اسرائیلی وزیر اعظم کے خفیہ دورہ سعودی عرب کی خبریں

  • سوموار 23 / نومبر / 2020
  • 6780

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ  وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اتوار کو خفیہ طور پر سعودی عرب گئے تھے۔ وہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی۔

فلائٹ ٹریکنگ ریکارڈ کے مطابق نیتن یاہو کے زیرِ استعمال رہنے والا ایک طیارہ سعودی عرب کے شہر نیوم گیا تھا۔ اس شہر میں ولی عہد محمد بن سلمان اور مائیک پومپیو نے مذاکرات کیے ہیں۔  اس حوالے سے اب تک باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

خبر درست ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ ملاقات ہوگی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں۔  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدوں میں کردار ادا کیا تھا۔  سعودی عرب نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا تھا تاہم اس نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہوجاتا، تب تک وہ سفارتی تعلقات بحال نہیں کرے گا۔

دورہ کے حوالے سے سعودی عرب یا اسرائیل کے حکام نے تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا ادارے وثوق سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔  صحافی باراک راوید نے ٹویٹ کی کہ 'ذرائع' کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم خفیہ طور پر نیوم گئے جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔  انہوں نے مزید لکھا کہ اس موقع پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ یوسی کوہِن بھی ان کے ساتھ تھے۔

باراک نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار تو کیا ہے تاہم اس خبر کی تردید بھی نہیں کی گئی۔  انہوں نے کہا  کہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ طیارہ گزشتہ روز شام پانچ بجے اڑا، بحیرہ احمر کے ساحل تک گیا اور پانچ گھنٹے بعد اس نے واپس اسرائیل کے لیے ٹیک آف کیا۔

اب تک واضح نہیں ہے کہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کریں گے۔