی کی جائے گی۔ پھر آپ کے سامنے کلمہ حق بھی کہا جائے گا۔ ہم آج بھی آپ کو مہلت دیتے ہیں کہ آپ ان کی پشتی بانی سے پیچھے ہٹ جائیں۔ دستبردار ہوجائیں اور کہہ دیں کہ یہ حکومت ہماری نہیں ہے اور آپ حکومت کے خلاف  ہمارے ساتھ آواز ملائیں، پھر ہم آپ بھائی بھائی ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ آپ سیاست میں کیوں آتے ہیں، اپنے دفاع سے کام رکھیں، دفاع کا کام کریں گے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آپ دھاندلی کریں وہ جرم نہیں، ہم دھاندلی کے خلاف احتجاج کریں تو آپ ہم سے خفا ہوتے ہیں۔ میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ دو سال کے عرصے میں تم نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت گرتی ہے تو پھر وہ ریاست باقی نہیں رہ سکتی۔ ریاست کی بقا کا دار ومدار مستحکم معیشت پر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو حکومت ملی اور آپ کی حکومت کے پہلے سال ترقی کا تخمینہ ایک اعشاریہ 8 پر آیا اور دوسرے سال کے بجٹ میں صفر اعشاریہ 4 پر آگیا ہے۔  حکومت کی معاشی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا، آج ہم اس قابل نہیں ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک ہم سے تعلقات قائم کرے۔

انہوں نے کہا کہ جو حکومت سیاسی طور پر ناجائز ہے، جس کا کوئی حق اقتدار موجود نہیں، جو کارکردگی کی بنیاد پر نااہل اور پاکستان کی معاشی قاتل ہے، آج ناکام خارجہ پالیسی پر امریکا اور چین، افغانستان اور ایران بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں، بھارت پہلے ہی دشمن ہے اور تم دوسروں کو کرپٹ کہتے ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا بنیادی مقصد پاکستان کی بقا اور اس کا تحفظ ہے۔ ہم اس ملک کی حفاظت کے لیے اکٹھے ہوئے اور اس طرح کے نااہلوں سے نجات پائیں گے تو مستقل محفوظ ہوگا ورنہ ان لوگوں کی حکمرانی میں پاکستان کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔ یہ حکومت بھی ناجائز، اس کی داخلہ پالیسیاں بھی ناجائز، یہ انسانی حقوق کی بھی قاتل، یہ کشمیر کی بھی قاتل، یہ فاٹا کی بھی قاتل ہے۔ آج ہم اپنے ملک کو بچانے اور ملک کے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں نکلے ہیں اور عوام کو استقامت کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جس سفر کا آغاز کیا ہے اب وہ کافی طے ہوچکا ہے اور تھوڑا فاصلہ باقی ہے۔ استقامت کے ساتھ انشااللہ ہم اپنی منزل پر پہنچیں گے اور اس ملک کو حقیقی پاکستان بنائیں گے۔ اسلامی، جمہوری، وفاقی اور پارلیمانی پاکستان بنائیں گے۔ ہم این ایف سی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہم صوبوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت کے جانے کا وقت آگیا ہے۔ جنوری تک اس حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔  مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز جلسہ گاہ میں موجود تھیں لیکن اپنی دادی کی وفات کی خبر ملنے پر وہ سامعین سے معذرت کرکے واپس لوٹ گئیں۔