احتیاط نہ کی گئی تو کورونا کیسز میں شدید اضافہ ہوسکتا ہے: اسد عمر
- منگل 24 / نومبر / 2020
- 3690
وفاقی وزر منصوبہ بندی اس عمر نے کہا ہے کہ اگر ہم نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے احتیاط نہیں کی تو اگلے دو ہفتوں میں اس وبا کی شدت میں اضافہ ہوجائے گا۔
این سی او سی کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ تعلیمی ادارے دو طریقوں سے چلیں گے۔ بچوں کے ہوم ورک کا کوئی طریقہ کار بنایا جائے تاکہ گھر میں ان کی پڑھائی چلتی رہے اور اس کی تفصیلات صوبے طے کریں گے۔ ہر صوبہ اپنے حالات اور وسائل کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ جن اسکولوں کے پاس آن لائن سہولت ہے وہ آن لائن کلاسیں جاری رکھیں۔ 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی۔
اگر حالات ٹھیک رہے اور خطرناک لہر پر قابو پالیا گیا تو 11 جنوری تک اسکولوں کے کھلنے کا امکان ہے۔ این سی او سی کے اجلاس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا گیا کہ بند کمروں کے اندر کھانے پینے کے ریسٹورنٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اسکولوں کی طرح مشکل فیصلہ تھا۔
اسد عمر نے کہا کہ علمائے کرام نے رمضان کے دوران حکومت کے ساتھ تعاون کیا تھا اور اب بھی صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ علمائے کرام سے رابطہ کرکے ان کا تعاون حاصل کیا جائے۔ بدقسمتی سے بڑے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں۔ ملک میں سیاست پر پابندی نہیں لیکن ذمہ داری کی بات ہے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک اور ہمسایہ ملک بھارت میں بُری طرح سے شہریوں کا روزگار چھن گیا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ایسے حالات پیدا ہوں جہاں لوگوں کی صحت اور روزگار کے لیے خطرات پیدا ہوں۔ اگر ایسا کیا تو ہماری سیاست غرق ہوجائے گی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کورونا کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے اور امید ہے تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں گی تاکہ اس معاملہ پر اتفاق رائے ہوسکے۔
اسد عمر نے کہا کہ جس رفتار سے پچھلے تین ہفتوں سے کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے اور احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو آج سے 2 ہفتے بعد پھر اسی جگہ ہوں گے جہاں جون میں وبا کا عروج تھا۔ خدانخواستہ ہم وہاں جارہے ہیں۔
انہوں نے پاکستانیوں سے بھرپور اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، مصافحہ کرنے سے گریز کریں، ماسک پہنیں اور ہاتھ دھوتے رہیں اور دوسروں سے فاصلہ رکھیں۔