گلگت کے ایک حلقے میں غیرسرکاری نتائج پر پیپلز پارٹی کا احتجاج
- سوموار 23 / نومبر / 2020
- 7590
گلگت بلتستان اے 2 گلگت 2 کےغیر سرکاری نتائج پر پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایک سرکاری دفتر اور 4 سرکاری گاڑیوں کو آگ لگادی۔
ڈی آئی جی وقاص احمد کے مطابق احتجاج میں 20 سے 25 افراد ملوث ہیں۔ مظاہرین کے ساتھ پولیس کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ کشیدہ صورتحال کے بعد پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان سے پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سعدیہ دانش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنرحلقہ 2 سےدھاندلی کےثبوت خود غائب کر رہے ہیں۔ فرانزک نتائج آنے تک حلقہ 2 کا رزلٹ جاری نہیں ہوگا۔
سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر، پی ٹی آئی کے ایک کارکن کا کردار ادا کر رہےہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے رویے سے گلگت بلتستان میں نقصِ امن کاخدشہ ہے۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ایک اور حلقہ جی بی اے21 غذر 3 کے تمام 52 پولنگ اسٹیشنز پر پیپلزپارٹی کے امیدوار کی درخواست پر ووٹوں کی گنتی آج دوبارہ کی جا رہی ہے۔
اس دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگایا ہے کہ راجا شہباز خان شام کو کبھی ایک وزیر اور کبھی دوسرے وزیر کے گھر پر بیٹھتے ہیں۔ اس کے بعد پریس کانفرنس میں اپوزیشن کو اشتعال دلاتے ہیں۔ راجا شہباز خان کی پریس کانفرنس کے بعد گلگت بلتستان میں انتخابی حلقے کے سامنے آگ لگا کر احتجاج کا واقعہ پیش آیا۔ میں ان مظاہرین سے مکمل حمایت کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے وہاں انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کیا۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آگ لگانے والا عمل درست نہیں ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کی حالیہ پریس کانفرنس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بہت بڑی پارٹی کے رہنما ہیں، انہیں ایسی چھوٹی باتیں زیب نہیں دیتیں۔